(آیت 14){ اَلَايَعْلَمُمَنْخَلَقَ …:} یہ {”عَلِيْمٌ“} ہونے کی دلیل ہے کہ جو دل کا خالق اور دل میں چھپی ہوئی چیزوں کا خالق ہے، زبان کا اور اس سے ادا ہونے والے اقوال کا خالق ہے، کیا وہ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے اسرار واقوال نہیں جانے گا؟ {”اللَّطِيْفُ“} کے مفہوم میں باریک سے باریک چیز جاننے کے ساتھ ساتھ نہایت مہربان ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی سینوں اور دلوں اور ان میں پیدا ہونے والے خیالات، سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو کیا وہ اپنی مخلوق سے بےعلم رہ سکتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ بھلا وہ نہ جانے گا جس نے (سب کو) پیدا کیا [16] ہے؟ وہ تو باریک بین [17] اور ہر چیز سے پوری طرح با خبر ہے
[16] یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص کسی چیز کو پیدا کرتا یا بناتا یا وجود میں لاتا ہے۔ جتنا وہ اس چیز سے واقف ہوتا ہے۔ دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ پھر وہ انسان کے افعال و اعمال حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادہ سے ناواقف اور بے خبر کیسے رہ سکتا ہے۔ اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا اللہ کو یہ بھی علم نہیں کہ اس نے کون کون سی چیزیں پیدا کی ہیں؟
[17] ﴿لطيف﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿لَطِيْفٌ﴾﴿لطف﴾ کے معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں، (1) رقت نظر اور (2) نرمی۔ اور ﴿لطيف﴾ کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی رقت نظر یا باریک بینی یا راز اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے آگاہی پائی جاتی ہے۔ اور کبھی دونوں باتیں پائی جاتی ہیں یعنی مخلوق کی چھوٹی چھوٹی تکالیف کا علم رکھنا اور پھر ازراہ مہربانی ان کا ازالہ کرتے رہنا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔