اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾
یقینا جو لوگ اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بڑا اجر ہے۔
En
(اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے
En
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12) {اِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ …:} پچھلی آیات میں جہنمیوں کا ذکر تھا جو نہ اپنے رب سے ڈرتے تھے نہ انھیں قیامت کا یا اپنی بداعمالیوں کی سزا کا خوف تھا، کیونکہ نہ وہ اَن دیکھی چیزوں پر ایمان لانے پر تیار تھے اور نہ ان سے ڈرنے پر۔ ان کے مقابلے میں اب ان لوگوں کا ذکرہے جو عقل سلیم کے تقاضے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور بر گزیدہ بندوں کے بتانے سے دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی گئی تو ان کے بن دیکھے ڈرتے رہنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرما دے گا اور اسی خشیت بالغیب کی وجہ سے انھوں نے جو نیکیاں کیں ان کا انھیں بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ خشیت کا معنی شدتِ خوف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نیکی کی اصل ایمان بالغیب اور خشیت بالغیب ہے اور گناہ سے بچنے کا اصل باعث بھی یہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یہ اہل کفر و تکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ عذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار [15] سے ڈرتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے
[15] ایمان بالغیب کے علاوہ کوئی بنیاد انسان کو گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے نہ اخلاق فاضلہ پیدا کر سکتی ہے :۔
اللہ سے بن دیکھے ڈرنا ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے اخلاق فاضلہ کی تعمیر اٹھتی ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس کی زندگی سنورتی ہے۔ اس بنیاد کے علاوہ جتنی بھی بنیادیں ہیں وہ سب کمزور اور نا پائیدار ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ وہ خود کسی برائی کو برائی سمجھتا ہو۔ دوسری یہ کہ لوگ اس کام کو برا سمجھتے ہوں۔ تیسری یہ کہ اس کام کے معاشرہ کے دوسرے افراد پر برے اثرات پڑتے ہوں اور چوتھے یہ کہ وہ کام حکومت کے قانون کے مطابق قابل مواخذہ برائی ہو۔ ان میں سے کوئی بھی بنیاد ایسی نہیں جو ایک انسان کو شریف اور با اخلاق بنا سکتی ہو۔ نہ لوگ اسے ہر وقت دیکھ رہے ہوتے ہیں اور نہ حکومت۔ لہٰذا جب اس کے ذاتی مفاد کا مسئلہ ہو تو انسان لوگوں کی یا قانون کی گرفت سے بچنے کی ہزاروں راہیں تلاش کر لیتا ہے۔ انسان کو اگر کوئی چیز گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے تو وہ یہی عقیدہ ہے کہ اللہ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ وہ اس کے دل کے خیالات تک سے واقف ہے۔ پھر وہ اس سے باز پرس کرنے اور سزا دینے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی خود بخود سنورنے لگتی ہے۔ چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا پھر اس کے لئے ایسے لوگوں کو جنت بھی عطا فرمائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660]
مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660]
مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں ‘، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔
بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ’ زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ‘، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں }۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔
پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ’ زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ‘، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں }۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔
پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔