تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾
بہت برکت والا ہے وہ کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس سورت کی فضیلت میں کئی روایات آتی ہیں، جن میں سے چند صحیح یا حسن احادیث درج ذیل ہیں: (1) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ سُوْرَةً مِّنَ الْقُرْآنِ ثَلاَثُوْنَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰي غُفِرَ لَهُ وَهِيَ سُوْرَةُ: «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ] [ترمذي، فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورۃ الملک: ۲۸۹۱۔ أبو داوٗد: ۱۴۰۰، و حسنہ الألباني] ”قرآن کی ایک سورت نے جس کی تیس آیات ہیں، ایک آدمی کے لیے سفارش کی یہاں تک کہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورت «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ہے۔“ (2) انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [سُوْرَةٌ مِّنَ الْقُرْآنِ مَا هِيَ إِلاَّ ثَلاَثُوْنَ آيَةً خَاصَمَتْ عَنْ صَاحِبِهَا حَتّٰي أَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ، وَهِيَ سُوْرَةُ تَبَارَكَ] [المعجم الصغیر للطبراني: 296/1، ح: ۴۹۰، وصححہ الألباني۔ صحیح الجامع الصغیر: ۳۶۴۴] ”قرآن کی ایک سورت نے، جس کی صرف تیس آیات ہیں، اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کیا یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کروا دیا اور وہ سورت {” تَبٰرَكَ “} (الملک) ہے۔“ (3) ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے نہیں تھے یہاں تک کہ «الٓمّٓ (1) تَنْزِيْلُ» اور «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» پڑھتے۔ [سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، ح: ۱۱۴۰] (4) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے نہیں تھے یہاں تک کہ «الٓمّٓ (1) تَنْزِيْلُ» اور «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» پڑھتے۔ [ترمذي، فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورۃ الملک: ۲۸۹۲، وصححہ الألباني]
(آیت 1) ➊ { تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ: ” تَبٰرَكَ “ ”بَرَكَةٌ “} سے باب تفاعل ہے۔ اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے ترجمہ ”بہت برکت والا“ کیا گیا ہے۔ {”بَرَكَةٌ“} کے معنی ہیں زیادہ ہونا، بڑھا ہونا۔ {” تَبٰرَكَ “} یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بے انتہا بڑھا ہوا ہے اور بلندی، بڑائی اور احسان، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بے حدوحساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان کی پہلی آیت کی تفسیر۔
➋ { ” بِيَدِهِ “} پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ”صرف اس کے ہاتھ میں ہے“ کیا گیا ہے۔
➌ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بادشاہ تو بہت ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرما دیا کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے؟ جواب یہ ہے کہ دنیا کا سارا نظام ایک دوسرے کی محتاجی پر چل رہا ہے، رعایا اپنی ضروریات مثلاً جان و مال، عزت و آبرو اور دین و ایمان کی حفاظت کے لیے بادشاہ کی محتاج ہے اور بادشاہ اپنے کام چلانے کے لیے رعایا کا محتاج ہے، اگر وہ اس کا ساتھ نہ دیں اور اسے ٹیکس نہ دیں تو وہ ایک لمحہ کے لیے بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ سورۂ زخرف میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے، فرمایا: «لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا» [الزخرف: ۳۲] ”تاکہ ان کا بعض بعض کو تابع بنالے۔“ ایک شاعر نے دنیوی بادشاہوں کی محتاجی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے:
مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانے میر و سلطان سب گدا
اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بادشاہ ہے یا محکوم، ایک دوسرے کے محتاج ہونے کے باوجود دونوں میں سے کسی کے بھی ہاتھ میں فی الحقیقت کچھ بھی نہیں۔ ان کی اپنی دولت و فقر، صحت و بیماری، عزت و ذلت، فتح و شکست، جوانی و بڑھاپا، نفع و نقصان اور موت و حیات، غرض سب کچھ اللہ مالک الملک کے ہاتھ میں ہے، تو پھر یہ کہنے میں کیا مبالغہ ہے کہ تمام بادشاہی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے؟ دوسرا کوئی بادشاہ ہے بھی تو نام کا ہے۔ حقیقت میں بادشاہ ایک ہی ہے، باقی سب گدا ہیں، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ» [فاطر: ۱۵] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو۔“
➍ { وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: ” شَيْءٍ “ ”شَاءَ يَشَاءُ“} کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، چاہت۔ یعنی وہ اپنی ہر چاہت اور ہر چیز پر قادر ہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں کہ جن کی بے شمار چاہتیں پوری ہونے کے بجائے حسرتیں بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو جاتی ہیں۔
(آیت 1) ➊ { تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ: ” تَبٰرَكَ “ ”بَرَكَةٌ “} سے باب تفاعل ہے۔ اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے ترجمہ ”بہت برکت والا“ کیا گیا ہے۔ {”بَرَكَةٌ“} کے معنی ہیں زیادہ ہونا، بڑھا ہونا۔ {” تَبٰرَكَ “} یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بے انتہا بڑھا ہوا ہے اور بلندی، بڑائی اور احسان، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بے حدوحساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان کی پہلی آیت کی تفسیر۔
➋ { ” بِيَدِهِ “} پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ”صرف اس کے ہاتھ میں ہے“ کیا گیا ہے۔
➌ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بادشاہ تو بہت ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرما دیا کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے؟ جواب یہ ہے کہ دنیا کا سارا نظام ایک دوسرے کی محتاجی پر چل رہا ہے، رعایا اپنی ضروریات مثلاً جان و مال، عزت و آبرو اور دین و ایمان کی حفاظت کے لیے بادشاہ کی محتاج ہے اور بادشاہ اپنے کام چلانے کے لیے رعایا کا محتاج ہے، اگر وہ اس کا ساتھ نہ دیں اور اسے ٹیکس نہ دیں تو وہ ایک لمحہ کے لیے بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ سورۂ زخرف میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے، فرمایا: «لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا» [الزخرف: ۳۲] ”تاکہ ان کا بعض بعض کو تابع بنالے۔“ ایک شاعر نے دنیوی بادشاہوں کی محتاجی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے:
مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانے میر و سلطان سب گدا
اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بادشاہ ہے یا محکوم، ایک دوسرے کے محتاج ہونے کے باوجود دونوں میں سے کسی کے بھی ہاتھ میں فی الحقیقت کچھ بھی نہیں۔ ان کی اپنی دولت و فقر، صحت و بیماری، عزت و ذلت، فتح و شکست، جوانی و بڑھاپا، نفع و نقصان اور موت و حیات، غرض سب کچھ اللہ مالک الملک کے ہاتھ میں ہے، تو پھر یہ کہنے میں کیا مبالغہ ہے کہ تمام بادشاہی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے؟ دوسرا کوئی بادشاہ ہے بھی تو نام کا ہے۔ حقیقت میں بادشاہ ایک ہی ہے، باقی سب گدا ہیں، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ» [فاطر: ۱۵] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو۔“
➍ { وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: ” شَيْءٍ “ ”شَاءَ يَشَاءُ“} کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، چاہت۔ یعنی وہ اپنی ہر چاہت اور ہر چیز پر قادر ہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں کہ جن کی بے شمار چاہتیں پوری ہونے کے بجائے حسرتیں بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو جاتی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
بہت بابرکت ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے (1) اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ [1] با برکت [2] ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت [3] ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
[1] سورۃ الملک کی فضیلت :۔
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں ایک تیس آیتوں والی سورت ہے۔ اس سورت نے ایک آدمی کی شفاعت کی تاآنکہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورت ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ (الملک) ہے۔ [ترمذی۔ ابواب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فی سورۃ الملک]
سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک سورۃ المّ تَنْزِیْلَ اور ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ پڑھ نہ لیتے۔ [ترمذي۔ ايضاً]
سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک سورۃ المّ تَنْزِیْلَ اور ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ پڑھ نہ لیتے۔ [ترمذي۔ ايضاً]
[2] ﴿تَبَارَكَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿تَبَارَكَ﴾ برکت کے معنی کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ثابت ہونا ہے (مفردات) یعنی جو کام کیا جائے اس میں متوقع زیادہ سے زیادہ فائدہ ہونے کا نام برکت ہے۔ بشرطیکہ یہ کام خیر کا پہلو رکھتا ہو اور جس چیز میں یہ خیر کا پہلو بارآور ثابت ہو وہ مبارک ہے۔ اور تبرک کا لفظ اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور صرف ان خیر کے کاموں کے لیے آتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں۔ اس آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر ایک چیز کو جس بہتر مقصد کے لیے پیدا فرمایا تھا وہ چونکہ بدرجہ اتم وہ مقصد پورا کر رہی ہے لہٰذا اللہ کی ذات تبارک یعنی با برکت ہوئی۔
[3] ﴿الْمُلْكُ﴾ یعنی کائنات کی ہر چیز پر مکمل بادشاہت، حکومت اور اختیار۔ اور ایسی قدرت کہ کوئی چیز بھی اللہ کے حکم کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔
[3] ﴿الْمُلْكُ﴾ یعنی کائنات کی ہر چیز پر مکمل بادشاہت، حکومت اور اختیار۔ اور ایسی قدرت کہ کوئی چیز بھی اللہ کے حکم کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ’ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ‘۔
پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔
جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ }۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔
جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ }۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔
اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔
اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔