کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنھوںنے اس سے پہلے کفر کیا، پھر اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
En
کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے
(آیت 5) ➊ { اَلَمْيَاْتِكُمْنَبَؤُاالَّذِيْنَكَفَرُوْامِنْقَبْلُفَذَاقُوْاوَبَالَاَمْرِهِمْ:} یعنی اگر تم اپنے اس خالق پر ایمان نہ لائے اور اس کے ساتھ کفر پر ڈٹے رہے جو ان صفات کا مالک ہے اور جس کی طرف تمھیں واپس جانا ہے، تو کیا تمھیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنھوں نے اس سے پہلے اپنے خالق و مالک کے علاوہ اس کے رسولوں اور آخرت کا بھی انکار کیا، مثلاً قوم نوح، عاد و ثمود اور آل فرعون وغیرہ جو مال و دولت اور قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ (دیکھیے روم: ۹) قریش مکہ کا گزر اکثر شام اور یمن کی طرف سفر میں ان کی برباد شدہ بستیوں پرہوتا تھا اورعرب میں ان کے واقعات مشہور تھے۔ ➋ { فَذَاقُوْاوَبَالَاَمْرِهِمْوَلَهُمْعَذَابٌاَلِيْمٌ:} یعنی انھوں نے دنیا ہی میں اپنے کفر اور سرکشی کا وبال چکھ لیا، مگر یہ ان کی پوری اور اصل سزا نہ تھی بلکہ یہ صرف دنیا میں ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا جو دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے دکھایا گیا تھا، جس سے تمھیں بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اصل سزا کے طور پر ان کے لیے نہایت درد ناک عذاب تیار ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔ 5۔ 2 یہ اشارہ ہے اس عذاب کی طرف جو دنیا میں انہیں ملا اور آخرت میں بھی انہیں ملے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تھا پھر انہوں نے اپنے کام کا مزا چکھ [10] لیا۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[10] ’ان لوگوں‘ سے مراد وہ سابقہ اقوام ہیں جن پر اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب آیا تھا۔ اور یہ سزا نہ تو ان کی اصل سزا تھی اور نہ پوری سزا تھی۔ یہ عذاب تو انہیں محض اس لئے چکھایا گیا تھا کہ آئندہ جرائم سے باز آجائیں اور مظلوم ان کے مظالم سے نجات پا جائیں۔ اس لحاظ سے دنیا کا یہ عذاب محض ایک مجرم کی گرفتاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ رہی اصل اور پوری سزا تو وہ انہیں آخرت میں ملے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے ‘۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔