ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ ۚ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾
اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور اس نے تمھاری صورتیں بنائیں تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ En
اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں۔ اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے
En
اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو عدل وحکمت سے پیدا کیا، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:} حق سے مراد یہاں حکمت و مصلحت ہے اور ان کی پیدائش کی بے شمار حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی ا للہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا فرما دیں جو انسان کی بقا کے لیے ضروری تھیں اور انھیں انسان کی خدمت پر مامور کر دیا، جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۹] وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا۔ مزید دیکھیے سورۂ زمر (۵)۔
➋ { وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ:} اللہ تعالیٰ نے جو چیز پیدا فرمائی اچھی پیدا فرمائی۔ (دیکھیے سجدہ: ۷) یہاں فرمایا کہ اس نے تمھاری صورت بنائی تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں۔ (دیکھیے مومن: ۶۴۔ انفطار: ۶ تا ۸) دوسری جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو (اچھی ہی نہیں بلکہ) سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ» ‏‏‏‏ [التین: ۴] بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔ ظاہری شکل و صورت میں بھی اور ذہنی اور عقلی استعداد کے لحاظ سے بھی انسان کو بہترین بناوٹ عطا ہوئی ہے، کسی دوسری مخلوق میں ایسی عقلی استعداد نہیں ہے۔ کوئی انسان کتنا بھی بدصورت ہو، کبھی نہیں چاہے گا کہ اسے کسی اور مخلوق کی شکل میں تبدیل کر دیا جائے، خواہ وہ کتنی خوبصورت ہو۔
➌ { وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ:} یعنی ساری کائنات کی پیدائش خصوصاً انسان کو اتنی بہترین بناوٹ میں پیدا کرنا بے مقصد نہیں بلکہ تمھاری آزمائش کے لیے ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ‏‏‏‏ [ہود: ۷] تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اس کے لیے تمھیں مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر اس کی طرف واپس جانا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 اور وہ عدل و حکمت یہی ہے کہ محسن کو احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی جزا دے، چناچہ وہ اس عدل کا مکمل اہتمام قیامت والے دن فرمائے گا۔ 3۔ 2 تمہاری شکل وصورت، قدو قامت اور خدوخال نہایت خوبصورت بنائے۔ جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔ 3۔ 2 کسی اور کی طرف نہیں، کہ اللہ کے محاسبے اور مؤاخذے سے بچاؤ ہوجائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو حقیقی مصلحت سے پیدا [5] کیا اور تمہاری صورتیں [6] بنائیں تو بہت عمدہ [7] بنائیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا [8] ہے
[5] وہ حقیقی مصلحت یہ تھی کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا کر دیں جو انسان کی زندگی اور زندگی کی بقا کے لئے ضروری تھیں۔ تمام اشیاء کو انسان کا خادم بنا دیا اور وہ تمام چیزیں انسان ہی کی خدمت پر مامور ہیں۔
[6] انسان میں دوسری مخلوق سے کیا کیا صفات زائد ہیں؟
یعنی انسان کو سیدھا کھڑا ہو کر دو پاؤں پر چلنے والی مخلوق بنایا۔ اسے بولنے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے اور جواب دینے کی قوتیں عطا فرمائیں۔ پھر اس کو یہ عقل و شعور بھی بخشا کہ وہ تمام مخلوق سے اپنے حسب ضرورت کام لے سکے، انہیں اپنا مطیع و منقاد بنا سکے اور ان پر حکومت کر سکے۔ اور یہ صفات انسان کے علاوہ اور کسی مخلوق کو عطا نہیں کی گئیں۔ اس کے اعضاء کی ساخت بھی ایسی بنائی کہ ایک ایک عضو سے وہ کئی کئی کام لے سکتا ہے۔ اور اپنی عقل اور اعضاء سے کام لے کر ایک طرف تو کائنات کی تسخیر کیے چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف نت نئی ایجادات کو وجود میں لاتا رہتا ہے۔
[7] یعنی انسان کا ڈیزائن بھی عمدہ بنایا پھر اس کی صورت بھی بہت خوب بنائی۔ یہ نہیں کیا کہ کسی انسان کی ایک آنکھ بڑی ہو اور دوسری چھوٹی یا ایک آنکھ کالی ہو دوسری نیلی یا ایک نتھنا بڑا ہو اور دوسرا چھوٹا یا ایک ہاتھ لمبا ہو اور دوسرا چھوٹا۔ جس سے انسان بد صورت ہی نہیں بلکہ خوفناک اور ڈراؤنا بھی معلوم ہونے لگے۔ پھر اتنی ہمہ گیر یکسانیت کے باوجود ہر ایک کی شکل اور نقش و نگار الگ الگ بنائے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی ناک یا اس کی آنکھیں پیچھے گردن پر یا پیٹھ کو لگا دیتا تو اندازہ کر لیجئے کہ انسان کتنی بد صورت مخلوق ہوتا۔
[8] اللہ کا اس کائنات کو بنانا۔ اس کا مربوط انتظام کرنا۔ اس کے بعد انسان جیسی اشرف المخلوقات اور احسن تقویم والی مخلوق کو پیدا کرنا پھر اس میں لگاتار زندگی اور موت کا سلسلہ جاری کرنا۔ یہ سب کام تو تم دیکھ ہی رہے ہو۔ پھر کیا مرنے کے بعد اسے تمہیں اپنے پاس حاضر کر لینا ہی مشکل بن جائے گا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔