ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 2

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲﴾
وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور تم میں سے کوئی ایمان دار ہے اور اللہ اسے جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے ۔ En
وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے
En
اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے سو تم میں سے بعضے تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ {هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ:} یعنی اتنی صفات کے مالک ہی نے تمھیں پیدا کیا اور دوسری مخلوقات کی طرح تمھیں بھی ہر بات میں اپنے تکوینی حکم کا پابند کر دینے کے بجائے ایمان و کفر دونوں راستے واضح فرما کر تمھیں ان میں سے کسی ایک پر چلنے کا اختیار بخشا۔ اب حق تو یہ تھا کہ تم اپنے پیدا کرنے والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر ایمان لاتے، مگر اس کے بجائے تم دو گروہوں میں بٹ گئے۔ چنانچہ تم میں سے کچھ کفر کرنے والے ہیں اور کچھ ایمان لانے والے۔ اب یہ خیال مت کرنا کہ تمھارے اس کفرپر تم سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی، یا ایمان لانے پر کوئی جزا نہیں ملے گی، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح دیکھنے والا ہے، وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق سزا یا جزا دے گا۔ یہاں { فَمِنْكُمْ كَافِرٌ } کا ذکر پہلے اس لیے فرمایا کہ مقصود ناراضی کا اظہار ہے کہ اتنی صفات کے مالک اور اپنے خالق کے ساتھ بھی تم میں سے کئی کفر کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ کفر کرنے والے زیادہ ہیں۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۸۹۔ سبا: ۲۰) اس آیت میں وہی بات بیان ہوئی ہے جو تفصیل کے ساتھ سورہ دہر کی ان آیات میں ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا (2) اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا (3) اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِيْرًا (4) اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا» ‏‏‏‏ [الدہر: ۲ تا ۵] بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ نا شکرا۔یقینا ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔بلاشبہ نیک لوگ ایسے جام سے پییں گے جس میں کافور ملا ہوا ہو گا۔
➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ خلق کے وقت کوئی کافر نہیں ہوتا، بلکہ پیدا ہوتے وقت ہر انسان فطرت پر ہوتا ہے، پھر بعد میں کفر اختیار کرتاہے یا ایمان پر قائم رہتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۳۰ تا ۳۲) کی تفسیر۔
➌ یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام لوگوں کی دو ہی قسمیں ہیں، یا تو مومن ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یوم آخرت پر اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں یا پھر کافر ہیں، تیسری کوئی قسم نہیں جو نہ مومن ہوں نہ کافر۔ مومن گناہ کرے تو اس کی وجہ سے اسے ایمان سے خارج یا کافر قرار نہیں دیاجائے گا اور نہ ہی یہ کہا جائے گا کہ یہ نہ مومن ہے نہ کافر، بلکہ وہ ناقص ایمان والا مومن ہے اور اسے اس وقت تک مومن ہی کہا جائے گا جب تک وہ ان چیزوں پر ایمان رکھتا ہے جن کا دین ہونا سب کو معلوم ہے۔ اگر وہ ان میں سے کسی چیز کا انکار کرے یا ایسا کام کرے جو مرتد ہونے کی علامت ہے تو پھر وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے [3] اور کوئی مومن، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب [4] دیکھتا ہے
[3] اس آیت کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پیدا تو تمہیں اللہ نے کیا ہے پھر کوئی تو یہ بات تسلیم کر لیتا ہے کہ واقعی ہمارا خالق اللہ ہے اور کوئی یہ بات بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ سرے سے اللہ کی ہستی کا انکار کر دیتا ہے کہ ہم تو زمانہ کی گردش کے تحت پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ نے انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا تھا۔ کہ وہ بھی اللہ کی باقی تمام مخلوق کی طرح اس کا مطیع و منقاد بن کر رہے۔ لیکن کچھ لوگ تو اس فطرت سلیمہ پر قائم رہتے ہیں اور کچھ ماحول سے متاثر ہو کر کفر کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں اور اس مطلب کی توثیق اس ارشاد نبوی سے ہو جاتی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ: ”(انسان کا) ہر بچہ فطرت (سلیمہ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی (وغیرہ) بنا دیتے ہیں“ [بخاری۔ کتاب القدر۔ باب جف القلم علیٰ علم اللّٰہ۔۔]
اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو قوت ارادہ و اختیار اور عقل و تمیز دے کر پیدا کیا تھا۔ اب جو شخص ان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا غلط استعمال کرتا ہے۔ وہ کفر کی راہ پر جا پڑتا ہے اور جو صحیح استعمال کرتا ہے۔ وہی مومن ہوتا ہے۔
[4] صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ اس کی تمہیں جزا یا سزا بھی دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اگر کسی مومن نے کوئی نیک کام کیا تھا تو اس میں خلوص نیت کا کتنا حصہ تھا۔ اسی کے مطابق وہ اس کی جزا میں کمی یا اضافہ بھی کرے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6-8]‏‏‏‏ ’ اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» ۱؎ [40-غافر:64]‏‏‏‏، ’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں ‘۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔