ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 1
یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ لَہُ الۡمُلۡکُ وَ لَہُ الۡحَمۡدُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱﴾
اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لامتناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
(تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وه ہر ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 1) ➊ { يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ حدید (۱) اور سورۂ حشر (ا) کی تفسیر۔ { يُسَبِّحُ } (مضارع) کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ جمعہ کی پہلی آیت کی تفسیر اور تسبیح کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۴۴) کی تفسیر۔
➋ { لَهُ الْمُلْكُ } کے لیے دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر اور { وَ لَهُ الْحَمْدُ } کے لیے دیکھیے سورۂ فاتحہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
➌ فرمایا آسمان و زمین میں جو بھی چیز ہے وہ زبان قال و حال سے شہادت دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر کمی سے پاک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات خلق، قدرت اور علم وغیرہ اور ان کے مظاہر بیان فرمائے جن سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید، تسبیح، قیامت اور رسالت کا حق ہونا ثابت ہوتا ہے، پھر کفار کے قیامت اور رسولوں کے انکار کا ردّ فرمایا اور انھیں اللہ، اس کے رسول اور اس پر نازل کردہ وحی پر ایمان لانے کا حکم دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

تمام چیزیں) (1) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے (2) اور وہ ہر ہر چیز پر قادر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

[1] آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق موجود ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی بادشاہی [2] ہے اور اسی کے لیے تمام تر تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
[1] اس بات میں مفسرین میں خاصا اختلاف ہے۔ اکثر اسے مدنی سورت قرار دیتے ہیں۔ اور بعض مکی کہتے ہیں۔ اس سورۃ کے ابتدائی مضامین مکی سورتوں سے پوری مشابہت رکھتے ہیں۔ اس اختلاف میں بہتر صورت یہی معلوم ہوتی ہے کہ آیت نمبر 14 سے 18 تک کی پانچ آخری آیات تو مدنی ہیں اور ابتدائی 13 آیات مکی ہیں۔
[2] یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا تو پھر اس سے بے تعلق نہیں ہو گیا۔ جیسا کہ قدیم فلاسفہ کا نظریہ تھا۔ بلکہ ہر آن اس پر حکومت بھی کر رہا ہے۔ اور جس چیز کی تخلیق سے جو مقصد درکار تھا اسے اس کام پر لگا دیا ہے اور اس سے مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کی وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6-8]‏‏‏‏ ’ اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» ۱؎ [40-غافر:64]‏‏‏‏، ’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں ‘۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔