یَقُوۡلُوۡنَ لَئِنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ لَیُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡہَا الۡاَذَلَّ ؕ وَ لِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ٪﴿۸﴾
وہ کہتے ہیں یقینا اگر ہم مدینہ واپس گئے توجو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورایمان والوںکے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔
En
کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے
En
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت واﻻ وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) ➊ {يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ:} جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [كُنَّا فِيْ غَزَاةٍ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِيْ جَيْشٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُهَاجِرِيْنَ رَجُلاً مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِيْنَ فَسَمِعَ ذٰلِكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوٰی جَاهِلِيَّةٍ؟ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ رَجُلاً مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ دَعُوْهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ، فَسَمِعَ بِذٰلِكَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أُبَيٍّ فَقَالَ فَعَلُوْهَا؟ أَمَا وَاللّٰهِ! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! دَعْنِيْ أَضْرِبْ عُنُقَ هٰذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ حِيْنَ قَدِمُوا الْمَدِيْنَةَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِيْنَ كَثُرُوْا بَعْدُ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «سواء علیھم أستغفرت لھم» : ۴۹۰۵] ”ایک بار ہم ایک لشکر میں تھے تو ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری کو اس کے پیچھے کی جانب لات مار دی۔“ تو انصاری نے کہا: ”او انصاریو!“ اور مہاجر نے کہا: ”او مہاجرو!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ”جاہلیت کی اس پکار کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کے پیچھے کی جانب لات مار دی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس (جاہلیت کی پکار) کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ بہت بدبو دار ہے۔“ یہ بات عبداللہ بن اُبی نے سنی تو کہنے لگا: ”انھوں نے ایسا کیا ہے؟ یاد رکھو! اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو اس سے ضرور نکال باہر کرے گا۔“ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رہنے دو، لوگ یہ بات نہ کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ اور انصار مہاجرین سے زیادہ تھے جب وہ مدینہ میں آئے، پھر بعد میں مہاجرین زیادہ ہوگئے۔“
➋ { وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی یہ منافقین جو کہہ رہے ہیں کہ زیادہ عزت والا ذلیل تر کو نکال باہر کرے گا، تو انھیں معلوم نہیں کہ زیادہ عزت والا بلکہ ساری عزت کا مالک کون ہے۔ سو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزت کا اصل مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، پھر وہ ہے جسے وہ عزت عطا فرمائے۔ (دیکھیے نساء: ۱۳۹۔ آل عمران: ۲۶) اور اس نے عزت اپنے رسول اور مومن بندوں کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ سو یہ سوچ لیں کہ اگر عزت والے نے ذلیل تر کو مدینہ سے نکالنے کا ارادہ کر لیا تو اس فیصلے کی زد بھی انھی منافقین پر پڑے گی، مگر ان جاہلوں کو علم ہی نہیں۔
➌ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے جو حدیث اوپر نقل کی گئی ہے، ترمذی میں اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: [فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ: وَاللّٰهِ! لاَ تَنْقَلِبُ حَتّٰی تُقِرَّ أَنَّكَ الذَّلِيْلُ وَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْعَزِيْزُ فَفَعَلَ] [ترمذي، تفسیر القرآن، سورۃ المنافقون: ۳۳۱۵، وقال الألباني صحیح] ”تو اس (عبداللہ بن اُبی) کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم واپس نہیں جاؤ گے حتیٰ کہ اقرار کرو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عزیز ہیں۔“ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔“
➋ { وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی یہ منافقین جو کہہ رہے ہیں کہ زیادہ عزت والا ذلیل تر کو نکال باہر کرے گا، تو انھیں معلوم نہیں کہ زیادہ عزت والا بلکہ ساری عزت کا مالک کون ہے۔ سو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزت کا اصل مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، پھر وہ ہے جسے وہ عزت عطا فرمائے۔ (دیکھیے نساء: ۱۳۹۔ آل عمران: ۲۶) اور اس نے عزت اپنے رسول اور مومن بندوں کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ سو یہ سوچ لیں کہ اگر عزت والے نے ذلیل تر کو مدینہ سے نکالنے کا ارادہ کر لیا تو اس فیصلے کی زد بھی انھی منافقین پر پڑے گی، مگر ان جاہلوں کو علم ہی نہیں۔
➌ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے جو حدیث اوپر نقل کی گئی ہے، ترمذی میں اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: [فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ: وَاللّٰهِ! لاَ تَنْقَلِبُ حَتّٰی تُقِرَّ أَنَّكَ الذَّلِيْلُ وَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْعَزِيْزُ فَفَعَلَ] [ترمذي، تفسیر القرآن، سورۃ المنافقون: ۳۳۱۵، وقال الألباني صحیح] ”تو اس (عبداللہ بن اُبی) کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم واپس نہیں جاؤ گے حتیٰ کہ اقرار کرو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عزیز ہیں۔“ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 اس کا کہنے والا رئیس المنافق عبد اللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذ باللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان۔ 8۔ 2 یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت و غلبہ عطا فرمادے۔ 8۔ 3 اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ کہتے ہیں: اگر ہم مدینہ واپس گئے تو (وہاں کا) عزیز تر آدمی، ذلیل تر آدمی کو نکال باہر [13] کرے گا حالانکہ تمام تر عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے لیکن منافق یہ بات جانتے نہیں۔
[13] عبد اللہ بن ابی کو جھوٹ بولنے کی کیا سزا ملی؟
جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جرائم سے انکار کرنے کی سزا اس منافق کو ایک تو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کے نفاق اور کذب کا بھانڈا پھوڑ دیا اور اسے رسوا کیا۔ اور دوسری سزا یہ ملی کہ خود اس کا بیٹا عبد اللہ جو سچا مومن تھا۔ مدینہ کے دروازہ پر تلوار سونت کر کھڑا ہو گیا۔ اور اپنے باپ کی راہ روک کر کہنے لگا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں تم مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ معزز ترین تو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ذلیل ترین تم ہو۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے جہاں بیٹا باپ کا راستہ روکے کھڑا تھا، آپ نے از راہ کرم عبد اللہ بن ابی کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ تب جا کر بیٹے نے باپ کا راستہ چھوڑا۔ اس وقت اس منافق کو یہ بات معلوم ہوئی جسے وہ نہیں جانتا تھا کہ تمام تر عزت تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے لیے ہے اور ان کے مقابلہ میں وہی ذلیل ترین آدمی ہے۔ جب سیدنا عمرؓ نے عبد اللہ بن ابی کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کی اجازت نہ دی اور اس کی وجہ محض شماتت اعداء تھی۔ ورنہ اس کے جرائم اس قابل تھے کہ اسے قتل کر کے اس مجسم فتنہ سے زمین کو پاک کر دیا جاتا اور صحابہ میں ایسی چہ میگوئیاں ہونے بھی لگیں تو عبد اللہ بن ابی کے بیٹے سیدنا عبد اللہؓ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ میرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو مجھے حکم فرمائیے میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔ اگر اسے کسی اور نے قتل کیا تو مبادا میری رگ حمیت بھڑک اٹھے“ [ابن هشام، 12: 290 تا 292]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔