ہُمُ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰی مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنۡفَضُّوۡا ؕ وَ لِلّٰہِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۷﴾
یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے ۔
En
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے
En
یہی وه ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وه ادھر ادھر ہو جائیں اور آسمان وزمین کے کل خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7) ➊ {هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ …:} اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں ان منافقین کے فسق کے نمونے کے طور پر ان کے کچھ گستاخانہ جملے ذکر فرمائے ہیں، جن سے ان کی اسلام اور مسلمانوں سے شدید نفرت اور دلی بغض کا اظہار ہو رہا ہے۔ گویا بتایا جا رہا ہے کہ یہ ہے ان کا بدترین فسق جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور جس کی وجہ سے ان کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيْهِ شِدَّةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰی يَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلٰی عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِيْنَهُ مَا فَعَلَ، قَالُوْا كَذَبَ زَيْدٌ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ فِيْ نَفْسِيْ مِمَّا قَالُوْا شِدَّةٌ، حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيْقِيْ فِيْ: «اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ» فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ فَلَوَّوْا رُؤُوْسَهُمْ وَقَوْلُهُ: «خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ» قَالَ كَانُوْا رِجَالاً أَجْمَلَ شَيْءٍ] [بخاري، التفسیر، باب: «و إذا رأیتہم تعجبک أجسامہم…» : ۴۹۰۳] ”ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اس سفر میں لوگوں کو بہت سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا تو عبداللہ بن اُبی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کے گرد سے منتشر ہو جائیں۔“ اور اس نے کہا: ”اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو اس میں سے ضرور نکال باہر کرے گا۔“ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبی کی طرف پیغام بھیج کر اسے بلایا اور اس سے یہ بات پوچھی تو اس نے بہت پکی قسم کھا کر کہا کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔ لوگوں نے کہا: ”زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ کہا ہے۔“ تو میرے دل میں ان کی بات سے بہت تکلیف پہنچی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے {” اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ “} میں میری تصدیق نازل فرما دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا، تاکہ ان کے لیے استغفار کریں تو انھوں نے اپنے سر پھیر لیے۔“ اور (زید رضی اللہ عنہ نے) اللہ کے فرمان {” خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ “} کے متعلق فرمایا: ”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے۔“
➋ { وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …: ” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور کوئی نہیں۔ منافقین نے خود تو کیا خرچ کرنا تھا، وہ تو پرلے درجے کے حریص اور بخیل تھے، وہ مخلص مسلمانوں کو بھی مہاجرین پر خرچ کرنے سے روک رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ اگر وہ ان پر خرچ نہیں کریں گے تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔ حالانکہ سارے خزانوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، وہ جس طرح چاہے انھیں رزق دے سکتا ہے، مگر یہ منافقین کی بے سمجھی ہے کہ وہ مہاجرین کا رزق اپنے ہاتھ میں سمجھ رہے ہیں، اس لیے یہاں {” لَا يَفْقَهُوْنَ “} کا لفظ فرمایا کہ ایسا سمجھنے والا بے سمجھ ہے۔
➋ { وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …: ” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور کوئی نہیں۔ منافقین نے خود تو کیا خرچ کرنا تھا، وہ تو پرلے درجے کے حریص اور بخیل تھے، وہ مخلص مسلمانوں کو بھی مہاجرین پر خرچ کرنے سے روک رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ اگر وہ ان پر خرچ نہیں کریں گے تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔ حالانکہ سارے خزانوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، وہ جس طرح چاہے انھیں رزق دے سکتا ہے، مگر یہ منافقین کی بے سمجھی ہے کہ وہ مہاجرین کا رزق اپنے ہاتھ میں سمجھ رہے ہیں، اس لیے یہاں {” لَا يَفْقَهُوْنَ “} کا لفظ فرمایا کہ ایسا سمجھنے والا بے سمجھ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 مطلب یہ کہ مہاجرین کا رازق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے رزق کے خزانے اسی کے پاس ہیں، وہ جس کو جتنا چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے۔ 7۔ 2 منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ انصار اگر مہاجرین کی طرف دست تعاون دراز نہ کریں تو وہ بھوکے مرجائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں [12] پر خرچ نہ کرو تا آنکہ وہ تتر بتر ہو جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ کے پاس ہیں مگر منافق لوگ سمجھتے نہیں۔
[12] ہجرت سے پہلے مدینہ میں عبد اللہ بن ابی کی حیثیت :۔
آیت نمبر 7 اور 8 کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ان کا تاریخی پس منظر سمجھنا ضروری ہے جو یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان کی آمد سے پہلے مدینہ کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج اسے اپنا بادشاہ تسلیم کرنے پر تیار ہو چکے تھے اور اس کے لیے سنہری تاج بھی تیار کرالیا گیا تھا۔ وہ خود قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا۔ اوس اور خزرج اپنی باہمی جنگوں سے بہت تنگ آئے ہوئے تھے اور غالباً عبد اللہ بن ابی ہی وہ پہلا شخص تھا جس کی سربراہی کو دونوں قبائل نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کی رسم تاجپوشی ادا ہونے ہی والی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے آئے اور جب تمام لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو گئے تو عبد اللہ بن ابی کا سارا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا اور جو لوگ عبد اللہ بن ابی کی بادشاہت کے دوران بڑے بڑے مناصب کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ عبد اللہ بن ابی کے اور ان کے اسلام لانے کے بعد بھی وہ لوگ اس کے دمساز و ہمراز رہے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام تو لے آئے مگر بادشاہت اور مناصب کے چھن جانے کی وجہ سے عداوت کی چنگاری ان کے دلوں میں برقرار رہی۔
عبد اللہ بن ابی کے اسلام لانے کی وجوہ :۔
عبد اللہ بن ابی کے ان حالات میں اسلام لانے کی مجبوریاں تین تھیں ایک یہ کہ بدر کی فتح نے عرب بھر میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی تھی۔ عبد اللہ بن ابی بھی ایسے موقع شناس لوگوں میں سے تھا۔ جو چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ مدینہ میں اگرچہ یہود و مشرکین بھی آباد تھے مگر بااثر مسلمان ہی تھے تیسرے یہ کہ عبد اللہ بن ابی کا اپنا بیٹا، اس کا نام بھی عبد اللہ ہی تھا، مسلمان ہو چکا تھا اور وہ سچا مسلمان تھا۔ اسلام لانے کے باوجود ان لوگوں کے دلوں میں عداوت کی چنگاری انہیں ہر موقع پر اسلام کے خلاف مشتعل کرتی رہی۔ جنگ بدر سے پیشتر مشرکین مکہ نے عبد اللہ بن ابی کو ہی اپنا ساتھی سمجھ کر یہ پیغام بھیجا تھا کہ ”تم لوگوں نے ہمارے صاحب کو پناہ دے رکھی ہے۔ واللہ! یا تو تم اس سے لڑائی کرو اور اسے نکال باہر کرو، ورنہ ہم پوری جمعیت کے ساتھ تم لوگوں پر حملہ کر کے مردوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کی حرمت پامال کر ڈالیں گے“ [ابوداؤد۔ كتاب الجهاد۔ باب خبر النضير]
یہ خط دراصل عبد اللہ بن ابی کے دل کی آواز تھا۔ اس خط سے اسے بڑا سہارا مل گیا اور اس نے اپنے رفقاء کو اپنے پاس اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان حالات کی اطلاع ہوئی تو آپ اس کے ہاں خود تشریف لائے اور فرمایا کیا تم اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے خود ہی لڑو گے؟ عبد اللہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اس کے اپنے بہت سے قریبی رشتہ دار مسلمان ہیں لہٰذا اس کی کامیابی ناممکن ہے لہٰذا وہ لہو کے گھونٹ پی کے رہ گیا اور اس کے ساتھی بھی بکھر گئے۔ جنگ بدر کے دوران یہود اور عبد اللہ بن ابی کی پارٹی نے مسلمانوں کی شکست کی غلط سلط خبریں پھیلا کر مدینہ کی فضا کو خاصا سنسنی خیز بنا دیا تھا۔ پھر جب مسلمانوں کی شاندار فتح کی خبر آگئی۔ تو ان لوگوں کے قلب و جگر چھلنی ہو گئے۔ جنگ احد میں عین وقت پر جس طرح عبد اللہ بن ابی نے غداری کی اس کا حال پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 121 کے حواشی میں گزر چکا ہے۔
یہ خط دراصل عبد اللہ بن ابی کے دل کی آواز تھا۔ اس خط سے اسے بڑا سہارا مل گیا اور اس نے اپنے رفقاء کو اپنے پاس اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان حالات کی اطلاع ہوئی تو آپ اس کے ہاں خود تشریف لائے اور فرمایا کیا تم اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے خود ہی لڑو گے؟ عبد اللہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اس کے اپنے بہت سے قریبی رشتہ دار مسلمان ہیں لہٰذا اس کی کامیابی ناممکن ہے لہٰذا وہ لہو کے گھونٹ پی کے رہ گیا اور اس کے ساتھی بھی بکھر گئے۔ جنگ بدر کے دوران یہود اور عبد اللہ بن ابی کی پارٹی نے مسلمانوں کی شکست کی غلط سلط خبریں پھیلا کر مدینہ کی فضا کو خاصا سنسنی خیز بنا دیا تھا۔ پھر جب مسلمانوں کی شاندار فتح کی خبر آگئی۔ تو ان لوگوں کے قلب و جگر چھلنی ہو گئے۔ جنگ احد میں عین وقت پر جس طرح عبد اللہ بن ابی نے غداری کی اس کا حال پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 121 کے حواشی میں گزر چکا ہے۔
اسلام لانے کے بعد عبد اللہ بن ابی کا مسلمانوں سے منافقانہ رویہ :۔
جب یہود بنو قینقاع کو قید کر لیا گیا۔ تو عبد اللہ بن ابی نے پر زور سفارش کر کے انہیں آزادی دلائی اور وہ جلا وطن کئے گئے۔ جنگ بنو نضیر میں اس نے جس طرح یہودیوں کے حوصلے بڑھائے اس کا حال سورۃ حشر میں گزر چکا ہے اور جنگ احزاب میں منافقوں نے جس عدم تعاون کا مظاہرہ کیا اور جس طرح مسلمانوں کو ہی طعنے دینے شروع کئے تھے اس کا حال سورۃ احزاب میں گزر چکا ہے۔ گویا عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں رہتے اور اپنی منافقانہ سرگرمیاں دکھاتے تھے جن سے اسلام و مسلمانوں کو زک پہنچے۔ مسلمان مدینہ سے نکل جائیں یا ان کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے تاکہ عبد اللہ بن ابی کو اپنی کھوئی ہوئی بادشاہت پھر سے نصیب ہو جائے۔
غزوہ بنی مصطلق میں مہاجرین و انصار میں لڑائی اور عبد اللہ بن ابی کا انصار کو بھڑکانا :۔
غزوہ بنی مصطلق جنگی لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ تاہم اس غزوہ میں دو واقعات ایسے پیش آئے۔ جنہوں نے اس غزوہ کو مشہور بنا دیا ہے۔ اور یہ دونوں واقعات منافقوں اور بالخصوص عبد اللہ بن ابی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں واقعات نہیں بلکہ فتنے تھے۔ جنہیں برپا کرنے والا یہی عبد اللہ تھا۔ ایک تو واقعہ افک ہے۔ جو واپسی کے دوران پیش آیا تھا اور اس کا تفصیلی ذکر سورۃ نور میں گزر چکا ہے۔ دوسرا واقعہ اسی مقام پر ہوا جہاں مسلمانوں نے اس مشرک قبیلے کو شکست دی تھی۔ اور شکست دینے کے بعد چند دن آرام کے لیے رک گئے تھے۔ وہاں ایک کنوئیں پر پانی لینے کے سلسلہ میں سیدنا عمرؓ کے خادم جہجاہ بن قیس اور ایک انصاری کے درمیان کچھ تو تو، میں میں ہونے لگی۔ یہ واقعہ بخاری میں ان الفاظ میں مذکور ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری فرماتے ہیں کہ ہم ایک لڑائی پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ایک مہاجر (جہجاہ بن قیس) نے ایک انصاری (سنان بن وبرہ جہنی) کو ایک لات جمائی (جو اس کے سرین پر لگی) انصاری نے فریاد کی: اے انصار! دوڑو۔ اور مہاجر نے فریاد کی: اے مہاجرین دوڑو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آوازیں سنیں تو وہاں پہنچ کر فرمایا: ”یہ کیا دور جاہلیت کی سی باتیں کرنے لگے ہو؟“ وہ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کے لات ماری تھی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی باتیں چھوڑ دو۔ یہ گندی باتیں ہیں“ [بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب ماینھی من دعوۃ الجاھلیۃ۔ مسلم۔ کتاب البروالصلۃ۔ باب نصر الاخ ظالما او مظلوما]
جب عبد اللہ بن ابی نے یہ بات سنی تو (انصار سے) کہنے لگا: ”یہ سب کچھ تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔ اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت والا سردار ذلت والے کو وہاں سے باہر نکال دے گا“ جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو سیدنا عمرؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس منافق کی گردن اڑانے کی اجازت دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ لوگ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے لگے ہیں“ مہاجر لوگ جب ہجرت کر کے مدینہ آئے اس وقت تھوڑے سے تھے اور انصار بہت تھے۔ مگر بعد میں مہاجرین بھی بہت ہو گئے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
جب عبد اللہ بن ابی نے یہ بات سنی تو (انصار سے) کہنے لگا: ”یہ سب کچھ تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔ اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت والا سردار ذلت والے کو وہاں سے باہر نکال دے گا“ جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو سیدنا عمرؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس منافق کی گردن اڑانے کی اجازت دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ لوگ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے لگے ہیں“ مہاجر لوگ جب ہجرت کر کے مدینہ آئے اس وقت تھوڑے سے تھے اور انصار بہت تھے۔ مگر بعد میں مہاجرین بھی بہت ہو گئے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
عبد اللہ بن ابی کی بکواس اور بعد میں قسم اٹھا کر انکار کرنا :۔
سیدنا زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لڑائی (غزوہ تبوک) میں عبد اللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا: اے انصار! پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو لوگ (مہاجرین) ہیں ان کو خرچ کے لیے کچھ نہ دو۔ وہ خود ہی پیغمبر کو چھوڑ کر تتر بتر ہو جائیں گے۔ اور اگر ہم اس لڑائی سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والا (یعنی وہ خود) ذلت والے (یعنی پیغمبر) کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے عبد اللہ بن ابی کی یہ گفتگو اپنے چچا (سعد بن عبادہ) یا سیدنا عمرؓ سے بیان کی اور انہوں نے آپ کو یہ بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا تو وہ قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے ایسا نہیں کہا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا سمجھا اور اسے سچا سمجھا۔ مجھے اس بات کا اتنا دکھ ہوا جتنا کبھی کسی اور بات سے نہ ہوا تھا۔ میں گھر میں بیٹھ رہا۔ مجھے میرے چچا نے کہا: ارے تو نے یہ کیا کیا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جھوٹا سمجھا اور تجھ سے ناراض ہوئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ﴿اِذَا جَاءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ﴾ تا آخر۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا۔ سورۃ منافقون پڑھ کر سنائی اور فرمایا: ”زید! تجھے اللہ نے سچا کیا“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اس موقعہ پر عبد اللہ بن ابی نے انصار کو خوب اشتعال دلایا۔ کہنے لگا کہ: ”یہ مہاجر لوگ ہمارے علاقہ میں آ کر ہمارے ہی حریف بن گئے ہیں۔ ان پر تو یہ مثال صادق آتی ہے کہ کتے کو پال کر موٹا تازہ کرو تاکہ وہ تمہیں ہی پھاڑ کھائے۔ بخدا مدینہ واپس جا کر ہم میں معزز ترین آدمی (یعنی عبد اللہ بن ابی) وہاں کے ذلیل ترین آدمی (یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال باہر کرے گا۔“ پھر کہنے لگا کہ یہ مصیبت تمہاری اپنی ہی پیدا کردہ ہے۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں اتارا، اپنے اموال بانٹ دیئے اور یہ دلیر ہو گئے۔ اب بھی اس کا یہی علاج ہے کہ ان لوگوں کو دینا بند کر دو۔ یہ خود ہی یہاں سے چلتے بنیں گے۔
اس موقعہ پر عبد اللہ بن ابی نے انصار کو خوب اشتعال دلایا۔ کہنے لگا کہ: ”یہ مہاجر لوگ ہمارے علاقہ میں آ کر ہمارے ہی حریف بن گئے ہیں۔ ان پر تو یہ مثال صادق آتی ہے کہ کتے کو پال کر موٹا تازہ کرو تاکہ وہ تمہیں ہی پھاڑ کھائے۔ بخدا مدینہ واپس جا کر ہم میں معزز ترین آدمی (یعنی عبد اللہ بن ابی) وہاں کے ذلیل ترین آدمی (یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال باہر کرے گا۔“ پھر کہنے لگا کہ یہ مصیبت تمہاری اپنی ہی پیدا کردہ ہے۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں اتارا، اپنے اموال بانٹ دیئے اور یہ دلیر ہو گئے۔ اب بھی اس کا یہی علاج ہے کہ ان لوگوں کو دینا بند کر دو۔ یہ خود ہی یہاں سے چلتے بنیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عبداللہ بن ابی۔رئیس المنافقین ٭٭
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول اپنی قوم کا بڑا اور شریف شخص تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھتے تھے تو یہ کھڑا ہو جاتا تھا اور کہتا، تھا لوگو! یہ ہیں اللہ کے رسول جو تم میں موجود ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارا کرام کیا اور تمہیں عزت دی اب تم پر فرض ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرو اور آپ کی عزت و تکریم کرو آپ کا فرمان سنو اور جو فرمائیں بجا لاؤ یہ کہہ کر بیٹھ جایا کرتا تھا۔
احد کے میدان میں اس کا نفاق کھل گیا اور یہ وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی نافرمانی کر کے تہائی لشکر کو لے کر مدینہ کو واپس لوٹ آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے فارغ ہوئے اور مدینہ میں مع الخیر تشریف لائے جمعہ کا دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو حسب عادت یہ آج بھی کھڑا ہوا اور کہنا چاہتا ہی تھا کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ادھر ادھر سے کھڑے ہو گئے اور اس کے کپڑے پکڑ کر کہنے لگے، دشمن اللہ بیٹھ جا، تو اب یہ کہنے کا منہ نہیں رکھتا، تو نے جو کچھ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں، اب تو اس کا اہل نہیں کہ زبان سے جو جی میں آئے بک دے۔
یہ ناراض ہو کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا باہر نکل گیا اور کہتا جاتا تھا کہ گویا میں کسی بدیات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا میں تو اس کا کام اور مضبوط کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا جو چند اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین مجھ پر اچھل کر آ گئے مجھے گھسیٹنے لگے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے گویا کہ میں کسی بڑی بات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا حالانکہ میری نیت یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تائید کروں انہوں نے کہا خیر اب تم واپس چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے اللہ سے بخشش چاہیں گے اس نے کہا مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:69/3:مرسل]
احد کے میدان میں اس کا نفاق کھل گیا اور یہ وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی نافرمانی کر کے تہائی لشکر کو لے کر مدینہ کو واپس لوٹ آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے فارغ ہوئے اور مدینہ میں مع الخیر تشریف لائے جمعہ کا دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو حسب عادت یہ آج بھی کھڑا ہوا اور کہنا چاہتا ہی تھا کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ادھر ادھر سے کھڑے ہو گئے اور اس کے کپڑے پکڑ کر کہنے لگے، دشمن اللہ بیٹھ جا، تو اب یہ کہنے کا منہ نہیں رکھتا، تو نے جو کچھ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں، اب تو اس کا اہل نہیں کہ زبان سے جو جی میں آئے بک دے۔
یہ ناراض ہو کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا باہر نکل گیا اور کہتا جاتا تھا کہ گویا میں کسی بدیات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا میں تو اس کا کام اور مضبوط کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا جو چند اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین مجھ پر اچھل کر آ گئے مجھے گھسیٹنے لگے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے گویا کہ میں کسی بڑی بات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا حالانکہ میری نیت یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تائید کروں انہوں نے کہا خیر اب تم واپس چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے اللہ سے بخشش چاہیں گے اس نے کہا مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:69/3:مرسل]
قتادہ رحمہ اللہ اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے واقعہ یہ تھا کہ اسی کی قوم کے ایک نوجوان مسلمان نے اس کی ایسی ہی چند بری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوایا تو یہ صاف انکار کر گیا اور قسمیں کھا گیا، انصاریوں نے صحابی کو ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے جھوٹا سمجھا اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس منافق کی جھوٹی قسموں اور اس نوجوان صحابی کی سچائی کا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ اب اس سے کہا گیا کہ تو چل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرا تو اس نے انکار کے لہجے میں سر ہلا دیا اور نہ گیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34160:مرسل]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جس منزل میں اترتے وہاں سے کوچ نہ کرتے جب تک نماز نہ پڑھ لیں، غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عبداللہ بن ابی کہہ رہا ہے کہ ہم عزت والے ان ذلت والوں کو مدینہ پہنچ کر نکال دیں گے پس آپ نے آخری دن میں اترنے سے پہلے ہی کوچ کر دیا۔
اسے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اپنی خطا کی معافی اللہ سے طلب کر اس کا بیان اس آیت میں ہے، اس کی اسناد سعید بن جبیر تک صحیح ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے اس میں نظر ہے بلکہ یہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول تو اس غزوہ میں تھا ہی نہیں بلکہ لشکر کی ایک جماعت کو لے کر یہ تو لوٹ گیا تھا۔
کتب سیر و مغازی کے مصنفین میں تو یہ مشہور ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنو المصطلق کا ہے چنانچہ اس قصہ میں محمد بن حییٰ بن حبان اور عبداللہ بن ابوبکر اور عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ اس لڑائی کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جگہ قیام تھا، وہاں جھجاہ بن سعید غفاری اور سنان بن یزید کا پانی کے ازدہام پر کچھ جھگڑا ہو گیا، جھجاہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کارندے تھے، جھگڑے نے طول پکڑا سنان نے انصاریوں کو اپنی مدد کے لیے آواز دی اور جھجاہ نے مہاجرین کو اس وقت زید بن ارقم وغیرہ انصاری کی ایک جماعت عبداللہ بن ابی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اس نے جب یہ فریاد سنی تو کہنے لگا، لو ہمارے ہی شہروں میں ان لوگوں نے ہم پر حملے شروع کر دیئے، اللہ کی قسم! ہماری اور ان قریشویں کی مثال وہی ہے جو کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو موٹا تازہ کرتا کہ تجھے ہی کاٹے، اللہ کی قسم! اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو ہم ذی مقدور لوگ ان بے مقدروں کو وہاں سے نکال دیں گے پھر اس کی قوم کے جو لوگ اس کے پاس بیٹھے تھے ان سے کہنے لگا یہ سب آفت تم نے خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر لی ہے تم نے انہیں اپنے شہر میں بسایا تم نے انہیں اپنے مال آدھوں آدھ حصہ دیا اب بھی اگر تم ان کی مالی امداد نہ کرو تو یہ خود تنگ آ کر مدینہ سے نکل بھاگیں گے۔
اسے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اپنی خطا کی معافی اللہ سے طلب کر اس کا بیان اس آیت میں ہے، اس کی اسناد سعید بن جبیر تک صحیح ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے اس میں نظر ہے بلکہ یہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول تو اس غزوہ میں تھا ہی نہیں بلکہ لشکر کی ایک جماعت کو لے کر یہ تو لوٹ گیا تھا۔
کتب سیر و مغازی کے مصنفین میں تو یہ مشہور ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنو المصطلق کا ہے چنانچہ اس قصہ میں محمد بن حییٰ بن حبان اور عبداللہ بن ابوبکر اور عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ اس لڑائی کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جگہ قیام تھا، وہاں جھجاہ بن سعید غفاری اور سنان بن یزید کا پانی کے ازدہام پر کچھ جھگڑا ہو گیا، جھجاہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کارندے تھے، جھگڑے نے طول پکڑا سنان نے انصاریوں کو اپنی مدد کے لیے آواز دی اور جھجاہ نے مہاجرین کو اس وقت زید بن ارقم وغیرہ انصاری کی ایک جماعت عبداللہ بن ابی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اس نے جب یہ فریاد سنی تو کہنے لگا، لو ہمارے ہی شہروں میں ان لوگوں نے ہم پر حملے شروع کر دیئے، اللہ کی قسم! ہماری اور ان قریشویں کی مثال وہی ہے جو کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو موٹا تازہ کرتا کہ تجھے ہی کاٹے، اللہ کی قسم! اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو ہم ذی مقدور لوگ ان بے مقدروں کو وہاں سے نکال دیں گے پھر اس کی قوم کے جو لوگ اس کے پاس بیٹھے تھے ان سے کہنے لگا یہ سب آفت تم نے خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر لی ہے تم نے انہیں اپنے شہر میں بسایا تم نے انہیں اپنے مال آدھوں آدھ حصہ دیا اب بھی اگر تم ان کی مالی امداد نہ کرو تو یہ خود تنگ آ کر مدینہ سے نکل بھاگیں گے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ تمام باتیں سنیں آپ اس وقت بہت کم عمر تھے سیدھے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کل واقعہ بیان فرمایا اس وقت آپ کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے غضبناک ہو کر فرمانے لگے یا رسول اللہ! عباد بن بشیر کو حکم فرمایئے کہ اس کی گردن الگ کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو لوگوں میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ محمد اپنے ساتھیوں کی گردنیں مارتے ہیں یہ ٹھیک نہیں جاؤ لوگوں میں کوچ کی منادی کر دو۔“
عبداللہ بن ابی کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کی گفتگو کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو گیا تو بہت سٹ پٹایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر معذرت اور حیلے حوالے تاویل اور تحریف کرنے لگا اور قسمیں کھا گیا کہ میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا، چونکہ یہ شخص اپنی قوم میں ذی عزت اور باوقعت تھا اور لوگ بھی کہنے لگے اے اللہ کے رسول! شاید اس بچے نے ہی غلطی کی ہو اسے وہم ہو گیا ہو واقعہ ثابت تو ہوتا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے جلدی ہی کوچ کے وقت سے پہلے ہی تشریف لے چلے راستے میں اسید بن نضیر رضی اللہ عنہ ملے انہوں نے آپ کی شان نبوت کے قابل با ادب سلام کیا پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ! آج کیا بات ہے کہ وقت سے پہلے ہی آپ نے کوچ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ساتھی ابن ابی نے کیا کہا، وہ کہتا ہے کہ مدینہ جا کر ہم عزیز ان ذلیلوں کو نکال دیں گے“، اسید نے کہا یا رسول اللہ! عزت والے آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے یا رسول اللہ! آپ اس کی ان باتوں کا خیال بھی نہ فرمایئے، دراصل یہ بہت جلا ہوا ہے سنئیے، اہل مدینہ نے اسے سردار بنانے پر اتفاق کر لیا تھا تاج تیار ہو رہا تھا کہ اللہ رب العزت آپ کو لایا اس کے ہاتھ سے ملک نکل گیا پس یہ چراغ پا ہو رہا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، دوپہر کو ہی چل دیئے تھے، شام ہوئی، رات ہوئی، صبح ہوئی یہاں تک کہ دھوپ میں تیزی آ گئی تب آپ نے پڑاؤ کیا تاکہ لوگ اس بات میں پھر نہ الجھ جائیں، چونکہ تمام لوگ تھکے ہارے اور رات کے جاگے ہوئے تھے اترتے ہی سب سو گئے ادھر یہ سورت نازل ہوئی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:4/52-53:مرسل]
عبداللہ بن ابی کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کی گفتگو کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو گیا تو بہت سٹ پٹایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر معذرت اور حیلے حوالے تاویل اور تحریف کرنے لگا اور قسمیں کھا گیا کہ میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا، چونکہ یہ شخص اپنی قوم میں ذی عزت اور باوقعت تھا اور لوگ بھی کہنے لگے اے اللہ کے رسول! شاید اس بچے نے ہی غلطی کی ہو اسے وہم ہو گیا ہو واقعہ ثابت تو ہوتا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے جلدی ہی کوچ کے وقت سے پہلے ہی تشریف لے چلے راستے میں اسید بن نضیر رضی اللہ عنہ ملے انہوں نے آپ کی شان نبوت کے قابل با ادب سلام کیا پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ! آج کیا بات ہے کہ وقت سے پہلے ہی آپ نے کوچ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ساتھی ابن ابی نے کیا کہا، وہ کہتا ہے کہ مدینہ جا کر ہم عزیز ان ذلیلوں کو نکال دیں گے“، اسید نے کہا یا رسول اللہ! عزت والے آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے یا رسول اللہ! آپ اس کی ان باتوں کا خیال بھی نہ فرمایئے، دراصل یہ بہت جلا ہوا ہے سنئیے، اہل مدینہ نے اسے سردار بنانے پر اتفاق کر لیا تھا تاج تیار ہو رہا تھا کہ اللہ رب العزت آپ کو لایا اس کے ہاتھ سے ملک نکل گیا پس یہ چراغ پا ہو رہا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، دوپہر کو ہی چل دیئے تھے، شام ہوئی، رات ہوئی، صبح ہوئی یہاں تک کہ دھوپ میں تیزی آ گئی تب آپ نے پڑاؤ کیا تاکہ لوگ اس بات میں پھر نہ الجھ جائیں، چونکہ تمام لوگ تھکے ہارے اور رات کے جاگے ہوئے تھے اترتے ہی سب سو گئے ادھر یہ سورت نازل ہوئی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:4/52-53:مرسل]
بیہقی میں ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک مہاجر نے ایک انصار کو پتھر مار دیا اس پر بات بڑھ گئی اور دونوں نے اپنی اپنی جماعت سے فریاد کی اور انہیں پکارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے: ”یہ کیا جاہلیت کی ہانک لگانے لگے اس فضول خراب عادت کو چھوڑو“، عبداللہ بن ابی بن سلول کہنے لگا: اب مہاجر یہ کرنے لگ گئے، اللہ کی قسم! مدینہ پہنچتے ہی ہم ذی عزت ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، اس وقت مدینہ شریف میں انصار کی تعداد مہاجرین سے بہت زیادہ تھی گو بعد میں مہاجرین بہت زیادہ ہو گئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب ابن ابی سلول کے اس قول کا علم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کرنے کی اجازت چاہی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4904]
مسند احمد میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { غزوہ تبوک میں میں نے جب اس منافق کا یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا اور اس نے آ کر انکار کیا اور قسمیں کھا گیا اس وقت میری قوم نے مجھے بہت کچھ برا کہا اور ہر طرح ملامت کی کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نہایت غمگین دل ہو کر وہاں سے چل دیا اور سخت رنج و غم میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیرا عذر نازل فرمایا ہے اور تیری سچائی ظاہر کی ہے اور یہ آیت اتری «هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:7]“ } یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:902]
مسند احمد میں ہے { زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان اس طرح ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ ایک غزوے میں تھا اور میں نے عبداللہ بن ابی کی یہ دونوں باتیں سنیں میں نے اپنے چچا سے بیان کیں اور میرے چچا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اس نے انکار کیا اور قسمیں کھا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا اور مجھے جھوٹا جانا، میرے چچا نے بھی مجھے برا بھلا کہا، مجھے اس قدر غم اور ندامت ہوئی کہ میں نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا یہاں تک کہ یہ سورت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تصدیق کی اور مجھے یہ پڑھ سنائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4091]
مسند کی اور روایت میں ہے کہ { ایک سفر کے موقعہ پر جب صحابہ رضی اللہ عنہم کو تنگی پہنچی تو اس نے انہیں کچھ دینے کی ممانعت کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں اس لیے بلوایا کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں تو انہوں نے اس سے بھی منہ پھیر لیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:373/4:صحیح]
مسند احمد میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { غزوہ تبوک میں میں نے جب اس منافق کا یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا اور اس نے آ کر انکار کیا اور قسمیں کھا گیا اس وقت میری قوم نے مجھے بہت کچھ برا کہا اور ہر طرح ملامت کی کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نہایت غمگین دل ہو کر وہاں سے چل دیا اور سخت رنج و غم میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیرا عذر نازل فرمایا ہے اور تیری سچائی ظاہر کی ہے اور یہ آیت اتری «هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:7]“ } یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:902]
مسند احمد میں ہے { زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان اس طرح ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ ایک غزوے میں تھا اور میں نے عبداللہ بن ابی کی یہ دونوں باتیں سنیں میں نے اپنے چچا سے بیان کیں اور میرے چچا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اس نے انکار کیا اور قسمیں کھا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا اور مجھے جھوٹا جانا، میرے چچا نے بھی مجھے برا بھلا کہا، مجھے اس قدر غم اور ندامت ہوئی کہ میں نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا یہاں تک کہ یہ سورت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تصدیق کی اور مجھے یہ پڑھ سنائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4091]
مسند کی اور روایت میں ہے کہ { ایک سفر کے موقعہ پر جب صحابہ رضی اللہ عنہم کو تنگی پہنچی تو اس نے انہیں کچھ دینے کی ممانعت کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں اس لیے بلوایا کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں تو انہوں نے اس سے بھی منہ پھیر لیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:373/4:صحیح]
{ قرآن کریم نے انہیں ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں اس لیے کہا ہے کہ یہ لوگ اچھے جمیل جسم والے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4900]
ترمذی وغیرہ میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے ساتھ کچھ اعراب لوگ بھی تھے، پانی کی جگہ وہ پہلے پہنچنا چاہتے تھے، اسی طرح ہم بھی اسی کی کوشش میں رہتے تھے ایک مرتبہ ایک اعرابی نے جا کر پانی پر قبضہ کر کے حوض پر کر لیا اور اس کے ارد گرد پتھر رکھ دیئے اور اوپر سے چمڑا پھیلا دیا ایک انصاری نے آ کر اس حوض میں سے اپنے اونٹ کو پانی پلانا چاہا اس نے روکا انصاری نے پلانے پر زور دیا اس نے ایک لکڑی اٹھا کر انصاری کے سر پر ماری جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ یہ چونکہ عبداللہ بن ابی کا ساتھی تھا سیدھا اس کے پاس آیا اور تمام ماجرا کہہ سنایا، عبداللہ بہت بگڑا اور کہنے لگا ان اعرابیوں کو کچھ نہ دو یہ خود بھوکے مرتے بھاگ جائیں گے، یہ اعرابی کھانے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے اور کھا لیا کرتے تھے، تو عبداللہ بن ابی نے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا لے کر ایسے وقت جاؤ جب یہ لوگ نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھا لیں گے یہ رہ جائیں گے یونہی بھوکوں مرتے بھاگ جائیں گے اور اب ہم مدینہ جا کر ان کمینوں کو نکال باہر کریں گے۔
میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا اور میں نے یہ سب سنا اپنے چچا سے ذکر کیا چچا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا یہ انکار کر گیا اور حلف اٹھا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا قرار دیا، میرے چچا میرے پاس آئے اور کہا تم نے یہ کیا حرکت کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ناراض ہو گئے اور تجھے جھوٹا جانا اور دیگر مسلمانوں نے بھی تجھے جھوٹا سمجھا مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا سخت غم و اندوہ کی حالت میں سر جھکائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرا کان پکڑا، جب میں نے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور چل دیئے، اللہ کی قسم مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے اگر دنیا کی ابدی زندگی مجھے مل جاتی جب بھی میں اتنا خوش نہ ہو سکتا تھا۔
پھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا؟ فرمایا تو کچھ بھی نہیں مسکراتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس پھر خوش ہو، آپ کے بعد ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہی سوال مجھ سے کیا اور میں نے یہی جواب دیا صبح کو سورۃ المنافقون نازل ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3313،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری روایت میں اس سورت کا «يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ» ۱؎ [63-المنافقون:8] تک پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:488/2:حسن]
عبداللہ بن لہیعہ اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی اسی حدیث کو مغازی میں بیان کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت میں خبر پہنچانے والے کا نام اوس بن اقرم ہے جو قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سے تھے، ممکن ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی خبر پہنچائی ہو اور اوس رضی اللہ عنہ نے بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ راوی سے نام میں غلطی ہو گئی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی وغیرہ میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے ساتھ کچھ اعراب لوگ بھی تھے، پانی کی جگہ وہ پہلے پہنچنا چاہتے تھے، اسی طرح ہم بھی اسی کی کوشش میں رہتے تھے ایک مرتبہ ایک اعرابی نے جا کر پانی پر قبضہ کر کے حوض پر کر لیا اور اس کے ارد گرد پتھر رکھ دیئے اور اوپر سے چمڑا پھیلا دیا ایک انصاری نے آ کر اس حوض میں سے اپنے اونٹ کو پانی پلانا چاہا اس نے روکا انصاری نے پلانے پر زور دیا اس نے ایک لکڑی اٹھا کر انصاری کے سر پر ماری جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ یہ چونکہ عبداللہ بن ابی کا ساتھی تھا سیدھا اس کے پاس آیا اور تمام ماجرا کہہ سنایا، عبداللہ بہت بگڑا اور کہنے لگا ان اعرابیوں کو کچھ نہ دو یہ خود بھوکے مرتے بھاگ جائیں گے، یہ اعرابی کھانے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے اور کھا لیا کرتے تھے، تو عبداللہ بن ابی نے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا لے کر ایسے وقت جاؤ جب یہ لوگ نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھا لیں گے یہ رہ جائیں گے یونہی بھوکوں مرتے بھاگ جائیں گے اور اب ہم مدینہ جا کر ان کمینوں کو نکال باہر کریں گے۔
میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا اور میں نے یہ سب سنا اپنے چچا سے ذکر کیا چچا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا یہ انکار کر گیا اور حلف اٹھا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا قرار دیا، میرے چچا میرے پاس آئے اور کہا تم نے یہ کیا حرکت کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ناراض ہو گئے اور تجھے جھوٹا جانا اور دیگر مسلمانوں نے بھی تجھے جھوٹا سمجھا مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا سخت غم و اندوہ کی حالت میں سر جھکائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرا کان پکڑا، جب میں نے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور چل دیئے، اللہ کی قسم مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے اگر دنیا کی ابدی زندگی مجھے مل جاتی جب بھی میں اتنا خوش نہ ہو سکتا تھا۔
پھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا؟ فرمایا تو کچھ بھی نہیں مسکراتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس پھر خوش ہو، آپ کے بعد ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہی سوال مجھ سے کیا اور میں نے یہی جواب دیا صبح کو سورۃ المنافقون نازل ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3313،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری روایت میں اس سورت کا «يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ» ۱؎ [63-المنافقون:8] تک پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:488/2:حسن]
عبداللہ بن لہیعہ اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی اسی حدیث کو مغازی میں بیان کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت میں خبر پہنچانے والے کا نام اوس بن اقرم ہے جو قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سے تھے، ممکن ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی خبر پہنچائی ہو اور اوس رضی اللہ عنہ نے بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ راوی سے نام میں غلطی ہو گئی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
خالد رضی اللہ عنہ ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع کا ہے یہ وہ غزوہ ہے جس میں خالد رضی اللہ عنہ کو بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناۃ بت کو تڑوایا تھا جو قفا مثلل اور سمندر کے درمیان تھا، اسی غزوہ میں دو شخصوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا تھا ایک مہاجر تھا دوسرا قبیلہ بہز کا تھا اور قبیل بہز انصاریوں کا حلیف تھا، بہزی نے انصاریوں کو اور مہاجر نے مہاجرین کو آواز دی، کچھ لوگ دونوں طرف کھڑے ہو گئے اور جھگڑا ہونے لگا، جب ختم ہوا تو منافق اور بیمار دل لوگ عبداللہ بن ابی کے پاس جمع ہوئے اور کہنے لگے، ہمیں تو تم سے بہت کچھ امیدیں تھیں، تم ہمارے دشمنوں سے ہمارا بچاؤ تھے، اب تو بے کار ہوگئے ہو، نفع کا خیال، نہ نقصان کا، تم نے ہی ان جلالیب کو اتنا چڑھا دیا کہ بات بات پر یہ ہم پر چڑھ دوڑیں، نئے مہاجرین کو یہ لوگ جلالیب کہتے تھے۔ اس دشمن اللہ نے جواب دیا کہ اب مدینے پہنچتے ہی ان سب کو وہاں سے دیس نکالا دیں گے، مالک بن وخشن جو منافق تھا اس نے کہا: میں تو تمہیں پہلے ہی سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں کے ساتھ سلوک کرنا چھوڑ دو خودبخود منتشر ہو جائیں گے، یہ باتیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سن لیں اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر عرض کرنے لگے کہ اس بانی فتنہ عبداللہ بن ابی کا قصہ پاک کرنے کی مجھے اجازت دیجئیے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر اجازت دوں تو کیا تم اسے قتل کر ڈالو گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ابھی اپنے ہاتھ سے اس کی گردن ماروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بیٹھ جاؤ۔“ اتنے میں اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی پوچھا اور انہیں نے بھی یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی بٹھا لیا، پھر تھوڑی دیر گزری ہو گی کہ کوچ کرنے کا حکم دیا اور وقت سے پہلے ہی لشکر نے کوچ کیا۔
وہ دن رات دوسری صبح برابر چلتے ہی رہے جب دھوپ میں تیزی آ گئی، اترنے کو فرمایا، پھر دوپہر ڈھلتے ہی جلدی سے کوچ کیا اور اسی طرح چلتے رہے تیسرے دن صبح کو قفا مثلل سے مدینہ شریف پہنچ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے پوچھا کہ کیا میں اس کے قتل کا تجھے حکم دیتا تو تو اسے مار ڈالتا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یقیناً، میں اس کا سر تن سے جدا کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اسے اس دن قتل کر ڈالتا تو بہت سے لوگوں کے ناک خاک آلودہ ہو جاتے۔ میں اگر انہیں کہتا تو وہ بھی اسے مار ڈالنے میں تامل نہ کرتے پھر لوگوں کو باتیں بنانے کا موقعہ ملتا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو بھی بیدردی کے ساتھ مار ڈالتا ہے۔“
اسی واقعہ کا بیان ان آیتوں میں ہے، یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سی ایسی عمدہ باتیں ہیں جو دوسری روایتوں میں نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر اجازت دوں تو کیا تم اسے قتل کر ڈالو گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ابھی اپنے ہاتھ سے اس کی گردن ماروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بیٹھ جاؤ۔“ اتنے میں اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی پوچھا اور انہیں نے بھی یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی بٹھا لیا، پھر تھوڑی دیر گزری ہو گی کہ کوچ کرنے کا حکم دیا اور وقت سے پہلے ہی لشکر نے کوچ کیا۔
وہ دن رات دوسری صبح برابر چلتے ہی رہے جب دھوپ میں تیزی آ گئی، اترنے کو فرمایا، پھر دوپہر ڈھلتے ہی جلدی سے کوچ کیا اور اسی طرح چلتے رہے تیسرے دن صبح کو قفا مثلل سے مدینہ شریف پہنچ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے پوچھا کہ کیا میں اس کے قتل کا تجھے حکم دیتا تو تو اسے مار ڈالتا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یقیناً، میں اس کا سر تن سے جدا کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اسے اس دن قتل کر ڈالتا تو بہت سے لوگوں کے ناک خاک آلودہ ہو جاتے۔ میں اگر انہیں کہتا تو وہ بھی اسے مار ڈالنے میں تامل نہ کرتے پھر لوگوں کو باتیں بنانے کا موقعہ ملتا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو بھی بیدردی کے ساتھ مار ڈالتا ہے۔“
اسی واقعہ کا بیان ان آیتوں میں ہے، یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سی ایسی عمدہ باتیں ہیں جو دوسری روایتوں میں نہیں۔
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی منافق کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ جو پکے سچے مسلمان تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی کہ یا رسول اللہ! میں نے سنا ہے کہ میرے باپ نے جو بکواس کی ہے اس کے بدلے آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں اگر یونہی ہے تو اس کے قتل کا حکم آپ کسی اور کو نہ کیجئے میں خود جاتا ہوں اور ابھی اس کا سر آپ کے قدموں تلے ڈالتا ہوں، قسم اللہ کی! قبیلہ خزرج کا ایک ایک شخص جانتا ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بیٹا اپنے باپ سے احسان و سلوک اور محبت و عزت کرنے والا نہیں (لیکن میں نے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے پیارے باپ کی گردن مارنے کو تیار ہوں)۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کو یہ حکم دیا اور اس نے اسے مارا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں جوش انتقام میں، میں اسے نہ مار بیٹھوں اور ظاہر ہے کہ اگر یہ حرکت مجھ سے ہو گئی تو میں ایک کافر کے بدلے ایک مسلمان کو مار کر جہنمی بن جاؤں گا آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں میں اسے قتل کرنا نہیں چاہتا ہم تو اس سے اور نرمی برتیں گے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کریں گے جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34179:مرسل]
مسلمان بیٹے کا منافق باپ کا راستہ روکنا ٭٭
عکرمہ اور ابن زید رحمہا اللہ کا بیان ہے کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکروں سمیت مدینے پہنچے تو اس منافق عبداللہ بن ابی کے لڑکے عبداللہ رضی اللہ عنہ مدینہ شریف کے دروازے پر کھڑے ہو گئے تلوار کھینچ لی، لوگ مدینہ میں داخل ہونے لگے یہاں تک کہ ان کا باپ آیا تو یہ فرمانے لگے پرے رہو، مدینہ میں نہ جاؤ، اس نے کہا: کیا بات ہے؟ مجھے کیوں روک رہا ہے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو مدینہ میں نہیں جا سکتا، جب تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے اجازت نہ دیں، عزت والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور تو ذلیل ہے۔
یہ رک کر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لشکر کے آخری حصہ میں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس مناق نے اپنے بیٹے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اسے کیوں روک رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! جب تک آپ کی اجازت نہ ہو یہ اندر نہیں جا سکتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اب عبداللہ نے اپنے باپ کو شہر میں داخل ہونے دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34171:مرسل] مسند حمیدی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا جب تک تو اپنی زبان سے یہ نہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے اور میں ذلیل تو مدینہ میں نہیں جا سکتا اور اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں نے آج تک نگاہ اونچی کر کے ان کے چہرے کو بھی نہیں دیکھا، لیکن آپ اگر اس پر ناراض ہیں تو مجھے حکم دیجئیے ابھی اس کی گردن حاضر کرتا ہوں کسی اور کو اس کے قتل کا حکم نہ دیجئیے ایسا نہ ہو کہ میں اپنے باپ کے قاتل کو اپنی آنکھوں سے چلتا پھرتا نہ دیکھ سکوں۔ ۱؎ [مسند حمیدی:520/2]
یہ رک کر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لشکر کے آخری حصہ میں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس مناق نے اپنے بیٹے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اسے کیوں روک رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! جب تک آپ کی اجازت نہ ہو یہ اندر نہیں جا سکتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اب عبداللہ نے اپنے باپ کو شہر میں داخل ہونے دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34171:مرسل] مسند حمیدی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا جب تک تو اپنی زبان سے یہ نہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے اور میں ذلیل تو مدینہ میں نہیں جا سکتا اور اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں نے آج تک نگاہ اونچی کر کے ان کے چہرے کو بھی نہیں دیکھا، لیکن آپ اگر اس پر ناراض ہیں تو مجھے حکم دیجئیے ابھی اس کی گردن حاضر کرتا ہوں کسی اور کو اس کے قتل کا حکم نہ دیجئیے ایسا نہ ہو کہ میں اپنے باپ کے قاتل کو اپنی آنکھوں سے چلتا پھرتا نہ دیکھ سکوں۔ ۱؎ [مسند حمیدی:520/2]