ترجمہ و تفسیر — سورۃ المنافقون (63) — آیت 5

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا یَسۡتَغۡفِرۡ لَکُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ لَوَّوۡا رُءُوۡسَہُمۡ وَ رَاَیۡتَہُمۡ یَصُدُّوۡنَ وَ ہُمۡ مُّسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۵﴾
اور جب ان سے کہا جائے آؤ اللہ کا رسول تمھارے لیے بخشش کی دعا کرے تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ منہ پھیر لیں گے، اس حال میں کہ وہ تکبر کرنے والے ہیں۔ En
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں
En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں تو اپنے سر مٹکاتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ وه تکبر کرتے ہوئے رک جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ {وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ …: لَوَّوْا لَوٰي يَلْوِيْ لَيًّا} (ض) (پھیرنا) سے باب تفعیل ہے، جس سے سر پھیرنے میں مبالغہ یا اس کا تکرار مقصود ہے۔ آیت (۷) میں اس کا سبب نزول آ رہا ہے۔
➋ {وَ رَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ: صَدَّ يَصُدُّ صَدًّا وَ صُدُوْدًا (ن)صَدًّا } (لازم) روکنا اور { وَصُدُوْدًا } (متعدی) اعراض کرنا، منہ پھیر لینا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر معذرت کر لینے کی ترغیب پر تم انھیں دیکھو گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی استغفار سے اعراض کرتے ہوئے اپنے سروں کو موڑ لیتے ہیں۔ 5۔ 2 یعنی کہنے والے کی بات سے منہ موڑ لیں گے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرلیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور جب انہیں کہا جائے کہ: ”آؤ (تاکہ) اللہ کے رسول تمہارے لیے مغفرت طلب کریں“ تو سر جھٹک دیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ از راہ [9] تکبر آنے سے رک جاتے ہیں
[9] ویسے تو سب منافقوں کا یہی حال تھا۔ مگر ان کا سردار عبد اللہ بن ابی اس بات میں بھی ان کا سردار تھا۔ جب بھی ان کی کوئی سازش یا ناشائستہ حرکت یا راز کی بات پکڑی جاتی تو مسلمان ان سے کہتے کہ: چلو، چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگ لو۔ وہ آپ کو خود بھی معاف کر دیں گے اور اللہ سے بھی تمہاری مغفرت کی دعا کریں گے۔ ایسے ہی ایک موقعہ پر عبد اللہ بن ابی نے مسلمانوں کو یہ جواب دیا کہ ”تم نے مجھے ایمان لانے کو کہا تو میں ایمان لے آیا۔ تم نے نمازیں ادا کرنے کو کہا تو وہ بھی میں نے ادا کیں۔ تم نے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کو کہا تو وہ بھی میں نے ادا کی۔ اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کروں؟“ اس کا کبر و نخوت سے بھرا ہوا یہ جواب سن کر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ہو گا؟ یا مسلمانوں نے اسے آگے کچھ کہا ہو گا؟ اس کی اسی متکبرانہ کیفیت کا نقشہ اللہ نے اس آیت میں کھینچا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ٭٭
ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کر دیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لیے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں؟ ‘
سورۃ براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سفیان راوی نے اپنا منہ دائیں جانب پھیر لیا تھا اور غضب و تکبر کے ساتھ ترچھی آنکھ سے گھور کر دکھایا تھا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے اور سلف میں سے اکثر حضرات کا فرمان ہے کہ یہ سب کا سب بیان عبداللہ بن ابی بن سلول کا ہے جیسے کہ عنقریب آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔