وَ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ تُعۡجِبُکَ اَجۡسَامُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِہِمۡ ؕ کَاَنَّہُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ ؕ یَحۡسَبُوۡنَ کُلَّ صَیۡحَۃٍ عَلَیۡہِمۡ ؕ ہُمُ الۡعَدُوُّ فَاحۡذَرۡہُمۡ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۴﴾
اور جب تو انھیں دیکھے تجھے ان کے جسم اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات پر کان لگائے گا، گویا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں۔ یہی اصل دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کرے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
En
اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو (مگر فہم وادراک سے خالی) گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
En
جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 4) ➊ {وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ:} اکثر منافقین خوش حال، صاحب حیثیت، تیز طرار اور ہوشیار لوگ تھے، ان کی خوش حالی اور مال کی حرص ہی ان کے نفاق کا باعث تھی۔ ان کا سردار عبداللہ بن اُبی معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا اور دیکھنے میں بھی بڑا خوب صورت، لمبے قد والا اور جسیم تھا۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا: [كَانُوْا رِجَالاً أَجْمَلَ شَيْءٍ] [بخاري: ۴۹۰۳] ”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے۔“ مزید تفصیل آگے آیت (۷) کی تفسیر میں دیکھیے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (بدر کے قیدیوں میں سے) عباس مدینہ میں تھے، انصار نے انھیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا مگر انھیں عبداللہ بن اُبی کی قمیص کے علاوہ کوئی قمیص نہ ملی جو ان کے جسم پر پوری آتی ہو، چنانچہ انھوں نے وہی ان کو پہنا دی۔ [نسائي، الجنائز، باب القمیص في الکفن: ۱۹۰۳، وقال الألباني صحیح] اہل علم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن اُبی کی وفات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص جو پہنائی اس پر دوسری مصلحتوں کے علاوہ اس احسان کا بدلا اتارنا بھی مقصود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں {” فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ “} کے الفاظ کے ساتھ منافقین کی ناسمجھی بیان کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ اے مخاطب! جب تو انھیں دیکھے تو ڈیل ڈول اور خوبصورتی کی وجہ سے ان کے جسم تجھے بہت اچھے دکھائی دیں گے اور اگر وہ بات کریں تو ایسے فصیح و بلیغ ہیں کہ تو ان کی بات سنتا ہی رہ جائے۔ ان کی چرب زبانی کا ذکر سورۂ بقرہ (۲۰۴) میں بھی آیا ہے۔ یہاں بعض مفسرین نے{” وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ “} میں مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیا ہے، مگر بہتر ہے کہ اسے ہر مخاطب کے لیے عام رکھا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو شروع سے انھیں دیکھتے آ رہے تھے۔
➋ ظاہر ہے کہ {” اِذَا رَاَيْتَهُمْ “} (جب تو انھیں دیکھے) سے عبداللہ بن اُبی اور اس جیسے منافق مراد ہیں، کیونکہ تمام منافق تو حسین و جمیل نہیں تھے اور نہ ہی ایسے فصیح و بلیغ تھے۔ (التسہیل)
➌ {كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ: ” خُشُبٌ “ ”خَشَبَةٌ “} کی جمع ہے، لکڑیاں۔ اس وزن کی یہ جمع بہت کم آتی ہے۔ مفسرین نے اس کی نظیر {” ثَمَرَةٌ “} کی جمع {” ثُمُرٌ “} لکھی ہے۔ {” مُسَنَّدَةٌ “} باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھی ہوئی۔ یعنی جیسے لکڑیوں میں طول و عرض اور خوبصورتی کے باوجود عقل اور سمجھ نہیں ہوتی اسی طرح یہ بھی عقل اور سمجھ سے عاری ہیں۔ جب یہ آپ کی مجلس میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوں تو یہ مت سمجھیں کہ یہ آدمی ہیں، بلکہ یوں سمجھیں کہ لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں، گو بظاہر خوبصورت نظر آتے ہیں۔ زمخشری نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حسین و جمیل اور جسیم و عریض ہونے کے باوجود ان سے کسی نفع کی امید نہیں، جس طرح کار آمد لکڑی چھت، دروازے یا کھڑکیوں میں یا کہیں نہ کہیں استعمال ہوتی ہے، مگر بے کار لکڑیوں کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھ دیا جاتا ہے۔
➍ { يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ:} اس میں ان کی بزدلی کا نقشہ کھینچا ہے کہ جوں ہی کوئی آواز بلند ہوتی ہے یا شور اٹھتا ہے تو وہ اسے اپنے آپ پر پڑنے والی اُفتاد ہی سمجھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کفار کا حملہ ہو گیا ہو جس میں ہمیں لڑنا پڑے اور اس میں ہماری موت ہو۔ (دیکھیے احزاب: ۱۹) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ہمارے خبث باطن کا پتا چل گیا ہو اور ہمارے خلاف کارروائی کا حکم آگیا ہو، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں رسوا کرنے والی یا ہمارے قتل کے حکم والی کوئی آیت یا سورت اتری ہو۔ (دیکھیے توبہ: ۶۴)
➎ { هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ: ” الْعَدُوُّ “} خبر پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے کہ تمھارے اصل دشمن یہی ہیں، کیونکہ کھلم کھلا کفار کی عداوت ظاہر ہے جس سے بچاؤ آسان ہے، یہ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں جو مسلمان بن کر ہر وقت تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کی عداوت زیادہ خطر ناک ہے اور اس سے بچنا بہت مشکل ہے، اس لیے ان سے ہوشیار رہیں۔
➏ {قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ:} یہ بد دعا کا کلمہ ہے، اللہ انھیں ہلاک کرے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دعا یا بددعا کی کیا ضرورت ہے، وہ تو جو چاہے کر سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان کے حق میں لوگوں کی زبان پر آنے والی بد دعا نقل کی گئی ہے۔ مراد ان کی مذمت ہے۔
➐ {اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یعنی اتنے واضح دلائل کے باوجود ایمان چھوڑ کر یہ لوگ کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
➋ ظاہر ہے کہ {” اِذَا رَاَيْتَهُمْ “} (جب تو انھیں دیکھے) سے عبداللہ بن اُبی اور اس جیسے منافق مراد ہیں، کیونکہ تمام منافق تو حسین و جمیل نہیں تھے اور نہ ہی ایسے فصیح و بلیغ تھے۔ (التسہیل)
➌ {كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ: ” خُشُبٌ “ ”خَشَبَةٌ “} کی جمع ہے، لکڑیاں۔ اس وزن کی یہ جمع بہت کم آتی ہے۔ مفسرین نے اس کی نظیر {” ثَمَرَةٌ “} کی جمع {” ثُمُرٌ “} لکھی ہے۔ {” مُسَنَّدَةٌ “} باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھی ہوئی۔ یعنی جیسے لکڑیوں میں طول و عرض اور خوبصورتی کے باوجود عقل اور سمجھ نہیں ہوتی اسی طرح یہ بھی عقل اور سمجھ سے عاری ہیں۔ جب یہ آپ کی مجلس میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوں تو یہ مت سمجھیں کہ یہ آدمی ہیں، بلکہ یوں سمجھیں کہ لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں، گو بظاہر خوبصورت نظر آتے ہیں۔ زمخشری نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حسین و جمیل اور جسیم و عریض ہونے کے باوجود ان سے کسی نفع کی امید نہیں، جس طرح کار آمد لکڑی چھت، دروازے یا کھڑکیوں میں یا کہیں نہ کہیں استعمال ہوتی ہے، مگر بے کار لکڑیوں کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھ دیا جاتا ہے۔
➍ { يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ:} اس میں ان کی بزدلی کا نقشہ کھینچا ہے کہ جوں ہی کوئی آواز بلند ہوتی ہے یا شور اٹھتا ہے تو وہ اسے اپنے آپ پر پڑنے والی اُفتاد ہی سمجھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کفار کا حملہ ہو گیا ہو جس میں ہمیں لڑنا پڑے اور اس میں ہماری موت ہو۔ (دیکھیے احزاب: ۱۹) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ہمارے خبث باطن کا پتا چل گیا ہو اور ہمارے خلاف کارروائی کا حکم آگیا ہو، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں رسوا کرنے والی یا ہمارے قتل کے حکم والی کوئی آیت یا سورت اتری ہو۔ (دیکھیے توبہ: ۶۴)
➎ { هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ: ” الْعَدُوُّ “} خبر پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے کہ تمھارے اصل دشمن یہی ہیں، کیونکہ کھلم کھلا کفار کی عداوت ظاہر ہے جس سے بچاؤ آسان ہے، یہ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں جو مسلمان بن کر ہر وقت تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کی عداوت زیادہ خطر ناک ہے اور اس سے بچنا بہت مشکل ہے، اس لیے ان سے ہوشیار رہیں۔
➏ {قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ:} یہ بد دعا کا کلمہ ہے، اللہ انھیں ہلاک کرے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دعا یا بددعا کی کیا ضرورت ہے، وہ تو جو چاہے کر سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان کے حق میں لوگوں کی زبان پر آنے والی بد دعا نقل کی گئی ہے۔ مراد ان کی مذمت ہے۔
➐ {اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یعنی اتنے واضح دلائل کے باوجود ایمان چھوڑ کر یہ لوگ کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی ان کے حسن و جمال اور رونق و شادابی کی وجہ سے۔ 4۔ 2 یعنی زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے۔ 4۔ 3 یعنی اپنی درازئی قد اور حسن ورعنائی، عدم فہم اور قلت خیر میں ایسے ہیں گویا کہ دیوار پر لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ 4۔ 4 یعنی بزدل ایسے ہیں کہ کوئی زوردار آواز سن لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نازل ہوگئی یا گھبرا اٹھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کسی کاروائی کا آغاز تو نہیں ہو رہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اگر آپ ان کا قد و قامت [5] دیکھیں تو آپ کو بہت پسند آئے اور اگر ان کی بات سنیں تو بس سنتے ہی رہ جائیں۔ گویا وہ دیواروں [6] کے ساتھ لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ ان پر [7] (کوئی بلا) آئی یہی لوگ دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہیے [8]۔ انہیں اللہ غارت کرے، کہاں سے بہکائے جاتے ہیں۔
[5] منافقوں کی عادات اور خصائل :۔
منافقوں کا رئیس عبد اللہ بن ابی بن سلول معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا دیکھنے میں بڑا خوبصورت اور لمبے قد و قامت والا جوان تھا۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس ننگے تھے تو اسی کی قمیص ان کو پوری آسکتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی سے مانگی تو اس نے دے دی تھی۔ اسی بات کا معاوضہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دیا تھا جب عبد اللہ بن ابی مرا تھا۔ اور اس کے بیٹے عبد اللہ نے جو سچا مسلمان تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ التجا کی تھی کہ آپ اگر اپنی قمیص دے دیں تو میں یہ اپنے باپ کو پہنا دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی تھی۔ لسان بھی تھا۔ باتیں کرنے کا اور باتوں سے خوش اور مطمئن کرنے کا اسے ڈھنگ آتا تھا۔ باتیں کرتا تو جی چاہتا تھا کہ اس کی باتیں سنتے ہی رہیں۔ اس کے کچھ خاص مصاحب بھی ایسی ہی صفات کے مالک تھے۔
[6] یہ لوگ جب آپ کی مجلس میں آتے تو کسی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے۔ دراصل وہ یہ کام اپنی برتری اور شان بے نیازی جتلانے کے لیے کرتے تھے۔ اور اللہ نے ان کو لکڑیوں سے تشبیہ اس لحاظ سے دی کہ لکڑیوں میں سننے، سوچنے سمجھنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ لوگ بس دکھاوے کی خاطر آ تو جاتے ہیں۔ مگر نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو دھیان سے سنتے ہیں اور کچھ سن بھی پائیں تو اسے سمجھنے اور سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور جیسے آئے تھے ویسے ہی دامن جھاڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ہدایت کی کوئی بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
[7] بزدل اور ڈرپوک ایسے ہیں کہ ادھر کوئی پتا کھٹکا ادھر ان کا دل دہل گیا۔ ایک عادی مجرم کی طرح انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ہمارا فلاں راز فاش تو نہیں ہو چلا، یا فلاں حرکت پر گرفت تو نہیں ہونے لگی۔
[8] کیونکہ یہ لوگ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں۔ تمہاری سب باتیں دشمنوں تک پہنچاتے اور ہر کام سے انہیں باخبر رکھتے ہیں۔ یہ لوگ تمہارے ظاہری دشمنوں یعنی یہود' کفار مکہ اور مشرکین سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ لہٰذا ان سے سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
[6] یہ لوگ جب آپ کی مجلس میں آتے تو کسی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے۔ دراصل وہ یہ کام اپنی برتری اور شان بے نیازی جتلانے کے لیے کرتے تھے۔ اور اللہ نے ان کو لکڑیوں سے تشبیہ اس لحاظ سے دی کہ لکڑیوں میں سننے، سوچنے سمجھنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ لوگ بس دکھاوے کی خاطر آ تو جاتے ہیں۔ مگر نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو دھیان سے سنتے ہیں اور کچھ سن بھی پائیں تو اسے سمجھنے اور سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور جیسے آئے تھے ویسے ہی دامن جھاڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ہدایت کی کوئی بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
[7] بزدل اور ڈرپوک ایسے ہیں کہ ادھر کوئی پتا کھٹکا ادھر ان کا دل دہل گیا۔ ایک عادی مجرم کی طرح انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ہمارا فلاں راز فاش تو نہیں ہو چلا، یا فلاں حرکت پر گرفت تو نہیں ہونے لگی۔
[8] کیونکہ یہ لوگ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں۔ تمہاری سب باتیں دشمنوں تک پہنچاتے اور ہر کام سے انہیں باخبر رکھتے ہیں۔ یہ لوگ تمہارے ظاہری دشمنوں یعنی یہود' کفار مکہ اور مشرکین سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ لہٰذا ان سے سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
علامات منافقین ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”منافقوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچان لیے جاتے ہیں ان کا سلام لعنت ہے، ان کی خوراک لوٹ مار ہے، ان کی غنیمت حرام اور خیانت ہے، وہ مسجدوں کی نزدیکی ناپسند کرتے ہیں، وہ نمازوں کے لیے آخری وقت آتے ہیں، تکبر اور نحوت والے ہوتے ہیں، نرمی اور سلوک تواضع اور انکساری سے محروم ہوتے ہیں، نہ خود ان کاموں کو کریں، نہ دوسروں کے ان کاموں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھیں رات کی لکڑیاں اور دن کے شور و غل کرنے والے اور روایت میں ہے دن کو خوب کھانے پینے والے اور رات کو خشک لکڑیوں کی طرح پڑ رہنے والے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:293/2:ضعیف]