فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ ابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰﴾
پھر جب نماز پوری کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے (حصہ) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
En
پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
En
پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 10) ➊ { فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، تو کیا نماز کے بعد مسجد سے نکلنا ضروری ہے اور کیا کاروبار بھی ضروری ہے یا گھر میں آرام بھی کیا جا سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اگرچہ اصل یہی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے وہ فرض ہوتا ہے، مگر قرینہ موجود ہو تو امر استحباب کے لیے بھی ہو تا ہے اور بیانِ جواز کے لیے بھی۔ یہاں اذان کے بعد بیع سے منع فرمایا تھا، اب اس ممانعت کی حد بیان فرما دی کہ یہ ممانعت نماز پوری ہونے تک ہے، اس کے بعدبیع کی اجازت ہے اور تمھیں اختیار ہے کہ مسجد سے نکل کر کاروبار میں مصروف ہو جاؤ، لیکن اگر کوئی مسجد میں رہے یا گھر چلا جائے، کاروبار نہ کرے تو مضائقہ نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اللہ نے احرام کی حالت میں شکار سے منع فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ» [المائدۃ: ۹۵] ”شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو۔“ پھر فرمایا: «وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا» [المائدۃ: ۲] ”اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرو۔“یہاں شکار کا حکم دینے کا یہ مطلب نہیں کہ احرام کھولنے والے شخص پر شکار کرنا فرض ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ احرام کھولنے کے بعد شکار کی اجازت ہے۔
➋ { وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ:} اللہ کے فضل سے مراد یہاں روزی تلاش کرنا ہے، یعنی جس طرح یہود کے لیے یوم السبت (ہفتہ) کو سارا دن شکار منع تھا تم پر ایسی کوئی پابندی نہیں، صرف اذان سے لے کر نماز سے فراغت تک خطبہ اور نماز میں حاضری کے سوا ہر کام منع ہے، اس کے بعد جس حلال طریقے سے روزی کما سکتے ہو کماؤ۔
➌ {وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} یعنی روزی کی تلاش میں مصروفیت کے دوران بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو جاؤ، بلکہ اسے بہت زیادہ یاد کرتے رہو۔ اللہ کی یاد دل سے بھی ہوتی ہے، زبان سے بھی اور ہر کام اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق ادا کرنے کے ساتھ بھی۔ مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۴۱، ۴۲) کی تفسیر۔
➋ { وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ:} اللہ کے فضل سے مراد یہاں روزی تلاش کرنا ہے، یعنی جس طرح یہود کے لیے یوم السبت (ہفتہ) کو سارا دن شکار منع تھا تم پر ایسی کوئی پابندی نہیں، صرف اذان سے لے کر نماز سے فراغت تک خطبہ اور نماز میں حاضری کے سوا ہر کام منع ہے، اس کے بعد جس حلال طریقے سے روزی کما سکتے ہو کماؤ۔
➌ {وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} یعنی روزی کی تلاش میں مصروفیت کے دوران بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو جاؤ، بلکہ اسے بہت زیادہ یاد کرتے رہو۔ اللہ کی یاد دل سے بھی ہوتی ہے، زبان سے بھی اور ہر کام اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق ادا کرنے کے ساتھ بھی۔ مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۴۱، ۴۲) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 اس سے مراد کاروبار اور تجارت ہے۔ یعنی نماز جمعہ سے فارغ ہو کر تم اپنے اپنے کاروبار اور دنیا کے مشاغل میں مصروف ہوجاؤ۔ مقصد اس امر کی وضاحت ہے کہ جمعہ کے دن کاروبار بند رکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف نماز کے وقت ایسا کرنا ضروری ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ پھر جب نماز ادا ہو چکے تو زمین میں منتشر ہو جاؤ [15] اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہو شاید کہ تم فلاح پاؤ
[15] یہ اجازت ہے حکم نہیں یعنی اگر تم نماز جمعہ کے بعد مسجد میں ہی بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے رہو تو بھی اچھا ہے، جانا چاہو تو بھی اجازت ہے۔ اور اگر جمعہ کی نماز کے بعد کاروبار یا کام کاج کرنا چاہو تو بھی مکمل اجازت ہے ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جو بھی کام کاج کرو دل میں ہر وقت اللہ کی یاد ضرور رہنی چاہیے اور اگر ہو سکے تو زبانی بھی اللہ کا ذکر کرو۔ یہ یاد تمہیں معاصی میں پڑنے سے روکے گی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن بھی سارا دن ہمیں کام کاج سے چھٹی منانے کی ضرورت نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ جمعہ کے دن جس پر جمعہ واجب ہے وہ بر وقت غسل کرے، مسواک کرے۔ صاف ستھرے کپڑے پہنے، تیل اور خوشبو لگائے پھر خطبہ جمعہ شروع ہونے سے پہلے پہلے بلکہ خطبہ کی اذان سے پہلے مسجد پہنچ جائے۔ اور خطبہ بڑے غور سے سنے ہاں اگر ہفتہ میں ایک دن کاروبار سے چھٹی کرنا ہی ہے تو مسلمانوں کو جمعہ کے دن ہی کرنا چاہئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہم سب امتوں کے بعد دنیا میں آئے لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہود و نصاریٰ کو ہم سے پہلے اللہ کی کتاب ملی۔ ان کے لیے بھی جمعہ کا دن ہی (عبادت کے لئے) مقرر ہوا تھا لیکن انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور ہم کو اللہ نے اسی دن کی ہدایت فرمائی۔ پھر سب لوگ ہمارے پیچھے ہو گئے۔ یہود کا دن کل (ہفتہ کا دن) ہے اور نصاریٰ کا پرسوں (اتوار) کا دن۔ [بخاري۔ كتاب الجمعه۔ باب فرض الجمعة] تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جمعہ کا دن کیا ہے ، اس کی اہمیت کیوں ہے؟ ٭٭
«جمعہ» کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی، چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے، چھٹا دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہو گی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دن تیرے ماں باپ [یعنی آدم و حواء] کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا“، یا یوں فرمایا: کہ تمہارے باپ کو جمع کیا۔ اسی طرح ایک موقوف حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ «فاللہ اعلم»
پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856]
یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔
پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856]
یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔
یہ یاد رہے کہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا منع ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { جب تم اقامت سنو تو نماز کیلئے سکینت اور وقار کے ساتھ چلو، دوڑو نہیں، جو پاؤ پڑھ لو، جو فوت ہو ادا کر لو۔ } [صحیح بخاری:636] ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے کہ لوگوں کے پاؤں کی آہٹ زور زور سے سنی، فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم جلدی جلدی نماز میں شامل ہوئے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو نماز کو اطمینان کے ساتھ چل کر آؤ جو پاؤ پڑھ لو جو چھوٹ جائے پوری کر لو“ }۔ [صحیح مسلم:603]
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
غسلِ جمعہ اور آداب جمعہ ٭٭
جمعہ کے لیے آنے والے کو غسل بھی کرنا چاہیئے، بخاری مسلم میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا ارادہ کرے وہ غسل کر لیا کرے۔ } [صحیح بخاری:877]
اور حدیث میں ہے { جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ } [صحیح بخاری:858]
اور روایت میں ہے کہ { ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ } [صحیح مسلم:849]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ } [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن اربعہ میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ } [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ } [صحیح بخاری:858]
اور روایت میں ہے کہ { ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ } [صحیح مسلم:849]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ } [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن اربعہ میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ } [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بخاری مسلم میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اول ساعت میں جائے، اس نے گویا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، دوسری ساعت میں جانے والا مثل گائے کی قربانی کرنے والے کے ہے، تیسری ساعت میں جانے والا مثل بھیڑ کی قربانی کرنے والے کے ہے، چوتھی ساعت میں جانے والا مرغ راہ اللہ میں تصدق کرنے والے کی طرح ہے، پانچویں ساعت میں جانے والا انڈا راہ اللہ دینے والے جیسا ہے، پھر جب امام آئے فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ } [صحیح بخاری:881]
مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ } [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ } [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔
مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ } [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ } [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔
جمعہ کی پہلی آذان ٭٭
جس اذان کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی اذان تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لاتے منبر پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اذان ہوتی تھی، اس سے پہلے کی اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اسے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صرف لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر زیادہ کیا۔
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912]
مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912]
مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔
جمعہ کے وقت خرید و فروخت حرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ دو یعنی ذکر اللہ کے لیے چل پڑو تجارت کو ترک کر دو، جب نماز جمعہ کی اذان ہو جائے، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے، اس میں اختلاف ہے کہ دینے والا اگر دے تو وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ ظاہر آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صحیح نہ ٹھہرے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم]
اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم]
اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔