اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے
En
(آیت 88) {وَلَوْاَشْرَكُوْالَحَبِطَعَنْهُمْ …:} اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر، ان کے ساتھ ان کے آباء، اولاد اور اخوان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر بفرض محال نبی یا اس کے قرابت دار بھی شرک کر بیٹھتے تو ان کا کیا کرایا سب ضائع ہو جاتا۔ کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی قبول نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «لَىِٕنْاَشْرَكْتَلَيَحْبَطَنَّعَمَلُكَ»[الزمر: ۶۵]” اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا بھی تمام عمل ضائع ہو جائے گا۔“ پیغمبر سے شرک ہونا تو ممکن نہیں، یہ سب کچھ امتیوں کو سنایا جا رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
88۔ 1 اٹھارہ انبیاء کے اسمائے گرامی ذکر کر کے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے، اگر یہ حضرات بھی شرک کا ارتکاب کرلیتے تو ان کے سارے اعمال برباد ہوجاتے۔ جس طرح دوسرے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اے پیغمبر! اگر تو نے بھی شرک کیا تو تیرے سارے عمل برباد ہوجائیں گے، حالانکہ پیغمبروں سے شرک کا صدور ممکن نہیں۔ مقصد امتوں کو شرک کی خطرناک اور ہلاکت خیزی سے آگاہ کرنا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
88۔ یہ ہے اللہ کی ہدایت، اپنے بندوں میں سے جسے وہ چاہتا ہے اس ہدایت پر چلاتا ہے اور اگر وہ لوگ (مذکورہ انبیاء) بھی شرک کرتے تو ان کا سب کیا کرایا برباد ہو جاتا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔