(آیت 87) {وَمِنْاٰبَآىِٕهِمْ…:} یعنی ان کے باپ دادا اور پڑدادا اوپر تک اور ان کے بیٹوں، پوتوں، پرپوتوں نیچے تک اور ان کے بھائیوں میں سے جو بھی ایمان دار تھے انھیں بھی ہم نے ہدایت پر لگایا اور بزرگی دی۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
87۔ 1 آبا سے اصول اور ذریات سے فروع مراد ہے۔ یعنی ان اصولوں و فروع اور اخوان میں سے بھی بہت سوں کو ہم نے مقام ہدائیت سے نوازا آجتِیْبِآءُ کے معنی چن لینا اور اپنے خاص بندوں میں شمار کرنا اور ان کے ساتھ ملا لینا۔ یہ جَبِبْتُالمَآءَفِیالحَوضِ (میں نے حوض میں پانی بھر لیا) سے مشتق ہے۔ پس اپنے خاص بندوں میں ملا لینا۔ اصطفاء تخلیص اور اختیار بھی اسی معنی میں مستعمل ہے جب کا مفعول مصطفیٰ مجتبی مخلص اور مختار ہے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
87۔ اور ان کے آباء و اجداد، ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بعض کو ہم نے منتخب کر لیا تھا اور سیدھی [88] راہ کی طرف رہنمائی کی تھی
[88] ان سب انبیاء علیہم السلام کی جماعت کے علاوہ ہم نے ان کے آباء و اجداد، آل اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت سے مستفیض فرمایا تھا۔ اور اس ہدایت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ توحید پرست تھے اور شرک سے سخت بے زار تھے کیونکہ شرک ایسی بری بلا ہے کہ اگر مذکورہ بالا انبیاء بھی شرک کرتے تو ان کے سب اعمال برباد ہو جاتے۔ یہ بات بغرض تسلیم اور دوسروں کے لیے شدید تنبیہ کے طور پر بیان کی گئی ہے ورنہ انبیاء سے شرک کا صدور نا ممکنات سے ہے۔ انبیاء کی تو بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ شرک کا استیصال کریں اور بندوں کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ دیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔