وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ؕ قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور جس دن کہے گا ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جائے گا۔ اس کی بات ہی سچی ہے اور اسی کی بادشاہی ہوگی، جس دن صور میں پھونکا جائے گا، غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے اور وہی کمال حکمت والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
En
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
En
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا اور جس وقت اللہ تعالیٰ اتنا کہہ دے گا تو ہوجا بس وه ہو پڑے گا۔ اس کا کہنا حق اور بااﺛر ہے۔ اور ساری حکومت خاص اسی کی ہوگی جب کہ صُور میں پھونک ماری جائے گی وه جاننے واﻻ ہے پوشیده چیزوں کا اور ﻇاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت واﻻ پوری خبر رکھنے واﻻ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت73) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ …:} یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، لیکن بے مقصد اور کھیل کے لیے نہیں بلکہ حق، یعنی خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے، وہ مقصد کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا: «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [الملک: ۶] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اور انسان اور جن کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا: «وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» [الذاریات: ۵۶] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا، مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ دوسری آیت میں فرمایا: «وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ» [الجاثیۃ: ۱۳] ” اور اس نے تمھاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کر دیا۔“ اور فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» [البقرۃ: ۲۹] ”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ بھی ہے سب تمھارے لیے پیدا فرمایا۔“ معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ انسان کے فائدے اور اس کی آزمائش کے لیے ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
➋ {وَ يَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ:} یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ کے لفظ {” كُنْ “} کہنے سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔
➌ {وَ لَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ:} یعنی دنیا میں مجازی طور پر جن کو بادشاہ کہا جاتا تھا ان کی مجازی بادشاہت بھی ختم ہو جائے گی، اللہ فرمائے گا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [المؤمن: ۱۶] ”آج کس کی بادشاہی ہے، صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔“ نیز دیکھیے سورۂ فاتحہ میں {” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ“} کی تفسیر۔ {” الصُّوْرِ “} کیا چیز ہے؟ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔“ [أحمد: 162/2، ح: ۶۵۱۴۔ ترمذی، صفات المؤمنین، باب صفۃ القیامۃ…: ۲۴۳۰] اس لیے عام طور پر اس کا ترجمہ نرسنگا کیا جاتا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے: ”صور پھونکنے والا فرشتہ اس وقت سے تیار عرش کی طرف دیکھ رہا ہے جب سے اسے صور دیا گیا ہے اور وہ آنکھ بھی نہیں جھپک رہا کہ کہیں اسی اثنا میں اسے حکم نہ دے دیا جائے۔“ [مستدرک حاکم: 558/4، ح: ۸۶۷۶۔ الصحیحۃ: 65/2، ح: ۱۰۷۸] پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن (نرسنگا) ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ {” الصُّوْرِ “ ” صُوْرَةٌ “} کی جمع ہے اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو یہ قول قرآن و سنت کی رو سے مردود ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل (۸۷) پہلے ایک صور پھونکا جائے گا، ساری خلقت گھبرا جائے گی، پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فنا ہو جائے گی، پھر تیسری دفعہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہو جائے گی۔ بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ اصل میں دو بار ہو گا، پہلے کو نفخۂ فزع یا صعق کہا جاتا ہے، گویا پہلے گھبراہٹ پھر بے ہوشی اور نتیجتاً فنا، یعنی دونوں ایک ہی ہیں اور دوسرے کو نفخۂ قیام۔ واللہ اعلم! (ابن کثیر، قرطبی)
➍ {عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ:} {” الْغَيْبِ “} سے مراد بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ) اور {” الشَّهَادَةِ “} کا معنی حاضر ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں، سب حاضر ہی حاضر ہے۔
➎ {وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ:} یعنی جو رب یہ صفات رکھتا ہے وہی اس لائق ہے کہ تم اس کی فرماں برداری اختیار کرو، اس کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمھیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اچھے یا برے ہر عمل کا بدلہ پانا ہے۔
➋ {وَ يَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ:} یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ کے لفظ {” كُنْ “} کہنے سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔
➌ {وَ لَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ:} یعنی دنیا میں مجازی طور پر جن کو بادشاہ کہا جاتا تھا ان کی مجازی بادشاہت بھی ختم ہو جائے گی، اللہ فرمائے گا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [المؤمن: ۱۶] ”آج کس کی بادشاہی ہے، صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔“ نیز دیکھیے سورۂ فاتحہ میں {” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ“} کی تفسیر۔ {” الصُّوْرِ “} کیا چیز ہے؟ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔“ [أحمد: 162/2، ح: ۶۵۱۴۔ ترمذی، صفات المؤمنین، باب صفۃ القیامۃ…: ۲۴۳۰] اس لیے عام طور پر اس کا ترجمہ نرسنگا کیا جاتا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے: ”صور پھونکنے والا فرشتہ اس وقت سے تیار عرش کی طرف دیکھ رہا ہے جب سے اسے صور دیا گیا ہے اور وہ آنکھ بھی نہیں جھپک رہا کہ کہیں اسی اثنا میں اسے حکم نہ دے دیا جائے۔“ [مستدرک حاکم: 558/4، ح: ۸۶۷۶۔ الصحیحۃ: 65/2، ح: ۱۰۷۸] پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن (نرسنگا) ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ {” الصُّوْرِ “ ” صُوْرَةٌ “} کی جمع ہے اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو یہ قول قرآن و سنت کی رو سے مردود ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل (۸۷) پہلے ایک صور پھونکا جائے گا، ساری خلقت گھبرا جائے گی، پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فنا ہو جائے گی، پھر تیسری دفعہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہو جائے گی۔ بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ اصل میں دو بار ہو گا، پہلے کو نفخۂ فزع یا صعق کہا جاتا ہے، گویا پہلے گھبراہٹ پھر بے ہوشی اور نتیجتاً فنا، یعنی دونوں ایک ہی ہیں اور دوسرے کو نفخۂ قیام۔ واللہ اعلم! (ابن کثیر، قرطبی)
➍ {عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ:} {” الْغَيْبِ “} سے مراد بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ) اور {” الشَّهَادَةِ “} کا معنی حاضر ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں، سب حاضر ہی حاضر ہے۔
➎ {وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ:} یعنی جو رب یہ صفات رکھتا ہے وہی اس لائق ہے کہ تم اس کی فرماں برداری اختیار کرو، اس کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمھیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اچھے یا برے ہر عمل کا بدلہ پانا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
73۔ 1 حق کے ساتھ یا بافائدہ پیدا کیا یعنی ان کو عبث اور بےفائدہ کھیل کود کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ایک خاص مقصد کے لیے کائنات کی تخلیق فرمائی ہے اور وہ یہ کہ اس اللہ کو یاد رکھا اور اس کا شکر ادا کیا جائے جس نے یہ سب کچھ بنایا۔ 73۔ 1 یوم فعل محذوف واذکر یا واتقوا کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی اس دن کو یاد کرو یا اس دن سے ڈرو! کہ اس کے لفظ کُن (ہوجا) سے وہ جو چاہے گا، ہوجائے گا۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حساب کتاب کے کٹھن مراحل بھی بڑی سرعت کے ساتھ طے ہوجائیں گے، لیکن کن کے لئے؟ ایمانداروں کے لئے۔ دوسروں کو یہ دن ہزار سال یا پچاس ہزار سال کی طرح بھاری لگے گا۔ 73۔ 2 صور سے مراد نرسنگا یا بگل ہے جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ ' اسرافیل اسے منہ میں لئے اور اپنی پیشانی جھکائے، حکم الہی کے منتظر کھڑے ہیں کہ جب انھیں کہا جائے تو اس کے منہ میں پھونک مار دیں ' ابن کثیر ' ابو داؤد اور ترندی میں ہے۔ الصور قرن ینفخ فیہ (صور ایک قرن (نرسنگا) ہے جس میں پھونکا جائے گا بعض علماء کے نزدیک تین نفخے ہوں گے نفخۃ الصعق جس سے تمام لوگ بےہوش ہوجائیں گے نفخۃ الفناء جس سے تمام لوگ فنا ہو جائیں گے نفخۃ الانشاء جس سے تمام انسان دوبارہ زندہ ہوجائیں گے بعض علماء آخری دو نفخوں کے ہی قائل ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
73۔ وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے [80] ساتھ پیدا کیا ہے اور جس دن وہ (قیامت کو) کہے گا کہ ”ہو جا“ تو وہ (قائم) ہو جائے گی۔ اس کی بات سچی ہے اور جس دن صور میں [81] پھونکا جائے گا اس دن اسی کی حکومت ہو گی۔ وہ چھپی اور ظاہر سب باتوں کو جاننے والا ہے اور وہ بڑا دانا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
[80] تخلیق کائنات کا مقصد:۔
یعنی اس لیے زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا کہ اس سے تعمیری نتائج پیدا ہوں۔ محض کھیل اور شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ جیسے بچے مٹی سے کھیلتے ہوئے اس سے مختلف شکلیں بناتے ہیں پھر انہیں خود ہی ڈھا کر مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ بلکہ زمین و آسمان کو ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس خاص مقصد کا اگرچہ قرآن میں صریح الفاظ میں ذکر نہیں آیا تاہم بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کی خدمت پر مامور ہیں اور انسان ہی ساری کائنات میں اشرف المخلوقات ہے۔ انسان کو ہی قوت تمیز اور ارادہ و اختیار دیا گیا ہے تاکہ اسے آزمایا جا سکے کہ آیا وہ اختیاری امور میں بھی اللہ کا فرمانبردار بن کر رہتا ہے یا نہیں؟ گویا انسان کی تخلیق کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے پھر اس جہان کے بعد اسے فنا کر کے ایک دوسرا جہان پیدا کیا جائے گا اور جو کچھ اچھے یا برے اعمال انسان نے اس دنیا میں سر انجام دیئے ہوں گے اس دوسرے جہان میں ان کی جزا و سزا ملے گی اور یہ دنیا اور آخرت سارے کا سارا ایک مربوط نظام ہے۔
[81] یعنی جس دن اللہ تعالیٰ اس جہان کو درہم برہم کرنا چاہے گا۔ تو فرشتہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا۔ اس سے زمین پر آباد تمام مخلوق مر جائے گی۔ پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ نفخہ صور دو بار ہو گا۔ اور عجب الذنب: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صور دو بار پھونکا جائے گا اور ان دونوں میں چالیس کا فاصلہ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا 'چالیس دن کا؟' کہنے لگے ” میں نہیں کہہ سکتا“ لوگوں نے کہا ”چالیس ماہ کا؟“ کہنے لگے ”میں نہیں کہہ سکتا“ پھر لوگوں نے پوچھا ”چالیس برس کا؟“ کہنے لگے ”میں نہیں کہہ سکتا“ اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا تو لوگ زمین سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے سبزہ اگ آتا ہے۔ دیکھو! آدمی کے بدن کی ہر چیز گل سڑ جاتی ہے مگر ایک ہڈی (کی نوک) وہ اس مقام کی ہڈی ہے جہاں جانور کی دم ہوتی ہے قیامت کے دن اسی ہڈی سے مخلوق کو جوڑ جاڑ دیا جائے گا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير سورة النبا آيت نمبر 18]
[81] یعنی جس دن اللہ تعالیٰ اس جہان کو درہم برہم کرنا چاہے گا۔ تو فرشتہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا۔ اس سے زمین پر آباد تمام مخلوق مر جائے گی۔ پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ نفخہ صور دو بار ہو گا۔ اور عجب الذنب: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صور دو بار پھونکا جائے گا اور ان دونوں میں چالیس کا فاصلہ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا 'چالیس دن کا؟' کہنے لگے ” میں نہیں کہہ سکتا“ لوگوں نے کہا ”چالیس ماہ کا؟“ کہنے لگے ”میں نہیں کہہ سکتا“ پھر لوگوں نے پوچھا ”چالیس برس کا؟“ کہنے لگے ”میں نہیں کہہ سکتا“ اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا تو لوگ زمین سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے سبزہ اگ آتا ہے۔ دیکھو! آدمی کے بدن کی ہر چیز گل سڑ جاتی ہے مگر ایک ہڈی (کی نوک) وہ اس مقام کی ہڈی ہے جہاں جانور کی دم ہوتی ہے قیامت کے دن اسی ہڈی سے مخلوق کو جوڑ جاڑ دیا جائے گا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير سورة النبا آيت نمبر 18]
معبود حقیقی کی چند صفات:۔
معبودان باطل اور ان کے پرستاروں کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں معبود حق کی یعنی اپنی ایسی چھ صفات بیان فرمائیں جو صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے کسی باطل معبود میں ان کا پایا جانا نا ممکن ہے اور وہ یہ ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین یعنی اس کائنات کو تعمیری نتائج کا حامل بنا کر پیدا کیا ہے۔
(2) پھر وہ اس کائنات میں وسعت بھی پیدا کرتا رہتا ہے اور تغیر و تبدل بھی۔ جب اسے کچھ کرنا منظور ہوتا ہے تو وہ اس کے ہو جانے کا حکم دے دیتا ہے اور وہ چیز یا حادثہ وجود میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔
(3) اس کی ہر بات کا ہر حکم سچا اور ٹھوس حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔
(4) جس دن اسے اس کائنات کو ختم کر کے روز آخرت میں لانا منظور ہو گا۔ تو اس عالم آخرت میں بھی اسی کی مکمل طور پر فرمانروائی ہو گی۔
(5) اس کے لیے غیب اور شہادت سب کچھ یکساں، اس کی نظروں کے سامنے اور اس کے علم میں ہے شہادت سے مراد وہ اشیاء ہیں جو کسی انسان کے سامنے موجود ہیں یا ان تک انسان کی دسترس ہو چکی ہے یا ایسے طبعی قوانین جو انسان کے علم میں آچکے ہیں اور غیب سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو انسان کے علم میں نہیں آئیں خواہ وہ ماضی سے تعلق رکھتی ہوں یا مستقبل سے یا ایسے تمام قوانین جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہو سکی ایسی سب باتیں اللہ کے علم میں ہیں۔
(6) اس کے ہر کام میں اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور موجود ہوتی ہے خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ ہر چیز کی قلیل سے قلیل مقدار تک سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین یعنی اس کائنات کو تعمیری نتائج کا حامل بنا کر پیدا کیا ہے۔
(2) پھر وہ اس کائنات میں وسعت بھی پیدا کرتا رہتا ہے اور تغیر و تبدل بھی۔ جب اسے کچھ کرنا منظور ہوتا ہے تو وہ اس کے ہو جانے کا حکم دے دیتا ہے اور وہ چیز یا حادثہ وجود میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔
(3) اس کی ہر بات کا ہر حکم سچا اور ٹھوس حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔
(4) جس دن اسے اس کائنات کو ختم کر کے روز آخرت میں لانا منظور ہو گا۔ تو اس عالم آخرت میں بھی اسی کی مکمل طور پر فرمانروائی ہو گی۔
(5) اس کے لیے غیب اور شہادت سب کچھ یکساں، اس کی نظروں کے سامنے اور اس کے علم میں ہے شہادت سے مراد وہ اشیاء ہیں جو کسی انسان کے سامنے موجود ہیں یا ان تک انسان کی دسترس ہو چکی ہے یا ایسے طبعی قوانین جو انسان کے علم میں آچکے ہیں اور غیب سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو انسان کے علم میں نہیں آئیں خواہ وہ ماضی سے تعلق رکھتی ہوں یا مستقبل سے یا ایسے تمام قوانین جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہو سکی ایسی سب باتیں اللہ کے علم میں ہیں۔
(6) اس کے ہر کام میں اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور موجود ہوتی ہے خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ ہر چیز کی قلیل سے قلیل مقدار تک سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔