لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ہر خبر کے لیے واقع ہونے کا ایک وقت ہے اور تم عنقریب جان لو گے۔
En
ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا
En
ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت ہے اور جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 67) {لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ …:} اس آیت میں کفار کے لیے دھمکی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہو سکتی، لیکن اس کا ایک وقت متعین ہے۔ چنانچہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو، جب اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہو جائے گا۔ اس وقت تم جان لو گے کہ جس چیز سے میں تمھیں بار بار ڈرا رہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی۔ اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں کفار پر لڑائی، خوف اور قحط کی صورت میں نازل ہوا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
67۔ ہر خبر کے ظہور کا ایک وقت مقرر [74] ہے اور عنقریب آپ کو سب کچھ معلوم ہو جائے گا
[74] سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا عمرہ کے لئے آنا:۔
اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے کہ انصار کے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنگ بدر سے پہلے عمرہ کی نیت سے مکہ آئے اور اپنے حلیف دوست امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے اور اس سے اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس وقت ابو جہل رئیس مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ کوئی مسلمان کعبہ میں داخل ہونے اور طواف نہ کرنے پائے۔ امیہ بن خلف رواداری کی وجہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو کعبہ لے گیا وہ طواف کر ہی رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھ لیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر برس پڑا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کڑک کر جواب دیا کہ اگر تم مجھے روکو گے تو میں تمہارے تجارتی قافلہ کی راہ روک کر تمہارا ناک میں دم کر دوں گا۔ امیہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ابو جہل سے آرام سے بات کرو۔ یہ مکہ کا سردار ہے۔
امیہ بن خلف کے حق میں پیشین گوئی:۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم ابو جہل کی اتنی طرف داری نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم ان کے اصحاب کے ہاتھوں قتل ہو گے۔ امیہ نے پوچھا ”کیا یہاں مکہ میں؟“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں یہ نہیں جانتا۔ پھر کہنے لگے کہ تمہارے قتل کا سبب یہی ابو جہل بنے گا۔ [بخاري۔ كتاب المناقب۔ باب علامات النبوة فى الاسلام]
یہ ایک خبر تھی اور اس خبر کے ظہور کا وقت جنگ بدر تھا۔ اس جنگ میں ابو جہل امیہ بن خلف کو سخت مجبور کر کے لے گیا۔ جہاں یہ دونوں انتہائی ذلت کے ساتھ قتل ہوئے۔ ایسے ہی وحی سے معلوم شدہ ہر خبر اور عذاب کے ظہور کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اس کا ظہور ہو کے رہتا ہے اور یہی مستقر کا مطلب ہے۔
یہ ایک خبر تھی اور اس خبر کے ظہور کا وقت جنگ بدر تھا۔ اس جنگ میں ابو جہل امیہ بن خلف کو سخت مجبور کر کے لے گیا۔ جہاں یہ دونوں انتہائی ذلت کے ساتھ قتل ہوئے۔ ایسے ہی وحی سے معلوم شدہ ہر خبر اور عذاب کے ظہور کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اس کا ظہور ہو کے رہتا ہے اور یہی مستقر کا مطلب ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس قرآن کو اور جس ہدایت و بیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھٹلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئیے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ» ۱؎ [18-الكهف:29] ’ کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے ‘، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ» ۱؎ [18-الكهف:29] ’ کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے ‘، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے۔
پھر فرمایا ’ جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آ جائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو ‘۔
اس آیت میں گو فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بے جا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبردستی مجبور کرکے کرائے جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2045،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» ۱؎ [4-النساء:140] یعنی ’ تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر ‘، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو۔
اس آیت میں گو فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بے جا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبردستی مجبور کرکے کرائے جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2045،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» ۱؎ [4-النساء:140] یعنی ’ تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر ‘، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو۔
پھر فرمان ہے کہ ’ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں ‘۔
دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بے گناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» ۱؎ [4-النساء:140]سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ’ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں ‘۔
دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بے گناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» ۱؎ [4-النساء:140]سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ’ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں ‘۔