قُلۡ ہُوَ الۡقَادِرُ عَلٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَ عَلَیۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّ یُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾
کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پائوں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے، دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ سمجھیں۔
En
کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں
En
آپ کہئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروه گروه کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے۔ آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دﻻئل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وه سمجھ جائیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 65) {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ …:} اوپر سے عذاب جیسے بارش کی کثرت، طوفان، آسمانی بجلی، اولے اور آندھی وغیرہ، یا ظالم حکمران، یا عورت کے لیے اس پر ظلم کرنے والا خاوند اور نیچے سے عذاب، جیسے زلزلہ، قحط، زمین میں دھنس جانا، یا ایسے ماتحت جو خائن اور بد دیانت ہوں، مرد کے لیے ناموافق بیوی۔ {” اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا “} یعنی مختلف گروہ بنا کر انھیں آپس میں گتھم گتھا کر دے، یہ لڑائی بھی خوفناک عذاب ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ”کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے “ تو آپ نے دعا کی: ” میں تیرے چہرے کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر یہ نازل ہوا: ”یا تمھارے نیچے سے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”میں تیرے چہرے کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر یہ نازل ہوا:”یا تمھیں گروہ بنا کر آپس میں گتھم گتھا کر دے “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان دونوں سے ہلکا عذاب ہے۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «قل ھو القادر علٰی…» : ۴۶۲۸]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں:(1) میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری ساری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی۔ (2) میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری ساری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو بھی قبول فرما لیا۔ (3) میں نے دعا کی کہ میری امت کو آپس میں اختلاف اور انتشار سے بچائے تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو قبول نہیں فرمایا۔“ [مسلم، الفتن، باب ہلاک ہذہ الأمۃ بعضھم ببعض: ۲۸۹۰]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں:(1) میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری ساری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی۔ (2) میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری ساری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو بھی قبول فرما لیا۔ (3) میں نے دعا کی کہ میری امت کو آپس میں اختلاف اور انتشار سے بچائے تو اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو قبول نہیں فرمایا۔“ [مسلم، الفتن، باب ہلاک ہذہ الأمۃ بعضھم ببعض: ۲۸۹۰]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
65۔ 1 یعنی آسمان، جیسے بارش کی کثرت، یا ہوا، پتھر کے ذریعے سے عذاب یا امرا اور احکام کی طرف سے ظلم و ستم۔ 65۔ 2 جیسے دھنسا جانا، طوفانی سیلاب، جس میں سب کچھ غرق ہوجائے۔ یا مراد ہے ماتحتوں، غلاموں اور نوکروں چاکروں کی طرف سے عذاب کہ وہ بدیانت اور خائن ہوجائیں۔ 65۔ 3 یَلْبِسَکُمْ ای یخلط امرکم تمہارے معاملے کو خلط ملط یا مشتبہ کردے جس کی وجہ سے تم گروہوں اور جماعتوں میں بٹ جاؤ ویذیق اي یقتل بعضکم بعضا فتذیق کل طائفۃ الاخری اَلَمَ الْحَرْبِ تمہارا ایک دوسرے کو قتل کرنا اس طرح ہر گروہ دوسرے گروہ کی لڑائی کا مزہ چکھے۔ حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں 1۔ میری امت غرق کے ذریعے ہلاک نہ کی جائے 2۔ قحط عام کے ذریعے اس کی تباہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی دو دعائیں قبول فرمالیں اور تیسری دعا سے مجھے روک دیا گیا (صحیح مسلم، نمبر 2216) یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ امت محمدیہ میں اختلاف و الشقاق واقع ہوگا اور اس کی وجہ اللہ کی نافرمانی اور قرآن پاک و حدیث سے اعراض (منہ پھیرنا) ہوگا جس کے نتیجے میں عذاب کی اس صورت سے امت محمدیہ بھی محفوظ نہ رہ سکے گی۔ گویا اس کا تعلق اس سنت اللہ سے ہے جو قوموں کے اخلاق و کردار کے بارے میں ہمیشہ رہی ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں۔ فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا ولن تجد لسنت اللہ تحویلا (فاطر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ آپ ان سے کہئے: کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تم پر تمہارے اوپر سے کوئی عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر کوئی عذاب مسلط کر دے یا تمہیں فرقے فرقے بنا کر ایک فرقے کو دوسرے سے لڑائی (کا مزا) چکھا [72] دے۔ دیکھئے ہم کس طرح مختلف طریقوں سے آیات بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائیں
[72] عذاب کی قسمیں:
اس آیت میں عذاب کی تین اقسام بیان فرمائیں۔
(1) عذاب سماوی جیسے طوفان بادو باراں، کڑک، بجلی کا گرنا، تیز آندھی، پتھروں کی بارش وغیرہ۔
(2) عذاب ارضی جیسے دریاؤں کا سیلاب، زلزلے اور زمین میں دھنس جانا۔
(3) فرقہ بازی۔ خواہ یہ مذہبی قسم کی ہو یا سیاسی یا قبائلی ہو۔ یہ تینوں قسم کے عذاب اگلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔ تیسری قسم کا عذاب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی موجود تھا۔ حرب فجار اور حرب بعاث مکہ میں حرب فجار اور مدینہ میں حرب بعاث نے خاندانوں کے خاندان تباہ کر دیئے تھے۔ سینکڑوں گھرانے اجڑ گئے مگر یہ قبائلی جنگیں ختم ہونے میں نہ آتی تھیں اور پہلی دو قسموں کا عذاب اس وقت آیا کرتا تھا جب کسی قوم کا اس کی سرکشی کی بنا پر مکمل طور پر استیصال مقصود ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب قسم کے عذابوں سے پناہ مانگی اور دعا کی کہ میری امت پر ایسے عذاب نہ آئیں۔ چنانچہ پہلی دو قسم کے عذابوں کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو گئی مگر تیسری قسم کے متعلق قبول نہیں ہوئی یعنی پہلی دو قسم کا عذاب اس امت کے کلی استیصال کے لئے نہیں آئے گا البتہ جزوی طور پر آسکتا ہے۔ رہا تیسری قسم کا عذاب تو وہ اس امت میں موجود ہے جس نے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے مسلمانوں کو ایک مقہور اور مغلوب قوم بنا رکھا ہے اور یہ بھی سرکشی اور اللہ کے احکام کی نافرمانی کا ہی نتیجہ ہے۔
(1) عذاب سماوی جیسے طوفان بادو باراں، کڑک، بجلی کا گرنا، تیز آندھی، پتھروں کی بارش وغیرہ۔
(2) عذاب ارضی جیسے دریاؤں کا سیلاب، زلزلے اور زمین میں دھنس جانا۔
(3) فرقہ بازی۔ خواہ یہ مذہبی قسم کی ہو یا سیاسی یا قبائلی ہو۔ یہ تینوں قسم کے عذاب اگلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔ تیسری قسم کا عذاب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی موجود تھا۔ حرب فجار اور حرب بعاث مکہ میں حرب فجار اور مدینہ میں حرب بعاث نے خاندانوں کے خاندان تباہ کر دیئے تھے۔ سینکڑوں گھرانے اجڑ گئے مگر یہ قبائلی جنگیں ختم ہونے میں نہ آتی تھیں اور پہلی دو قسموں کا عذاب اس وقت آیا کرتا تھا جب کسی قوم کا اس کی سرکشی کی بنا پر مکمل طور پر استیصال مقصود ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب قسم کے عذابوں سے پناہ مانگی اور دعا کی کہ میری امت پر ایسے عذاب نہ آئیں۔ چنانچہ پہلی دو قسم کے عذابوں کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو گئی مگر تیسری قسم کے متعلق قبول نہیں ہوئی یعنی پہلی دو قسم کا عذاب اس امت کے کلی استیصال کے لئے نہیں آئے گا البتہ جزوی طور پر آسکتا ہے۔ رہا تیسری قسم کا عذاب تو وہ اس امت میں موجود ہے جس نے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے مسلمانوں کو ایک مقہور اور مغلوب قوم بنا رکھا ہے اور یہ بھی سرکشی اور اللہ کے احکام کی نافرمانی کا ہی نتیجہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔