ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 46

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰہُ سَمۡعَکُمۡ وَ اَبۡصَارَکُمۡ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ مَّنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِہٖ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمۡ یَصۡدِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾
کہہ کیا تم نے دیکھا اگر اللہ تمھاری سماعت اور تمھاری نگاہوں کو لے لے اور تمھارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھیں یہ چیزیں لا دے؟ دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، پھر وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔ En
(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں
En
آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت اور بصارت بالکل لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ تم کو پھر دے دے۔ آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دﻻئل کو مختلف پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں پھر بھی یہ اعراض کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46){ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ …:} فرمایا، اب تو تمھارے کان، آنکھیں اور دل موجود ہیں، اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور آیات سن کر، دیکھ کر اور ان سے متعلق سوچ کر کفر سے نجات حاصل کر سکتے ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو لے ہی جائے اور دلوں پر مہر لگا دے تو بتاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہے جو یہ نعمتیں واپس دے دے؟ اس لیے ان کے جانے سے پہلے پہلے توبہ کر لو اور اس میں ہر گز دیر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے حقائق بیان کرتا ہے، تاکہ لوگ حقائق سے آگاہ ہو جائیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے اور اللہ کی آیات سے بے رخی پر قائم رہتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 آنکھیں کان اور دل، یہ انسان کے نہایت اہم اعضا ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان کی وہ خصوصیات سلب کرلے، جو اللہ نے ان کے اندر رکھی ہیں یعنی سننے دیکھنے اور سمجھنے کی خصوصیات، جس طرح کافروں کے یہ اعضا ان خصوصیات سے محروم ہوتے ہیں۔ یا اگر وہ چاہے تو اعضا کو ویسے ہی ختم کر دے، وہ دونوں ہی باتوں پر قادر ہے، اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ مگر یہ کہ وہ خود کسی کو جچانا چاہے آیات کو مختلف پہلووں سے پیش کرنے کا مطلب ہے کبھی انذار وتبشیر اور ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اور کبھی کسی اور ذریعے سے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ آپ ان سے پوچھئے: بھلا دیکھو تو! اگر اللہ تمہاری سماعت اور تمہاری آنکھیں سلب کر لے اور تمہارے دلوں [49] پر مہر لگا دے تو اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو یہ چیزیں تمہیں واپس لادے؟“ دیکھئے ہم کیسے بار بار اپنی آیات بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ منہ موڑ جاتے ہیں
[49] آنکھ، کان اور دل اللہ کی آیات کیسے ہیں؟
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین نعمتوں کا ذکر کر کے انہیں اپنی آیات یا اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرنے والی نشانیاں قرار دیا ہے سب سے پہلے سماعت کا ذکر کہ کس طرح کسی آواز سے ہوا میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ لہریں کان کے پردوں سے ٹکراتی ہیں۔ اس تصادم کی آواز اعصاب کے ذریعہ دماغ تک پہنچتی ہے۔ دماغ فوراً اس آواز کا مطلب و مفہوم سمجھتا ہے اور پھر انسان اپنی زبان سے فوراً بات کرنے والے کو اس کا جواب دیتا ہے اور یہ سب کام اتنی جلدی وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ بات کرنے والے کو فوراً اس کا جواب مل جاتا ہے۔ یہی صورت بصارت کی ہے۔ آنکھ کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس چیز کی تصویر یا فوٹو یا عکس عدسہ پر پڑتا ہے۔ پھر وہی تصویر باریک سی نالیوں کے ذریعے دماغ کے پردہ پر پڑتی ہے اور دماغ فوراً یہ فیصلہ دیتا ہے کہ جو چیز آنکھ نے دیکھی وہ فلاں چیز ہے، فلاں رنگ کی ہے اور اس کی شکل اور قد و قامت اتنا اور اتنا ہے۔ دل کا نظام ان سے بھی پیچیدہ ہے۔ قوت تمیز، عقل ارادہ و اختیار کی سب قوتیں اس سے متعلق ہیں۔ کسی بات کو سوچنا، تدبیر کرنا اور فیصلہ کرنا سب کچھ اسی کا کام ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ اس سماعت، بصارت یا دل کے عمل کو اور اس کے نظام کو سلب کر لے تو کیا ان مشرکوں کے کسی الٰہ میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس نظام کو بحال کر دے؟ لیکن یہ لوگ تو اللہ کی ان آیات میں غور ہی نہیں کرتے بلکہ جہاں اللہ کی آیات کا ذکر ہوتا ہو وہاں سے اپنا رخ ہی موڑ لیتے ہیں۔ اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان نے جتنے بھی کمالات حاصل کیے ہیں۔ خواہ ان کا تعلق ایجادات سے ہو یا علم اور فلسفہ سے یا انسان کی خوشحالی اور حسن تدبیر سے، اور یہی وہ چیزیں ہیں جن پر انسان فخر و ناز کرتا ہے اور پھولا نہیں سماتا۔ حالانکہ ان تمام چیزوں کے حصول کا ذریعہ یہی آنکھیں، کان اور دل ہیں اور یہ خالصتاً اللہ کا عطیہ ہیں۔ پھر اگر اللہ اپنی دی ہوئی چیز واپس لے لے تو ان کے کسی الٰہ میں یہ قدرت ہے کہ وہ ان کی یہ چیزیں بحال کر دے؟ اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو اللہ کے کاموں میں شریک کیسے ہوئے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ’ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں ‘، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» ۱؎ [67-الملك:23]‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں ‘، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» ۱؎ [10۔ یونس:31]‏‏‏‏ ’ کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ ‘ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [8۔ الأنفال:24]‏‏‏‏ ’ جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے ‘۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ’ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ ‘ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ’ ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ ‘ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82]‏‏‏‏ ’ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے ‘۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔