ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 45

فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۵﴾
تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ En
غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)
En
پھر ﻇالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) {فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا…:} یعنی وہ سب نیست و نابود کر دیے گئے اور ان کی ہلاکت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی، جس پر ہر چیز نے سکھ کا سانس لیا اور ان کا نام و نشان مٹنے پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، جس نے رب العالمین ہونے کی وجہ سے اپنی مخلوق پر رحم فرما کر زمین کو ان کے وجود سے پاک کیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 اس میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ یہی بیان فرماتا ہے کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں، یہاں تک کہ جب اس میں خوب مگن ہوجاتی ہیں اور اپنی مادی خوش حالی و ترقی پر اترانے لگ جاتی ہیں تو پھر ہم اچانک انھیں اپنے مواخذے کی گرفت میں لے لیتے ہیں اور جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ حدیث میں بھی آتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل دینا) ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، قرآن کریم کی آیت اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ دنیاوی ترقی اور خوشحالی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ جس فرد یا قوم کو یہ حاصل ہو تو وہ اللہ کی چہیتی اور اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے جیسا کہ بعض لوگ ایسا سمجھتے ہیں بلکہ بعض تو انھیں (اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ) 21:15 (مصداق قرار دیکر انھیں اللہ کے نیک بندے تک قرار دیتے ہیں) ایسا سمجھنا اور کہنا غلط ہے۔ گمراہ قوموں یا افراد کی دنیاوی خوش حالی ابتلا اور مہلت کے طور پر ہے نہ کہ یہ ان کے کفر و معاصی کا صلہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ اس طرح ان ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور ہر طرح کی تعریف [48] تو اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ (جس نے ایسے ظالموں کو نیست و نابود کر دیا)
[48] یعنی یہ بھی اللہ کا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ظالموں کو وقتاً فوقتاً نیست و نابود کرتا رہتا ہے تاکہ مظلوم لوگ ان کے ظلم و ستم سے نجات پا کر اپنی زندگی آرام اور چین سے گزار سکیں۔ جنہوں نے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔