ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 41

بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۴۱﴾
بلکہ تم اسی کو پکاروگے، تو وہ دور کر دے گا جس کی طرف تم اسے پکارو گے، اگر اس نے چاہا اور تم بھول جاؤ گے جو شریک بناتے ہو۔ En
بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو
En
بلکہ خاص اسی کو پکارو گے، پھر جس کے لئے تم پکارو گے اگر وه چاہے تو اس کو ہٹا بھی دے اور جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو ان سب کو بھول بھال جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 40 میں تا آیت 42 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 اَرَءَیْتَکُمْ میں کاف اور میم خطاب کے لیے ہے اس کے معنی اخبرونی (مجھے بتلاؤ یا خبر دو) کے ہیں۔ اس مضمون کو بھی قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے (دیکھئے سورة ء بقرہ آیت 561 کا حاشیہ) اس کا مطلب یہ ہوا کہ توحید انسانی فطرت کی آواز ہے۔ انسان ماحول، یا آباؤ اجداد کی مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا رہتا ہے اور غیر اللہ کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھتا رہتا ہے۔ نذر نیاز بھی انھی کے نام نکالتا ہے لیکن جب کسی مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو پھر سب بھول جاتا ہے اور فطرت ان سب پر غالب آجاتی ہے اور بےاختیار پھر اسی ذات کو پکارتا ہے جس کو پکارنا چاہیئے۔ کاش لوگ اسی فطرت پر قائم رہیں کہ نجات اخروی تو مکمل طور پر اسی صدائے فطرت یعنی توحید کے اختیار کرنے میں ہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ بلکہ اس وقت تم صرف [46] اللہ ہی کو پکارو گے۔ پھر جس تکلیف کے لئے تم اسے پکارتے ہو اگر وہ چاہے تو اسے دور بھی کر دیتا ہے۔ اس وقت تو جنہیں تم شریک بناتے ہو، انہیں بھول جاتے ہو
[46] عکرمہ بن ابو جہل کا اسلام لانا:۔
مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ مصیبت کے وقت اور بالخصوص جب ان کا جہاز طوفان کی زد میں آجاتا تو اپنے معبودوں کو پکارنا شروع کر دیتے پھر جب وہ مصیبت نہ ٹلتی اور موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی تو کہتے اب صرف ایک اللہ ہی کو پکارو۔ ان کی اسی عادت کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے اور ایک انسان کو ہدایت کی راہ پانے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اس خیال سے مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ مفتوحین سے پتہ نہیں کیسا سلوک کیا جائے گا۔ جدہ پہنچے اور وہاں سے کشتی پر سوار ہو کر حبشہ کی راہ لی۔ راستہ میں کشتی طوفان میں گھر گئی تو مشرکوں نے اپنی عادت کے مطابق اپنے دیوی دیوتاؤں کو پکارنا شروع کر دیا طوفان بڑھتا ہی گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کشتی اب ڈوبی کہ ڈوبی۔ مصیبت میں صرف اللہ ہی کام آتا ہے؟ اس وقت مشرک کہنے لگے: اب صرف اللہ ہی کو پکارو۔ وہی ہمیں اس مصیبت سے اور موت سے نجات دے سکتا ہے۔ ایسے نازک وقت میں یہ جملہ سن کر عکرمہ کی آنکھیں کھل گئیں وہ سوچنے لگے کہ اگر سمندر میں مصیبت کے وقت اللہ ہی کام آتا ہے تو خشکی میں بھی اللہ ہی کام آنا چاہیے۔ وہ سوچنے لگے کہ بیس سال ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی بات پر لڑتے رہے وہ کہتے تھے مصیبت میں کام آنے والا صرف اللہ ہے اور تمہارے معبود نہ تمہار کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں چنانچہ اس نے عہد کیا کہ اگر آج زندگی بچ گئی تو سیدھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان کی بیعت کر لوں گا۔ اللہ کا کرنا ہوا کہ طوفان تھم گیا اور کشتی والوں کی زندگیاں بچ گئیں۔ عکرمہ واپس آگئے اور آکر اسلام قبول کر لیا اور باقی عمر خدمت اسلام میں صرف کر دی۔
حق پرستی کا جذبہ انسان میں موجود ہے:۔
یہ بات صرف عکرمہ تک ہی محدود نہیں بلکہ جب موت سامنے نظر آنے لگتی ہے تو دہریہ قسم کے لوگوں کی زبان پر بھی بے اختیار اللہ کا نام آجاتا ہے اور اسے فریاد کے طور پر پکارنے لگتے ہیں۔ جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ انسان خواہ کتنی ہی ضد اور ہٹ دھرمی کرتا رہے اس کے اندر فطری طور پر حق پرستی کا داعیہ رکھ دیا گیا ہے وہ آڑے وقتوں میں بے اختیار کھل کر سامنے آجاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ’ خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو ‘۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» ۱؎ [17-الإسراء:67]‏‏‏‏ ’ سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے ‘۔
’ ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ ‘
’ بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔‏‏‏‏
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔‏‏‏‏
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے }۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع]‏‏‏‏۔