ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 21

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے اللہ پر کوئی جھوٹ باندھا، یا اس کی آیات کو جھٹلایا، بے شک حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔ En
اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے
En
اور اس سے زیاده بےانصاف کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اللہ کی آیات کو جھوٹا بتلائے ایسے بےانصافوں کو کامیابی نہ ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) {وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى …:} یعنی اگر میں نے جھوٹ بولا تو مجھ سے بڑا ظالم کوئی نہیں اور اگر میں نے سچ پہنچایا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے زیادہ گناہ گار کوئی نہیں، پس اپنی فکر کرو۔ (موضح) اب اس آیت میں ان کے خسارے کا سبب بیان فرمایا۔ (رازی) خسارے کا پہلا سبب افتراء علی اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا قرار دیا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ کفار مکہ کے دین کی بنیاد ہی جھوٹ گھڑنے پر تھی۔ بتوں کو اللہ کا شریک قرار دینا، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا اور بحیرہ و سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دینا، یہ سب چیزیں جھوٹ گھڑنے پر مبنی تھیں۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کے دین میں بہت سے افترا شامل ہوگئے تھے، مثلاً وہ تورات و انجیل کو ناقابل نسخ قرار دیتے، اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے حبیب کہتے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بہت سی جہالت کی باتیں کرتے تھے۔ خسارے کا دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا ہے، جس میں معجزات و احکام کو جھٹلانا بھی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار وہ تیس کذاب بھی شامل ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی۔ [مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ …: ۸۴؍۲۹۲۳] جن میں مرزا قادیانی اور اسے نبی کہنے والے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے کوئی جھوٹی حدیث لگانے والے بھی، کیونکہ آپ کے ذمے کوئی بات لگانے والا درحقیقت وہ بات اللہ کے ذمے لگا رہا ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 یعنی جس طرح اللہ پر جھوٹ گھڑنے والا (یعنی نبوت کا جھوٹا دعوا کرنے والا) سب سے بڑا ظالم ہے، اس طرح وہ بھی بڑا ظالم ہے جو اللہ کی آیات اور اس کے سچے رسول کی تکذیب کرے۔ جھوٹے دعوے نبوت پر اتنی سخت وعید کے باوجود یہ واقعہ ہے کہ متعدد لوگوں نے ہر دور میں نبوت کے جھوٹے دعوے کیئے ہیں اور یوں یقینا نبی کی پیش گوئی کی تیس جھوٹے دجال ہونگے۔ ہر ایک کا دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ گزستہ صدی میں بھی قادیاں کے ایک شخص نے نبوت کا دعوا کیا اور آج اس کے پیروکار اس لئے سچا نبی اور بعض مسیح معبود مانتے ہیں کہ اسے ایک قلیل تعداد نبی مانتی ہے۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا کسی جھوٹے کو سچا مان لینا، اس کی سچائی کی دلیل نہیں بن سکتا۔ صداقت کے لئے تو قرآن و حدیث کے واضح دلائل کی ضرورت ہے۔ 21۔ 2 جب یہ دونوں ہی ظالم ہیں تو نہ (جھوٹ گھڑنے والا) کامیاب ہوگا اور نہ ہی تکذیب (جھٹلانے والا) اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے انجام پر اچھی طرح غور کرلے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو جھوٹی بات کو اللہ کے [24] ذمہ لگا دے یا اس کی آیات [25] کو جھٹلائے۔ یقیناً ایسے ظالم فلاح نہیں پا سکتے
[24] شرکیہ عقائد کی قسمیں:۔
مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں تصرف کے اختیارات بعض اولیاء اللہ کو بھی دے رکھے ہیں جیسا کہ مشرکین کا اپنے دیوی دیوتاؤں کے متعلق عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کر سکتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا و فریاد کب سنتا ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی فریاد کسی بزرگ کو سنائیں اور وہ ہماری فریاد اللہ تک پہنچا دے۔ یا یہ دعویٰ کرنا کہ اللہ کے ساتھ دوسری بھی بہت سی ہستیاں اس کائنات کی خدائی میں اس کی شریک اور ممد و معاون ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ ہمارا فلاں بزرگ قیامت کے دن ہماری سفارش کر کے ہمیں اللہ کی گرفت اور عذاب الٰہی سے چھڑا لے گا۔ ایسی سب باتیں اللہ پر بہتان اور شرک کا سرچشمہ ہیں۔
[25] اللہ کی آیات کون کون سی ہیں:۔
آیات سے مراد صرف قرآن کی آیات ہی نہیں بلکہ وہ آیات بھی ہیں جو انسان کے جسم کے اندر موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت پر دلیل ہونے کے علاوہ اس کے وحدہ لاشریک ہونے پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ نیز وہ آیات بھی جو انسان کے باہر پوری کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں اب جو شخص ان سب طرح کی آیات سے اعراض کرتا جائے تو اس کی نجات کیسے ممکن ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔