مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِہَا ۚ وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾
جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہوں گی اور جو برائی لے کر آئے گا سو اسے جزا نہیں دی جائے گی، مگر اسی کی مثل اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
En
اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
En
جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ﻇلم نہ ہوگا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 160) ➊ { مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ……:} اﷲ تعالیٰ ڈرانے کے ساتھ بشارت کا سلسلہ بھی جاری رکھتا ہے، اب اﷲ تعالیٰ کا نیکی کرنے والوں پر اپنے فضل اور برائی کرنے والوں پر عدل کا بیان ہے۔ نیکی کرنے والوں کی نیکی میں دس گنا اضافہ کم از کم ہے، ورنہ وہ سات سو گنا سے لے کر بے حساب تک بھی بڑھایا جاتا ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اﷲ میں خرچ کرنے والے کی مثال ایک دانے کو سات سو دانوں تک بڑھانے کے ساتھ اپنی مرضی کے ساتھ اس سے بھی بڑھانے کی بات فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۱) خوشے کی مثال کا جہاد سے تعلق سمجھنے کے لیے سورۂ بقرہ(۲۷۳) اور سورۂ توبہ(۶۰) ملاحظہ فرمائیں۔ جہاد کے ساتھ دوسری نیکیوں میں سات سو سے بڑھ کر ثواب بھی قرآن میں مذکور ہے، فرمایا: «اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [الزمر: ۱۰] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر پورا پورا دیا جائے گا۔“
➋ { وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ:} یعنی ایک بدی کا بدلہ ایک سے زیادہ کا نہیں دیا جائے گا۔
➌ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص نیکی کا ارادہ کرے، پھر اسے نہ کرے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگر کرے تو دس سے لے کر سات سو گنا سے بہت گنا تک لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے، پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے ایک پوری نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر برائی کا ارادہ کیا اور اسے کر بھی لیا تو اﷲ اس کے لیے ایک ہی برائی لکھتا ہے، یا اﷲ عزوجل اسے بھی مٹا دیتا ہے اور اﷲ کے ہاں ہلاک نہیں ہوتا مگر جو سرے ہی سے ہلاک ہونے والا ہو۔“ [مسلم، الإیمان، باب إذا ھم العبد بحسنۃ ……:۱۳۱۔ بخاری: ۶۴۹۱] اس مقام پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک نفیس بات لکھی ہے کہ برائی چھوڑنے والا جو اسے نہیں کرتا، تین طرح کا ہوتا ہے، کبھی تو وہ اسے اﷲ تعالیٰ کی خاطر چھوڑتا ہے، اس پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے کہ برائی سے اﷲ کے لیے رک جانا ایک عمل اور نیت ہے، جیسا کہ بعض صحیح احادیث میں ہے کہ اس نے اسے میری خاطر چھوڑا ہے اور کبھی وہ غفلت یا بھول کی وجہ سے برائی نہیں کرتا، اسے نہ گناہ ہے نہ ثواب، کیونکہ اس کی نیت نہ خیر کی ہے نہ شر کی اور کبھی اپنی پوری کوشش کے باوجود بس نہ چلنے کی وجہ سے کر نہیں سکتا، تو یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے وہ برائی کی ہو، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔“ لوگوں نے پوچھا: ”یا رسول اﷲ! یہ تو قاتل ہے، مقتول کا کیا معاملہ ہے؟“ فرمایا: ”وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کی حرص رکھتا تھا۔“ [بخاری، الإیمان، باب: «و إن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا ……» : ۳۱۔ مسلم: ۲۸۸۸]
➋ { وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ:} یعنی ایک بدی کا بدلہ ایک سے زیادہ کا نہیں دیا جائے گا۔
➌ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص نیکی کا ارادہ کرے، پھر اسے نہ کرے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگر کرے تو دس سے لے کر سات سو گنا سے بہت گنا تک لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے، پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے ایک پوری نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر برائی کا ارادہ کیا اور اسے کر بھی لیا تو اﷲ اس کے لیے ایک ہی برائی لکھتا ہے، یا اﷲ عزوجل اسے بھی مٹا دیتا ہے اور اﷲ کے ہاں ہلاک نہیں ہوتا مگر جو سرے ہی سے ہلاک ہونے والا ہو۔“ [مسلم، الإیمان، باب إذا ھم العبد بحسنۃ ……:۱۳۱۔ بخاری: ۶۴۹۱] اس مقام پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک نفیس بات لکھی ہے کہ برائی چھوڑنے والا جو اسے نہیں کرتا، تین طرح کا ہوتا ہے، کبھی تو وہ اسے اﷲ تعالیٰ کی خاطر چھوڑتا ہے، اس پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے کہ برائی سے اﷲ کے لیے رک جانا ایک عمل اور نیت ہے، جیسا کہ بعض صحیح احادیث میں ہے کہ اس نے اسے میری خاطر چھوڑا ہے اور کبھی وہ غفلت یا بھول کی وجہ سے برائی نہیں کرتا، اسے نہ گناہ ہے نہ ثواب، کیونکہ اس کی نیت نہ خیر کی ہے نہ شر کی اور کبھی اپنی پوری کوشش کے باوجود بس نہ چلنے کی وجہ سے کر نہیں سکتا، تو یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے وہ برائی کی ہو، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔“ لوگوں نے پوچھا: ”یا رسول اﷲ! یہ تو قاتل ہے، مقتول کا کیا معاملہ ہے؟“ فرمایا: ”وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کی حرص رکھتا تھا۔“ [بخاری، الإیمان، باب: «و إن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا ……» : ۳۱۔ مسلم: ۲۸۸۸]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
160۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و احسان کا بیان ہے کہ جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرے گا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا، یہ کم از کم اجر ہے۔ ورنہ قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کی بعض نیکیوں کا اجر کئی سو گنا ہے بلکہ ہزار گنا تک ملے گا۔ 160۔ 2 یعنی جن گناہوں پر سزا مقرر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب کے بعد اس نے اس سے توبہ بھی نہیں کی یا اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب نہ آئیں یا اللہ نے اپنے فضل خاص سے اسے معاف نہیں فرمادیا کیونکہ ان تمام صورتوں میں مجازات کا قانون بروئے عمل نہیں آئے گا تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی برائی کی سزا دے اور اس کے برابر ہی دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
160۔ جو کوئی اللہ کے ہاں کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اسے اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا اسے اتنی ہی سزا دی جائے گی جتنی [183] اس نے برائی کی تھی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
[183] یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان اور رحمت ہے کہ نیکی کے بدلے میں صرف اتنی ہی نیکی کا اجر نہیں بلکہ اس سے بہت زیادہ اجر و ثواب دیتا ہے مگر برائی کا بدلہ اسی قدر ہی دیتا ہے جتنی برائی ہو۔ اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے بھی ہو جاتی ہے۔ نیکی کا بدلہ دس گنا:۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمانا سچ ہے کہ جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو (اے فرشتو!) اس کی ایک نیکی لکھ لو۔ پھر اگر وہ کر چکے تو اس کی دس نیکیاں لکھو۔ اور اگر وہ برائی کا ارادہ کرے تو کچھ بھی نہ لکھو۔ اور اگر کر چکے تو ایک ہی برائی لکھو۔ اور اگر نہ کرے تو اس کے لیے بھی ایک نیکی لکھ دو۔“ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير] اور بخاری میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جو روایت ہے اس میں یوں ہے کہ جب کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرنے کے بعد نیکی کرتا بھی ہے تو اللہ اسے دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں عطا کرتا ہے۔ [بخاري۔ كتاب الرقاق۔ باب من هم بحسنة اوسيئة]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نیکی کا دس گنا ثواب اور غلطی کی سزا برابر برابر ٭٭
ایک اور آیت میں مجملاً یہ آیا ہے کہ «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا» ۱؎ [27-النمل:89] ’ جو نیکی لائے اس کیلئے اس سے بہتر بدلہ ہے ‘۔
اسی آیت کے مطابق بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوتی ہیں ایک میں ہے { تمہارا رب عزوجل بہت بڑا رحیم ہے نیکی کے صرف قصد پر نیکی کے کرنے کا ثواب عطا فرما دیتا ہے اور ایک نیکی کے کرنے پر دس سے ساٹھ تک بڑھا دیتا ہے اور بھی بہت زیادہ اور بہت زیادہ اور اگر برائی کا قصد ہوا پھر نہ کرسکا تو بھی نیکی ملتی ہے اور اگر اس برائی کو کر گزرا تو ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ معاف ہی فرما دے اور بالکل ہی مٹا دے سچ تو یہ ہے کہ ہلاکت والے ہی اللہ کے ہاں ہلاک ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6491]
اسی آیت کے مطابق بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوتی ہیں ایک میں ہے { تمہارا رب عزوجل بہت بڑا رحیم ہے نیکی کے صرف قصد پر نیکی کے کرنے کا ثواب عطا فرما دیتا ہے اور ایک نیکی کے کرنے پر دس سے ساٹھ تک بڑھا دیتا ہے اور بھی بہت زیادہ اور بہت زیادہ اور اگر برائی کا قصد ہوا پھر نہ کرسکا تو بھی نیکی ملتی ہے اور اگر اس برائی کو کر گزرا تو ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ معاف ہی فرما دے اور بالکل ہی مٹا دے سچ تو یہ ہے کہ ہلاکت والے ہی اللہ کے ہاں ہلاک ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6491]
ایک حدیث قدسی میں ہے { نیکی کرنے والے کو دس گنا ثواب ہے اور پھر بھی میں زیادہ کردیتا ہوں اور برائی کرنے والے کو اکہرا عذاب ہے اور میں معاف بھی کر دیتا ہوں زمین بھر تک جو شخص خطائیں لے آئے اگر اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا تو میں اتنی ہی رحمت سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو میری طرف بالشت بھر آئے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جو ہاتھ بھر آئے میں اس کی طرف دو ہاتھ برھتا ہوں اور جو میری طرف چلتا ہوا آئے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا جاتا ہوں } - ۱؎ [صحیح مسلم:2687]
اس سے پہلے گزری ہوئی حدیث کی طرح ایک اور حدیث بھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ { برائی کا اردہ کر کے پھر اسے چھوڑ دینے والے کو بھی نیکی ملتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ڈر سے چھوڑ دے } چنانچہ بعض روایات میں تشریح آ بھی چکی ہے۔ دوسری صورت چھوڑ دینے کی یہ ہے کہ اسے یاد ہی نہ آئے بھول بسر جائے تو اسے نہ ثواب ہے نہ عذاب کیونکہ اس نے اللہ سے ڈر کر نیک نیتی سے اسے ترک نہیں کیا اور اگر بد نیتی سے اس نے کوشش بھی کی اسے پوری طرح کرنا بھی چاہا لیکن عاجز ہو گیا کر نہ سکا موقعہ ہی نہ ملا اسباب ہی نہ بنے تھک کر بیٹھ گیا تو ایسے شخص کو اس برائی کے کرنے کے برابر ہی گناہ ہوتا ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے سے جنگ کریں تو جو مار ڈالے اور جو مار ڈالا جائے دونوں جہنمی ہیں } لوگوں نے کہا مار ڈالنے والا تو خیر لیکن جو مارا گیا وہ جہنم میں کیوں جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی دوسرے کو مار ڈالنے کا آرزو مند تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31]
اور حدیث میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نیکی کے محض ارادے پر نیکی لکھ لی جاتی ہے اور عمل میں لانے کے بعد دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں برائی کے محض ارادے کو لکھا نہیں جاتا اگر عمل کر لے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اور اگر چھوڑ دے تو نیکی لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے گناہ کے کام کو میرے خوف سے ترک کر دیا } }۔ ۱؎ [ضعیف]
اس سے پہلے گزری ہوئی حدیث کی طرح ایک اور حدیث بھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ { برائی کا اردہ کر کے پھر اسے چھوڑ دینے والے کو بھی نیکی ملتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ڈر سے چھوڑ دے } چنانچہ بعض روایات میں تشریح آ بھی چکی ہے۔ دوسری صورت چھوڑ دینے کی یہ ہے کہ اسے یاد ہی نہ آئے بھول بسر جائے تو اسے نہ ثواب ہے نہ عذاب کیونکہ اس نے اللہ سے ڈر کر نیک نیتی سے اسے ترک نہیں کیا اور اگر بد نیتی سے اس نے کوشش بھی کی اسے پوری طرح کرنا بھی چاہا لیکن عاجز ہو گیا کر نہ سکا موقعہ ہی نہ ملا اسباب ہی نہ بنے تھک کر بیٹھ گیا تو ایسے شخص کو اس برائی کے کرنے کے برابر ہی گناہ ہوتا ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے سے جنگ کریں تو جو مار ڈالے اور جو مار ڈالا جائے دونوں جہنمی ہیں } لوگوں نے کہا مار ڈالنے والا تو خیر لیکن جو مارا گیا وہ جہنم میں کیوں جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی دوسرے کو مار ڈالنے کا آرزو مند تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31]
اور حدیث میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نیکی کے محض ارادے پر نیکی لکھ لی جاتی ہے اور عمل میں لانے کے بعد دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں برائی کے محض ارادے کو لکھا نہیں جاتا اگر عمل کر لے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اور اگر چھوڑ دے تو نیکی لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے گناہ کے کام کو میرے خوف سے ترک کر دیا } }۔ ۱؎ [ضعیف]
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { لوگوں کی چار قسمیں ہیں اور اعمال کی چھ قسمیں ہیں۔ بعض لوگ تو وہ ہیں جنہیں دنیا اور آخرت میں وسعت اور کشادگی دی جاتی ہے بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں کشادگی ہوتی ہے اور آخرت میں تنگی بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں تنگی رہتی ہے اور آخرت میں انہیں کشادگی ملے گی۔ بعض وہ ہیں جو دونوں جہان میں بدبخت رہتے ہیں یہاں بھی وہاں بھی بے آبرو، اعمال کی چھ قسمیں یہ ہیں دو قسمیں تو ثواب واجب کر دینے والی ہیں ایک برابر کا، ایک دس گنا اور ایک سات سو گنا۔ واجب کر دینے والی دو چیزیں وہ ہیں جو شخص اسلام و ایمان پر مرے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو اس کیلئے جنت واجب ہے اور جو کفر پر مرے اس کیلئے جہنم واجب ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرے گو کہ نہ ہو اسے ایک نیکی ملتی ہے اس لیے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے دل نے اسے سمجھا اس کی حرص کی اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اس کے ذمہ گناہ نہیں لکھا جاتا اور جو کر گذرے اسے ایک ہی گناہ ہوتا ہے اور وہ بڑھتا نہیں ہے اور جو نیکی کا کام کرے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور جو راہ اللہ عزوجل میں خرچ کرے اسے سات سو گنا ملتا ہے }۔ ۱؎ [سنن نسائی:3186،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرمان ہے کہ { جمعہ میں آنے والے لوگ تین طرح کے ہیں ایک وہ جو وہاں لغو کرتا ہے اس کے حصے میں تو وہی لغو ہے، ایک دعا کرتا ہے اسے اگر اللہ چاہے دے چاہے نہ دے -تیسرا وہ شخص ہے جو سکوت اور خاموشی کے ساتھ خطبے میں بیٹھتا ہے کسی مسلمان کی گردن پھلانگ کر مسجد میں آگے نہیں بڑھتا نہ کسی کو ایذاء دیتا ہے اس کا جمعہ اگلے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے بلکہ اور تین دن تک کے گناہوں کا بھی اس لیے کہ وعدہ الٰہی میں ہے آیت «مَنْ جَاءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] جو نیکی کرے اسے دس گنا اجر ملتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1113،قال الشيخ الألباني:حسن]
طبرانی میں ہے { جمعہ جمعہ تک بلکہ اور تین دن تک کفارہ ہے اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے نیکی کرنے والے کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے } -۱؎ [طبرانی کبیر:3459:ضعیف و منقطع وله شواهد]
فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اسے سال بھر کے روزوں کا یعنی تمام عمر سارا زمانہ روزے سے رہنے کا ثواب دس روزوں کا ملتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:762،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ ”اس آیت میں حسنہ سے مراد کلمہ توحید ہے اور سیئہ سے مراد شرک ہے۔“ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے لیکن اس کی کوئی صحیح سند میری نظر سے نہیں گذری۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سی حدیثیں اور آثار ہیں لیکن ان شاءاللہ یہ ہی کافی ہیں۔
فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اسے سال بھر کے روزوں کا یعنی تمام عمر سارا زمانہ روزے سے رہنے کا ثواب دس روزوں کا ملتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:762،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ ”اس آیت میں حسنہ سے مراد کلمہ توحید ہے اور سیئہ سے مراد شرک ہے۔“ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے لیکن اس کی کوئی صحیح سند میری نظر سے نہیں گذری۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سی حدیثیں اور آثار ہیں لیکن ان شاءاللہ یہ ہی کافی ہیں۔