وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
اور اگر تو ان لوگوں میں سے اکثر کا کہنا مانے جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے، وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہیں۔
En
اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں
En
اور دنیا میں زیاده لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وه آپ کو اللہ کی راه سے بے راه کردیں وه محض بے اصل خیاﻻت پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 116) {وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ ……: } اﷲ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے نبی کو متنبہ کیا ہے کہ کثرت آپ کے نزدیک حق کی دلیل نہیں ہونی چاہیے اور محض کثرت کی بنیاد پر آپ کو اہل زمین کا اتباع نہیں کرنا چاہیے، ورنہ آپ راہ حق سے ہٹ جائیں گے۔ یہ کفار جو کثیر تعداد میں ہیں، اس جھوٹے گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کے آباء و اجداد حق پر تھے، اس لیے ان کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت اسی دین پر قائم ہے جو ان کا بھی دین ہے۔ یہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے بارے میں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں، کبھی کسی کو اﷲ کا بیٹا کہتے ہیں تو کبھی بتوں کو اﷲ کے پاس اپنا سفارشی بناتے ہیں اور کبھی مردوں اور غیر اﷲ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانوروں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اس آیت سے موجودہ جمہوریت کی حقیقت بھی خوب واضح ہوتی ہے، جس میں اکثریت ہی کو فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ اکثریت سے متعلق اﷲ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ بھی حق پر نہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے: «وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [یوسف: ۱۰۳] ”اور اکثر لوگ خواہ تو حرص کرے ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔“ اور فرمایا: «وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ» [یونس: ۵۵] ”اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔“ اور فرمایا: «وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ» [سبا: ۱۳] ”اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ اور فرمایا: «اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِيْلٌ مَّا هُمْ» [ص: ۲۴] ”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔“
اب ایک طرف اﷲ کا حکم ہو جس سے پکی دلیل کوئی ہو نہیں سکتی اور ایک طرف اکثریت ہو جن کی بنیاد محض ان کے گمان اور اٹکل پر ہے اور اس اٹکل کی بنیاد پر انھوں نے بے شمار حرام چیزوں، مثلاً شرک، سود، زنا، قوم لوط کے عمل وغیرہ کو حلال کر لیا اور بے شمار حلال چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے تو بتائیے حق کس طرف ہو گا؟ اس لیے اس آیت میں اﷲ کے حکم کے مقابلے میں اہل زمین کی اکثریت کی اطاعت سے منع فرمایا۔
اب ایک طرف اﷲ کا حکم ہو جس سے پکی دلیل کوئی ہو نہیں سکتی اور ایک طرف اکثریت ہو جن کی بنیاد محض ان کے گمان اور اٹکل پر ہے اور اس اٹکل کی بنیاد پر انھوں نے بے شمار حرام چیزوں، مثلاً شرک، سود، زنا، قوم لوط کے عمل وغیرہ کو حلال کر لیا اور بے شمار حلال چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے تو بتائیے حق کس طرف ہو گا؟ اس لیے اس آیت میں اﷲ کے حکم کے مقابلے میں اہل زمین کی اکثریت کی اطاعت سے منع فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
116۔ 1 قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا بھی، واقعہ کے طور پر ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سورة یوسف، 13) آپ کی خوہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان والے نہیں، اس سے معلوم ہوا، حق اور صداقت کے راستے پر چلنے والے لوگ ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ جس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ حق وباطل کا معیار، دلائل وبراہین ہیں، لوگوں کی اکثریت و اقلیت نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو اکثریت نے اختیار کیا ہوا ہو، وہ حق ہو اوراقلیت میں رہنے والے باطل پر ہوں۔ بلکہ مذکورہ حقیقت قرآنی کی رو سے یہ زیادہ ممکن ہے کہ اہل حق تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ہوں اور اہل باطل اکثریت میں۔ جس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا، باقی سب جہنمی۔ اور اس جنتی فرقے کی نشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی کہ جو ما انا علیہ واصحابی میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
116۔ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کے کہنے پر چلیں گے تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بہکا دیں [121] گے۔ وہ تو محض ظن کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور صرف قیاس آرائیاں کرتے ہیں
[121] اکثریت کا مذہب محض تقلید اور وہم و قیاس پر ہے:۔
تاریخ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں اہل خرد اور ذہین اور با اصول لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔ معاشرہ کی اکثریت جاہل عوام پر مشتمل ہوتی ہے۔ قرآن نے متعدد مقامات پر ایسی اکثریت کو جاہل، فاسق، ظالم اور مشرک قرار دیا ہے ان لوگوں کا اپنا کوئی اصول نہیں ہوتا۔ نہ انہیں کسی بات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اپنے کھانے پینے کے سوا نہ کسی چیز کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ وہ کوئی اور بات سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ ان کے زندگی گزارنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جس رخ لوگوں کی اکثریت جا رہی ہو ادھر ہی وہ بھی چل پڑتے ہیں۔ وہ کسی بات کی تحقیق نہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ کر سکتے ان کے عقائد اور ان کے اعمال سب کچھ وہم و قیاس پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر چونکہ اکثریت کی آراء مختلف بھی ہوتی ہیں اور بدلتی بھی رہتی ہیں۔ لہٰذا اکثریت کی اتباع ہمیشہ گمراہی پر منتج ہوا کرتی ہے اسی لیے آپ کو اور مسلمانوں کو ان کے کہنے پر چلنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کی ہدایت کا راستہ صرف ایک ہی ہے اور ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اور ایک ہی رہے گا۔ سیدنا آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزماں تک تمام انبیاء کو اسی راستہ پر چلنے کی تاکید کی جاتی رہی ہے لہٰذا طالب حق کو ہرگز وہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے لوگوں کی اکثریت کس راستہ پر چل رہی ہے بلکہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے خواہ اس راہ پر چلنے والوں کی تعداد کتنی ہی قلیل ہو۔ اسی آیت سے موجودہ مغربی جمہوری نظام بھی باطل قرار پاتا ہے جس میں اکثریت کی رائے کو حق کا معیار قرار دیا گیا ہے نیز ہر کس و ناکس کی رائے کو مساوی حیثیت دی گئی ہے۔ اس نظام میں ایک عالم اور ایک جاہل کی رائے کو یکساں درجہ دیا جاتا ہے اور یہ دونوں باتیں قرآن کی صریح آیات کے خلاف ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ’ گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ‘۔
پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بے کار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں توہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بے کار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں توہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔