(آیت 11) {قُلْسِيْرُوْافِيالْاَرْضِ …:} اس سے کفار کو ڈرانا مقصود ہے، یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں جو قومیں پائی گئی ہیں ذرا ان کے حالات اور تاریخ پر غور کرو، تمھیں خود معلوم ہو جائے گا کہ جن قوموں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت سے انکار کیا انھیں کیسے عبرت ناک انجام سے دو چار ہونا پڑا، پھر اس سے اندازہ کر لو کہ اب جو تم ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخری کتاب کا مذاق اڑا رہے ہو تمھارا انجام کیا ہو سکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ آپ ان سے کہئے کہ ذرا زمین میں چل [11] پھر کر دیکھو کہ ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا؟
[11] یعنی ان تباہ شدہ قوموں کے آثار کو نگاہ عبرت سے دیکھو تو حقیقت حال تم پر منکشف ہو جائے گی اور تم اسی نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان تباہ شدہ قوموں میں جو بات قدر مشترک ہے وہ اللہ کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں کی نافرمانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔