(آیت 107) {وَلَوْشَآءَاللّٰهُمَاۤاَشْرَكُوْا …:} یعنی آپ ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان و کفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ وہ فطری طور پر مومن ہونے کے ساتھ کفر یا نافرمانی کر ہی نہیں سکتے، بلکہ ہر طرح فرماں بردار ہیں، لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 اس نکتے کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے کہ اللہ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا تو اسی میں ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ تاہم اس نے اس پر انسانوں کو مجبور نہیں کیا کیونکہ جبر کی صورت میں انسان کی آزمائش نہ ہوتی، ورنہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو ایسے اختیارات ہیں کہ وہ چاہے تو کوئی انسان شرک کرنے پر قادر ہی نہ ہو سکے (مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 253 اور سورة الانعام آیت 35 کا حاشیہ)۔ 17۔ 2 یہ مضمون بھی قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داعیانہ اور مبلغانہ حیثیت کی وضاحت ہے جو منصب رسالت کا تقاضا ہے اور آپ صرف اسی حد تک مکلف تھے اس سے زیادہ آپ کے پاس اگر اختیارات ہوتے تو آپ اپنے محسن چچا ابو طالب کو ضرور مسلمان کرلیتے جن کے قبول اسلام کی آپ شدید خواہش رکھتے تھے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
107۔ اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر محافظ نہیں بنایا، نہ ہی آپ ان کے ذمہ دار ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وحی کے مطابق عمل کرو ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الٰہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے بازپرس کر سکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے۔ جیسے فرمایا «فَذَكِّرْإِنَّمَاأَنتَمُذَكِّرٌلَّسْتَعَلَيْهِمبِمُصَيْطِرٍ»۱؎[88-الغاشية:21-22] ’ نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں ‘ اور فرمایا «فَإِنَّمَاعَلَيْكَالْبَلَاغُوَعَلَيْنَاالْحِسَابُ»۱؎[13-الرعد:40] ’ تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔