ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ۚ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۲۲﴾
وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چھپی اورکھلی چیز کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔
En
وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
En
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے واﻻ مہربان اور رحم کرنے واﻻ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22) ➊ {هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی ضمیروں اور صفات کا ذکر چالیس (۴۰) مرتبہ آیا ہے، چوبیس (۲۴) بار لفظ {” اللّٰهُ “} کے ساتھ اور سولہ (۱۶) مرتبہ ضمیر ظاہر یا صفات عالیہ کے ساتھ۔ غرض پوری سورت ہی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اس کے عجیب و غریب تصرفات کے ذکر سے بھری ہوئی ہے، اس لیے اس کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی صفات عزیز و حکیم کے ساتھ ہوئی ہے اور اختتام بھی اس کی ایسی صفات کے ساتھ ہوا ہے جن کے ذکر سے ایمان والوں کے دلوں میں اس کی خشیت و محبت میں اضافہ ہو اور سرکشوں کو اس کی گرفت اور ہیبت و جلال سے خوف دلایا جائے۔ ساتھ ہی ان صفات میں توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کے دلائل بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہر صفت کا سورت میں مذکور واقعات و مضامین میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ تعلق بھی ہے۔ (ابن عاشور، ملخص)
➋ { هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} اللہ تعالیٰ کی صفات میں سب سے پہلے اس کے ”الٰہ واحد“ ہونے کی صفت بیان فرمائی، کیونکہ یہ دوسری تمام صفات کی اصل ہے۔ دوسری تمام صفات اس صفت کی دلیل ہیں کہ عبادت اس اکیلے کا حق ہے، اس لیے قرآن مجید میں اسم مبارک {” اللّٰهُ “} کے بعد اکثر اس صفت کا ذکر آتا ہے، جیسا کہ آیت الکرسی میں اور سورۂ آلِ عمران کے شروع میں فرمایا: «اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ» ”اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔“
➌ {عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ: ” الْغَيْبِ “} اور {” الشَّهَادَةِ “} مصدر ہیں جو اسم فاعل کے معنی میں ہیں، یعنی غائب و شاہد۔ مبالغے کے لیے اسم فاعل کی جگہ مصدر کا لفظ استعمال کیا گیا، جیسا کہ{” زَيْدٌ عَادِلٌ “} کے بجائے مبالغے کے لیے {” زَيْدٌ عَدْلٌ “} کہہ دیتے ہیں کہ زید سراپا عدل ہے۔ {” الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ “} پر الف لام استغراق کا ہے، یعنی وہ ہر غائب و حاضر کو جاننے والا ہے۔ وحدانیت کے بعد دوسری صفت علم بیان فرمائی، کیونکہ معبود ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہو اور اس کا علم کامل ہو۔ وہ معبود کیسا جسے معلوم ہی نہیں کہ کوئی میری عبادت کر رہا ہے۔ (دیکھیے احقاف: 6،5) {” الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ “} دوسروں کے اعتبار سے فرمایا، ورنہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز غائب نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ ”عالم الغیب“ تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ ہے مگر ”عالم الشہادت“ تو اور لوگ بھی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ”الشہادت“ کا علم بھی اس کے سوا کسی کے پاس نہیں، چند چیزیں جاننے والے کو ”عالم الشہادت “ نہیں کہا جا سکتا۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (10،9) اورسورۂ اعلیٰ (۷) کی تفسیر۔
➍ { هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فاتحہ کی تفسیر۔
➋ { هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} اللہ تعالیٰ کی صفات میں سب سے پہلے اس کے ”الٰہ واحد“ ہونے کی صفت بیان فرمائی، کیونکہ یہ دوسری تمام صفات کی اصل ہے۔ دوسری تمام صفات اس صفت کی دلیل ہیں کہ عبادت اس اکیلے کا حق ہے، اس لیے قرآن مجید میں اسم مبارک {” اللّٰهُ “} کے بعد اکثر اس صفت کا ذکر آتا ہے، جیسا کہ آیت الکرسی میں اور سورۂ آلِ عمران کے شروع میں فرمایا: «اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ» ”اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔“
➌ {عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ: ” الْغَيْبِ “} اور {” الشَّهَادَةِ “} مصدر ہیں جو اسم فاعل کے معنی میں ہیں، یعنی غائب و شاہد۔ مبالغے کے لیے اسم فاعل کی جگہ مصدر کا لفظ استعمال کیا گیا، جیسا کہ{” زَيْدٌ عَادِلٌ “} کے بجائے مبالغے کے لیے {” زَيْدٌ عَدْلٌ “} کہہ دیتے ہیں کہ زید سراپا عدل ہے۔ {” الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ “} پر الف لام استغراق کا ہے، یعنی وہ ہر غائب و حاضر کو جاننے والا ہے۔ وحدانیت کے بعد دوسری صفت علم بیان فرمائی، کیونکہ معبود ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہو اور اس کا علم کامل ہو۔ وہ معبود کیسا جسے معلوم ہی نہیں کہ کوئی میری عبادت کر رہا ہے۔ (دیکھیے احقاف: 6،5) {” الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ “} دوسروں کے اعتبار سے فرمایا، ورنہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز غائب نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ ”عالم الغیب“ تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ ہے مگر ”عالم الشہادت“ تو اور لوگ بھی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ”الشہادت“ کا علم بھی اس کے سوا کسی کے پاس نہیں، چند چیزیں جاننے والے کو ”عالم الشہادت “ نہیں کہا جا سکتا۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (10،9) اورسورۂ اعلیٰ (۷) کی تفسیر۔
➍ { هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فاتحہ کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 غیب مخلوقات کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کے لیے تو کوئی چیز غیب نہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی ہر چیز کو جانتا ہے چاہے وہ ہمارے سامنے ہو یا ہم سے غائب ہو حتی کہ وہ تاریکیوں میں چلنے والی چیونٹی کو بھی جانتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ غائب [27] اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ وہ نہایت مہربان [28] اور رحیم ہے۔
[27] غیب اور شہادت سے کیا مراد ہے؟
شہادت سے مراد وہ تمام اشیاء، واقعات اور علوم ہیں جو انسان کے علم میں آچکے ہیں یا جنہیں وہ مشاہدہ اور تجربہ سے حاصل کر چکا ہے اور غیب سے مراد وہ تمام اشیاء واقعات اور علوم ہیں جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہو سکی۔ خواہ یہ اشیاء عالم اکبر یا کائنات سے متعلق ہوں یا عالم اصغر یا انسان کے جسم کی اندرونی کائنات سے متعلق ہوں۔ اور اللہ کے لیے سرے سے کوئی چیز غائب ہے ہی نہیں۔ اس کے لیے سب کچھ شہادت ہی شہادت ہے۔ اور قرآن میں جہاں یہ غیب اور شہادت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو صرف انسان کو سمجھانے کی غرض سے استعمال ہوئے ہیں۔ اور اللہ کے لیے کوئی چیز غائب اس لیے نہیں ہوتی کہ ہر چیز کو اور ہر واقعہ اور حادثہ کو وجود میں لانے والا تو وہ خود ہے۔ لہٰذا اس سے کوئی چیز مخفی یا غائب کیسے رہ سکتی ہے؟
[28] ﴿رحمٰن﴾ اور ﴿رحيم﴾ میں فرق :۔
وہ ﴿رحمٰن﴾ اور ﴿رحيم﴾ اس لحاظ سے ہے کہ ہر چیز کے وجود، اس کی زندگی اور زندگی کے بقا کے لیے جو جو اشیاء ضروری اور لازمی تھیں وہ اس نے اس کی پیدائش سے پہلے ہی مہیا فرما دی ہیں اور یہ اس کی کمال مہربانی ہے۔ کائنات میں کوئی دوسرا اس غیر محدود رحمت کا حامل نہیں ہے۔ دوسرے جانداروں میں اگر رحم کی صفت پائی بھی جاتی ہے۔ تو ایک تو وہ جزوی اور محدود ہوتی ہے دوسری یہ کہ وہ اس کی ذاتی صفت نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہوتی ہے اور اسے اس لیے عطا کی گئی ہے کہ وہ دوسری مخلوق کی پرورش اور خوشحالی کا ذریعہ بنے۔ جیسے والدین اپنی اولاد کے حق میں رحیم ہوتے ہیں اور یہ چیز بذات خود اس کی رحمت بے پایاں کی دلیل ہے۔ واضح رہے کہ رحمٰن صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور اس میں بہت زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اور اس کا تعلق ان رحمتوں اور انعامات سے ہے جو زندگی اور اس کی بقاء کے لیے ضروری ہیں مثلاً انسان کی پیدائش سے پہلے سورج، چاند، ہوا، بارش اور زمین میں قوت روئیدگی کا انتظام کرنا۔ یا حمل قرار پاتے ہی ماں کے پستانوں کی مشینری کا متحرک ہونا، خون کو دودھ میں تبدیل کرنے کا عمل اور بچہ کی پیدائش پر ماں کے پستانوں میں دودھ اتر آنا اور بچے کو دودھ کی طرف لپکنے اور دودھ چوسنے کا طریقہ سکھانا۔ جبکہ رحیم اللہ کے علاوہ دوسری مخلوق بھی ہو سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بلند و عظیم مرتبہ قرآن مجید ٭٭
قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہو جائیں، کلیجے کپکپائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرا دے، اور دربار اللہ میں سر بسجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہیئے۔
ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و فکر کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا، مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو بھی ڈر اور عاجزی چاہیئے۔
متواتر حدیث میں ہے کہ { منبر تیار ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے جب منبر بن گیا، بچھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے اور وہ تنا دور ہو گیا، تو اس میں سے رونے کی آواز آنے لگی اور اس طرح سسکیاں لے لے کر وہ رونے لگا جیسے کوئی بچہ بلک بلک کر روتا ہو اور اسے چپ کرایا جا رہا ہو کیونکہ وہ ذکر وحی کے سننے سے کچھ دور ہو گیا تھا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:60/1]
ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و فکر کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا، مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو بھی ڈر اور عاجزی چاہیئے۔
متواتر حدیث میں ہے کہ { منبر تیار ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے جب منبر بن گیا، بچھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے اور وہ تنا دور ہو گیا، تو اس میں سے رونے کی آواز آنے لگی اور اس طرح سسکیاں لے لے کر وہ رونے لگا جیسے کوئی بچہ بلک بلک کر روتا ہو اور اسے چپ کرایا جا رہا ہو کیونکہ وہ ذکر وحی کے سننے سے کچھ دور ہو گیا تھا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:60/1]
امام بصریٰ رحمہ اللہ اس حدیث کو بیان کر کے فرماتے تھے کہ ”لوگو ایک کھجور کا تنا اس قدر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شائق ہو تو تمہیں چاہیئے کہ اس سے بہت زیادہ شوق اور چاہت تم رکھو۔“۱؎ [صحیح بخاری:3583]
اسی طرح کی یہ آیت ہے «لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا» ۱؎ [59-الحشر:21] کہ ’ جب ایک پہاڑ کا یہ حال ہو تو تمہیں چاہیئے کہ تم تو اس حالت میں اس سے آگے رہو۔ ‘
اور جگہ فرمانِ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے «وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [13-الرعد:31] یعنی ’ اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے باعث پہاڑ چلا دیئے جائیں یا زمین کاٹ دی جائے یا مردے بول پڑیں ‘ (تو اس کے قابل یہی قرآن تھا، مگر پھر بھی ان کفار کو ایمان نصیب نہ ہوتا)۔
اور جگہ فرمان عالی شان ہے «وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:74]، یعنی ’ بعض پتھر ایسے ہیں جن میں سے نہریں بہہ نکلتی ہیں، بعض وہ ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلتا ہے، بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔‘
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا نہ تو کوئی پالنے اور پرورش کرنے والا ہے، نہ اس کے سوا کسی کی ایسی نشانیاں ہیں کہ اس کی کسی قسم کی عبادت کوئی کرے اس کے سوا جن جن کی لوگ پرستش اور پوجا کرتے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ تمام کائنات کا علم رکھنے والا ہے، جو چیزیں ہم پر ظاہر ہیں اور جو چیزیں ہم سے پوشیدہ ہیں سب اس پر عیاں ہیں، خواہ آسمان میں ہوں، خواہ زمین میں ہوں، خواہ چھوٹی ہوں، خواہ بڑی ہوں، یہاں تک کہ اندھیریوں کے ذرے بھی اس پر ظاہر ہیں، وہ اتنی بڑی وسیع رحمت والا ہے کہ اس کی رحمت تمام مخلوق پر محیط ہے، وہ دنیا اور آخرت میں رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ ہماری تفسیر کے شروع میں ان دونوں ناموں کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔
قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» ۱؎ [7-الأعراف:156] یعنی ’ میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے۔ ‘
اور جگہ فرمان ہے «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ۱؎ [6-الأنعام:54] یعنی ’ تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحم و رحمت لکھ لی ہے۔‘
اور فرمان ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ» ۱؎ [10-يونس:58] ’ کہدو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ ہی خوش ہونا چاہیئے تمہاری جمع کردہ چیز سے بہتر یہی ہے۔ ‘
اسی طرح کی یہ آیت ہے «لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا» ۱؎ [59-الحشر:21] کہ ’ جب ایک پہاڑ کا یہ حال ہو تو تمہیں چاہیئے کہ تم تو اس حالت میں اس سے آگے رہو۔ ‘
اور جگہ فرمانِ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے «وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [13-الرعد:31] یعنی ’ اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے باعث پہاڑ چلا دیئے جائیں یا زمین کاٹ دی جائے یا مردے بول پڑیں ‘ (تو اس کے قابل یہی قرآن تھا، مگر پھر بھی ان کفار کو ایمان نصیب نہ ہوتا)۔
اور جگہ فرمان عالی شان ہے «وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:74]، یعنی ’ بعض پتھر ایسے ہیں جن میں سے نہریں بہہ نکلتی ہیں، بعض وہ ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلتا ہے، بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔‘
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا نہ تو کوئی پالنے اور پرورش کرنے والا ہے، نہ اس کے سوا کسی کی ایسی نشانیاں ہیں کہ اس کی کسی قسم کی عبادت کوئی کرے اس کے سوا جن جن کی لوگ پرستش اور پوجا کرتے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ تمام کائنات کا علم رکھنے والا ہے، جو چیزیں ہم پر ظاہر ہیں اور جو چیزیں ہم سے پوشیدہ ہیں سب اس پر عیاں ہیں، خواہ آسمان میں ہوں، خواہ زمین میں ہوں، خواہ چھوٹی ہوں، خواہ بڑی ہوں، یہاں تک کہ اندھیریوں کے ذرے بھی اس پر ظاہر ہیں، وہ اتنی بڑی وسیع رحمت والا ہے کہ اس کی رحمت تمام مخلوق پر محیط ہے، وہ دنیا اور آخرت میں رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ ہماری تفسیر کے شروع میں ان دونوں ناموں کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔
قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» ۱؎ [7-الأعراف:156] یعنی ’ میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے۔ ‘
اور جگہ فرمان ہے «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ۱؎ [6-الأنعام:54] یعنی ’ تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحم و رحمت لکھ لی ہے۔‘
اور فرمان ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ» ۱؎ [10-يونس:58] ’ کہدو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ ہی خوش ہونا چاہیئے تمہاری جمع کردہ چیز سے بہتر یہی ہے۔ ‘