ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحشر (59) — آیت 21

لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقینا تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔ اور یہ مثالیں ہیں، ہم انھیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ غور وفکر کریں۔ En
اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے۔ اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ فکر کریں
En
اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ { لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ …:} یعنی یہ یہود اور منافقین قرآن مجید کی آیات سننے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے، حالانکہ وہ تو ایسی عظیم الشان اور پر تاثیر کتاب ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ بھی اللہ کے ڈر سے دب جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۷۴] پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں یا سختی میں ان سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ادراک اور سوجھ بوجھ رکھی ہے۔ ان کے سامنے امانت پیش کی گئی، مگر وہ اس سے ڈر گئے اور انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا۔ (دیکھیے احزاب: ۷۲) پہاڑوں اور جمادات میں ادراک کے وجود کے لیے سورۂ بقرہ (۷۳)، بنی اسرائیل (۴۴)، نحل (49،48) اور سورۂ ص (۱۸) کی تفا سیر پر نظر ڈال لیں۔
➋ { وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ …:} یعنی ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں کہ ایسی زبردست تاثیر والی چیز بھی ان کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی تو اس کا سبب کیا ہے، پھر اس سبب کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 اور پہاڑ میں فہم و ادراک کی صلاحیت پیدا کردیتے جو ہم نے انسان کے اندر رکھی ہے۔ 21۔ 2 یعنی قرآن کریم میں ہم نے بلاغت و فصاحت، قوت و استدلال اور وعظ تذکرہ کے ایسے پہلو بیان کئے ہیں کہ انہیں سن کر پہاڑ بھی باوجود اتنی سختی اور وسعت و بلندی کے خوف الٰہی سے ریزہ ریزۃ ہوجاتا۔ یہ انسان کو سمجھایا اور ڈرایا جا رہا ہے کہ تجھے عقل و فہم کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ لیکن قرآن سن کر تیرا دل کوئی اثر قبول نہیں کرتا تو تیرا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ 21۔ 3 تاکہ قرآن کے مواعظ سے وہ نصحیت حاصل کریں اور زواجر کو سن کر نافرمانیوں سے اجتناب کریں بعض کہتے ہیں کہ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے کہ ہم نے آپ پر یہ قرآن مجید نازل کیا جو ایسی عظمت شان کا حامل ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا لیکن یہ آپ پر ہمارا احسان ہے کہ ہم نے آپ کو اتنا قوی اور مضبوط کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو برداشت کرلیا جس کو برداشت کرنے کی طاقت پہاڑوں میں بھی نہیں ہے۔ فتح القدیر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرما رہا ہے جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے [26] دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں۔
[26] قرآن کی عظمت اور انسان کی غفلت :۔
یعنی اگر پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ وہ سمجھ، اختیار اور عقل و شعور عطا کر دیتا، جو انسان کو عطا کی گئی ہے پھر انہیں یہ بتایا جاتا کہ تمہیں اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنا ہو گا اور پھر تمہارے اعمال کی تم سے باز پرس بھی ہو گی تو وہ بھی اس تصور سے کانپ اٹھتے لیکن انسان کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اس بار امانت کو اٹھا لینے کے بعد بھی اس پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ہی اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ اگر اس نے اپنی زندگی غفلت اور خدا فراموشی میں گزار دی تو آخرت میں اپنے پروردگار کے سامنے کیا جواب دے گا اور اس کی گرفت سے کیسے بچ سکے گا۔ بلکہ وہ قرآن سن کر اور تمام حقائق پر مطلع ہونے کے بعد بھی ایسے غیر متاثر رہتا ہے جیسے کوئی بے جان اور بے شعور پتھر ہو۔ جسے ان بے جان چیزوں کے علاوہ کوئی انسانی قوتیں دی ہی نہیں گئیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بلند و عظیم مرتبہ قرآن مجید ٭٭
قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہو جائیں، کلیجے کپکپائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرا دے، اور دربار اللہ میں سر بسجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہیئے۔
ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و فکر کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا، مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو بھی ڈر اور عاجزی چاہیئے۔
متواتر حدیث میں ہے کہ { منبر تیار ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے جب منبر بن گیا، بچھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے اور وہ تنا دور ہو گیا، تو اس میں سے رونے کی آواز آنے لگی اور اس طرح سسکیاں لے لے کر وہ رونے لگا جیسے کوئی بچہ بلک بلک کر روتا ہو اور اسے چپ کرایا جا رہا ہو کیونکہ وہ ذکر وحی کے سننے سے کچھ دور ہو گیا تھا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:60/1]‏‏‏‏
امام بصریٰ رحمہ اللہ اس حدیث کو بیان کر کے فرماتے تھے کہ لوگو ایک کھجور کا تنا اس قدر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شائق ہو تو تمہیں چاہیئے کہ اس سے بہت زیادہ شوق اور چاہت تم رکھو۔۱؎ [صحیح بخاری:3583]‏‏‏‏
اسی طرح کی یہ آیت ہے «لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا» ۱؎ [59-الحشر:21]‏‏‏‏ کہ ’ جب ایک پہاڑ کا یہ حال ہو تو تمہیں چاہیئے کہ تم تو اس حالت میں اس سے آگے رہو۔ ‘
اور جگہ فرمانِ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے «وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [13-الرعد:31]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے باعث پہاڑ چلا دیئے جائیں یا زمین کاٹ دی جائے یا مردے بول پڑیں ‘ (‏‏‏‏تو اس کے قابل یہی قرآن تھا، مگر پھر بھی ان کفار کو ایمان نصیب نہ ہوتا)۔
اور جگہ فرمان عالی شان ہے «وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:74]‏‏‏‏، یعنی ’ بعض پتھر ایسے ہیں جن میں سے نہریں بہہ نکلتی ہیں، بعض وہ ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلتا ہے، بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔‘
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا نہ تو کوئی پالنے اور پرورش کرنے والا ہے، نہ اس کے سوا کسی کی ایسی نشانیاں ہیں کہ اس کی کسی قسم کی عبادت کوئی کرے اس کے سوا جن جن کی لوگ پرستش اور پوجا کرتے ہیں وہ سب باطل ہیں، وہ تمام کائنات کا علم رکھنے والا ہے، جو چیزیں ہم پر ظاہر ہیں اور جو چیزیں ہم سے پوشیدہ ہیں سب اس پر عیاں ہیں، خواہ آسمان میں ہوں، خواہ زمین میں ہوں، خواہ چھوٹی ہوں، خواہ بڑی ہوں، یہاں تک کہ اندھیریوں کے ذرے بھی اس پر ظاہر ہیں، وہ اتنی بڑی وسیع رحمت والا ہے کہ اس کی رحمت تمام مخلوق پر محیط ہے، وہ دنیا اور آخرت میں رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ ہماری تفسیر کے شروع میں ان دونوں ناموں کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔
قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» ۱؎ [7-الأعراف:156]‏‏‏‏ یعنی ’ میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے۔ ‘
اور جگہ فرمان ہے «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ۱؎ [6-الأنعام:54]‏‏‏‏ یعنی ’ تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحم و رحمت لکھ لی ہے۔‘
اور فرمان ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ» ۱؎ [10-يونس:58]‏‏‏‏ ’ کہدو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ ہی خوش ہونا چاہیئے تمہاری جمع کردہ چیز سے بہتر یہی ہے۔ ‘