ترجمہ و تفسیر — سورۃ المجادلة (58) — آیت 20

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اُولٰٓئِکَ فِی الۡاَذَلِّیۡنَ ﴿۲۰﴾
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسو ل کی مخالفت کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں ۔ En
جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے
En
بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیاده ذلیلوں میں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20){ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ …:} یہ حزب الشیطان کے اس خسارے کا بیان ہے جو پچھلی آیت میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی آیت (6،5) اور سورۂ توبہ کی آیت (۲۳) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20۔ 1 محادۃ، ایسی شدید مخالفت عناد اور جھگڑے کو کہتے ہیں کہ فریقین کا باہم ملنا نہایت مشکل ہو گویا دونوں دو کناروں پر ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں اسی سے یہ ممانعت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اسی لیے دربان اور پہرے دار کو بھی حداد کہا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ 20۔ 2 یعنی جس طرح گزشتہ امتوں میں سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کو ذلیل اور تباہ کیا گیا ان کا شمار بھی انہیں اہل ذلت میں ہوگا اور ان کے حصے میں بھی دنیا وآخرت کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یقیناً یہی لوگ ذلیل ترین ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں، ہدایت سے دور ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں، یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل، بےوقار اور خستہ حال ہیں۔ رحمت رب سے دور، اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کر چکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے، نہ بدلے، نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے۔
جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51]‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہو جائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا ‘۔ یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب و قہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔