ترجمہ و تفسیر — سورۃ المجادلة (58) — آیت 19

اِسۡتَحۡوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰہُمۡ ذِکۡرَ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ الشَّیۡطٰنِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّیۡطٰنِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
شیطان ان پر غالب آگیا، سو اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی، یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ سن لو! یقینا شیطان کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے۔ اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے۔ یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے
En
ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ {اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ …:} یعنی منافقین کے ان اعمال کی وجہ سے ان پر شیطان غالب آگیا اور اس طرح مسلط ہو گیا ہے کہ اس نے انھیں اللہ کی یاد تک بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطانی گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ ہی کامل خسارے والے لوگ ہیں۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان کا آدمی پر غلبہ ہو جاتا ہے، ان اعمال میں سے ایک نماز باجماعت کا ترک ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ] [أبو داوٗد، الصلاۃ، باب التشدید في ترک الجماعۃ: ۵۴۷] کوئی بھی بستی یا بادیہ نہیں جس میں تین آدمی (ہی) ہوں اور ان میں نماز باجماعت نہ ہوتی ہو مگر اس پر شیطان غالب آچکا ہے، اس لیے تم جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور جانے والی ہو۔ قرآن مجید میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۴۲] اور جب وہ (منافق)نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں توسست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 استحوذ کے معنی ہیں گھیر لیا احاطہ کرلیا جمع کرلیا اسی کا ترجمہ غلبہ حاصل کرلیا کیا جاتا ہے کہ غلبے میں یہ سارے مفہوم آجاتے ہیں۔ 19۔ 2 یعنی اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے شیطان نے ان کو غافل کردیا ہے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے، ان کا وہ ارتکاب کرواتا ہے، انہیں خوبصورت دکھلا کر یا مغالطوں میں ڈال کر یا تمناؤں اور آرزاؤں میں مبتلا کر کے۔ 19۔ 3 یعنی مکمل خسارا انہی کے حصے میں آئے گا۔ گویا دوسرے ان کی نسبت خسارے میں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جنت کا سودا گمراہی لے کر کرلیا، اللہ پر جھوٹ بولا اور دنیا و آخرت میں جھوٹی قسمیں کھاتے رہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ شیطان ان پر مسلط [22] ہو گیا ہے جس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے۔ یہی لوگ شیطان کی پارٹی [23] ہے۔ سن لو! شیطان کی پارٹی کے لوگ ہی خسارہ [24] اٹھانے والے ہیں۔
[22] ﴿استحوذ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿إسْتَحْوَذَ ﴿حَاذ بمعنی سختی کے ساتھ ہانکنا اور ﴿حاذ الدَّابَةُ بمعنی جانور کو تیزی سے چلانا اور ﴿اِسْتَحْوَذَ کے معنی کسی پر مسلط ہو کر اسے سختی سے ہانکنا ہے۔ کہتے ہیں ﴿استحوذ العير على الاتان﴾ یعنی گدھے کا گدھی کی پشت پر چڑھ کر اسے دونوں جانب سے دبا لینا ہے (مفردات) یعنی شیطان نے ان منافقوں پر مسلط ہو کر انہیں کچھ اس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ انہیں اللہ کبھی بھولے سے بھی یاد نہیں آتا اور وہ اسی کے آلہ کار بن کر رہ گئے ہیں۔
[23] اسلامی نقطہ نظر سے سیاسی پارٹیاں صرف دو ہو سکتی ہے ایک حزب اللہ دوسری حزب الشیطان :۔
﴿حِزْبٌ بمعنی پارٹی، گروہ جتھا، جن کے خیالات میں ہم آہنگی نیز سختی اور شدت پائی جائے۔ گویا حزب کا لفظ سیاسی پارٹی، فوج اور لشکر کے معنوں میں آسکتا ہے۔ جس کا مقصد مملکت میں عمل دخل حاصل کرنا ہو۔ غزوہ احزاب میں ایسی ہی پارٹیاں اسلام کے خلاف متحد ہو گئی تھیں۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ منافق شیطان کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ شرعی نقطہ نگاہ سے صرف دو ہی سیاسی پارٹیاں ہو سکتی ہیں۔ ایک اللہ کے فرمانبرداروں کی پارٹی جسے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حزب اللہ کے نام سے موسوم فرمایا۔ اور دوسرے شیطان کی پارٹی جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے۔ اسلام دشمن جتنی بھی طاقتیں ہیں۔ وہ سب حزب الشیطان یعنی شیطان کی پارٹی میں شامل ہیں اور اسی پارٹی کے افراد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً جنگ احزاب میں مشرکین مکہ، یہود مدینہ، منافقین اور عرب کے دیگر مشرک قبائل سب شامل تھے۔ ان میں سے ایک ایک گروہ بھی شیطان کی پارٹی ہے اور سب مل کر بھی شیطان کی بڑی پارٹی بن جاتی ہے۔
[24] جنگ احزاب میں شامل تمام پارٹیوں میں قدر مشترک صرف اسلام دشمنی اور اللہ کے رسول کی مخالفت تھی۔ اگرچہ ان سب کی سرگرمیاں اور طریق کار الگ الگ نوعیت کے تھے۔ یہ لوگ چونکہ حق اور اللہ کی پارٹی کے مقابلہ میں سامنے آئے تھے تو ضروری تھا کہ اللہ بھی اپنی پارٹی کی مدد اور حمایت کرتا۔ چنانچہ اللہ نے اس انداز سے اپنی پارٹی کی مدد فرمائی کہ شیطان کی پارٹی ہر لحاظ سے خسارہ میں رہی ان کا مال بھی ضائع ہوا۔ محنت مشقت سفر بھی اور بالآخر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور فرار کے سوا انہیں اپنی عافیت کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔ یہ تو انجام دنیا میں ہوا اور آخرت میں اس سے بھی زیادہ خسارہ اور برے انجام سے دو چار ہوں گے۔ واضح رہے کہ دنیا میں شیطان کی پارٹی کا یہ انجام فقط غزوہ احزاب یا دوسرے غزوات تک ہی مختص نہیں بلکہ حق کے مقابلہ پر آنے والی ہر پارٹی کا یہی حشر ہوتا ہے۔ بشرطیکہ مقابلہ میں لوگ صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔