اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۷﴾
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمھیں (پہلوں کا) جا نشین بنایا ہے، پھر وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
En
تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے
En
اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے پس تم میں سے جو ایمان ﻻئیں اور خیرات کریں انہیں بہت بڑا ﺛواب ملے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7) ➊ { اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} سورت کے شروع سے یہاں تک اس حقیقت کے اعلان کے بعد کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز نے اللہ کا (ہر عیب اور کمی سے) پاک ہونا بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی دس سے زیادہ صفات بیان ہوئی ہیں جو یہ ہیں: {” الْعَزِيْزُ، الْحَكِيْمُ، لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ، وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ، وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ، يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ “} ان صفات کے بیان کے بعد اس بات کی دعوت دی ہے کہ ان صفات کے مالک اللہ تعالیٰ پر اور اس کا پیغام لے کر آنے والے پر ایمان لاؤ۔ اس کے مخاطب اگرچہ کفار بھی ہیں، مگر بعد میں پورے سلسلۂ کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں سے خطاب ان مسلمانوں کو ہے جو ایمان لا چکے تھے، مگر ایمان کے تقاضے پورے کرنے میں کوتاہی کر رہے تھے اور جہاد فی سبیل اللہ میں جان و مال کی قربانی سے گریز کر رہے تھے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ نساء کی آیت (۱۳۶): «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» (اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر)میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے ایمان میں پختگی پیدا کرو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو، جن میں سے ایک بہت بڑا تقاضا اس کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔
➋ { وَ اَنْفِقُوْا:} یہاں خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین و مہاجرین کی ضروریات کے لیے خرچ کرنا ہے۔ دلیل اس کی آگے آنے والی آیت (۱۰) ہے: «وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ”اور تمھیں کیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔“ اور {” فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} کا خاص اطلاق جہاد پر ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۶۰) کی تفسیر۔
➌ {مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ:} اس میں کئی طرح سے خرچ کرنے کی ترغیب ہے، ایک یہ کہ یہ مال تمھارا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے جو اس نے تم سے پہلے لوگوں کو دیا تھا، اب اس نے تمھیں اس میں پہلوں کا جانشین بنا دیا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ تم اس کی مرضی کے مطابق خرچ کرتے ہو یا نہیں۔ (دیکھیے انعام: ۱۶۵) غلام کا یہ کام نہیں کہ مالک کے مال کو وہاں خرچ نہ کرے جہاں وہ اسے خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے، بلکہ اپنی مرضی سے خرچ کرتا پھرے یا جمع کرنے لگ جائے۔ دوسرا یہ کہ پہلے لوگوں کی طرح یہ تمھارے پاس بھی نہیں رہے گا۔ اگر تم نے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر لیا تو یہ آخرت کے لیے تمھارا ذخیرہ بن جائے گا اور اگر تم نے خرچ نہ کیا تو کچھ اور لوگ اس میں تمھارے جانشین بن جائیں گے۔ پھر اگر انھوں نے اسے نیکی میں خرچ کیا تو وہ تم سے بہتر رہے کہ وہ مال جو تم نیکی میں خرچ نہ کر سکے انھوں نے کر دیا، تم محروم رہے اور اگر انھوں نے بدی میں خرچ کیا تو تمھاری دولت بھی ان کی بدی میں معاون ٹھہری۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَّالِهِ ثَلَاثٌ، مَا أَكَلَ فَأَفْنٰی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی، وَمَا سِوَی ذٰلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ] [مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر: ۲۹۵۹] ”بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال، اس کے مال میں سے اس کی اپنی تو صرف تین چیزیں ہیں، جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، یا پہنا اور بوسیدہ کر دیا، یا دے دیا اور ذخیرہ بنا لیا اور جو اس کے علاوہ ہے تو یہ جانے والا ہے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے۔“
➍ {فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا:} یہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان میں سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لائے اور تبوک کے موقع پر صدقہ کے اعلان پر سارا مال لے آئے، ان میں عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں جو آدھا مال لے آئے اور عثمان رضی اللہ عنہ بھی اور وہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بھی جنھوں نے خوش حالی میں بھی خرچ کیا اور تنگ دستی کے باوجود محنت مشقت کر کے بھی صدقہ کیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۷۹) کی تفسیر۔
➎ {لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ:} ”فی سبيل الله“ خرچ کرنے والوں کی فضیلت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۴) اور سورۂ انفال (۶۰)۔
➋ { وَ اَنْفِقُوْا:} یہاں خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین و مہاجرین کی ضروریات کے لیے خرچ کرنا ہے۔ دلیل اس کی آگے آنے والی آیت (۱۰) ہے: «وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ”اور تمھیں کیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔“ اور {” فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} کا خاص اطلاق جہاد پر ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۶۰) کی تفسیر۔
➌ {مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ:} اس میں کئی طرح سے خرچ کرنے کی ترغیب ہے، ایک یہ کہ یہ مال تمھارا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے جو اس نے تم سے پہلے لوگوں کو دیا تھا، اب اس نے تمھیں اس میں پہلوں کا جانشین بنا دیا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ تم اس کی مرضی کے مطابق خرچ کرتے ہو یا نہیں۔ (دیکھیے انعام: ۱۶۵) غلام کا یہ کام نہیں کہ مالک کے مال کو وہاں خرچ نہ کرے جہاں وہ اسے خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے، بلکہ اپنی مرضی سے خرچ کرتا پھرے یا جمع کرنے لگ جائے۔ دوسرا یہ کہ پہلے لوگوں کی طرح یہ تمھارے پاس بھی نہیں رہے گا۔ اگر تم نے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر لیا تو یہ آخرت کے لیے تمھارا ذخیرہ بن جائے گا اور اگر تم نے خرچ نہ کیا تو کچھ اور لوگ اس میں تمھارے جانشین بن جائیں گے۔ پھر اگر انھوں نے اسے نیکی میں خرچ کیا تو وہ تم سے بہتر رہے کہ وہ مال جو تم نیکی میں خرچ نہ کر سکے انھوں نے کر دیا، تم محروم رہے اور اگر انھوں نے بدی میں خرچ کیا تو تمھاری دولت بھی ان کی بدی میں معاون ٹھہری۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَّالِهِ ثَلَاثٌ، مَا أَكَلَ فَأَفْنٰی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی، وَمَا سِوَی ذٰلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ] [مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر: ۲۹۵۹] ”بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال، اس کے مال میں سے اس کی اپنی تو صرف تین چیزیں ہیں، جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، یا پہنا اور بوسیدہ کر دیا، یا دے دیا اور ذخیرہ بنا لیا اور جو اس کے علاوہ ہے تو یہ جانے والا ہے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے۔“
➍ {فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا:} یہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان میں سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لائے اور تبوک کے موقع پر صدقہ کے اعلان پر سارا مال لے آئے، ان میں عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں جو آدھا مال لے آئے اور عثمان رضی اللہ عنہ بھی اور وہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بھی جنھوں نے خوش حالی میں بھی خرچ کیا اور تنگ دستی کے باوجود محنت مشقت کر کے بھی صدقہ کیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۷۹) کی تفسیر۔
➎ {لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ:} ”فی سبيل الله“ خرچ کرنے والوں کی فضیلت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۴) اور سورۂ انفال (۶۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ [9] اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں جانشین [10] بنایا ہے، تو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور خرچ کیا ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے
[9] ترتیب نزولی اور اس مضمون سے ایسا مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورت جنگ احزاب کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس وقت تک قریش مکہ ہی مسلمانوں پر چڑھ چڑھ کر آتے رہے اور حملہ آور ہوتے رہے۔ جنگ احزاب کے خاتمہ اور کافروں کے فرار کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا فرما دیا تھا کہ آج کے بعد کفار ہم پر حملہ آور نہ ہوں گے تاہم ابھی مسلمانوں کا غلبہ بہت دور کی بات تھی۔ ایسے مذبذب حالات میں بھی کچھ مسلمان اور مہاجرین ایسے تھے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں پر پختہ یقین رکھتے تھے اور تنگ دستی کے باوجود اس حق و باطل کے معرکہ میں جو کچھ بھی انہیں میسر آتا بےدریغ خرچ کر رہے تھے۔ لیکن کئی نو مسلم ایسے بھی تھے جو گومگو کی حالت میں تھے۔ نہ حق و باطل کے اس معرکہ میں مخلص بن کر کوشش کرتے تھے اور نہ ہی جہاد کی خاطر اپنے اموال خرچ کرنے کو تیار تھے۔ ان آیات میں ایسے ہی لوگوں کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ جو اسلام لانے کے باوجود اسلام کے لیے جانی یا مالی یا بدنی قربانیاں پیش کرنے کو تیار نہ تھے اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ ایمان لا کر اللہ کے رسول کا ساتھ دو اور ان کے کیے ہوئے وعدوں کو یقینی سمجھو۔ [10] یعنی جن اموال سے اللہ کی راہ میں یا جہاد کی خاطر خرچ کرنے سے تم گریز کر رہے ہو ان اموال کے تم حقیقی مالک نہیں ہو۔ ان کا حقیقی مالک تو اللہ ہے۔ تمہاری حیثیت صرف ایک نائب اور امین کی ہے۔ یہ اموال موت کے وقت تو یقیناً تمہاری ملکیت سے نکل جائیں گے اور اس سے پہلے بھی نکل سکتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پہلے یہی اموال اور لوگوں کے قبضے میں تھے آج تم ان کے جانشین ہونے کی بنا پر ان پر قابض ہو۔ لہٰذا ان اموال کو اپنی ملکیت نہ سمجھ بیٹھو اور اللہ کی ہدایات اور رضا کے مطابق اسے خرچ کر دو۔ ایسا خرچ کیا ہوا مال ہی تمہارے لیے بہت بڑے اجر کا سبب بنے گا۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ جتنا مال تم خرچ کرو گے اتنا یا اس سے زیادہ مال اور دے دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گزاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے، نہ تو چھوڑتا، نہ اڑاتا۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» الخ پڑھ کر فرمانے لگے ”انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے، یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا، پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔“ } [صحیح مسلم:2985] اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» الخ پڑھ کر فرمانے لگے ”انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے، یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا، پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔“ } [صحیح مسلم:2985] اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔
پھر فرماتا ہے «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ» ۱؎ [57-الحديد:8] یعنی تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں۔
صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟“ کہا فرشتے، فرمایا: ”وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟“، کہا پھر انبیاء علیہ السلام، فرمایا: ”ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟“ کہا پھر ہم، فرمایا: ”واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے“ }۔ ۱؎ [تخریج احادیث و آثار کتاب فی ظلال القرآن:290حسن لغیرہ] سورۃ البقرہ کے شروع میں آیت «الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ» [2-البقرة:3] کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں۔
پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [5-المائدة:7] اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟“ کہا فرشتے، فرمایا: ”وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟“، کہا پھر انبیاء علیہ السلام، فرمایا: ”ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟“ کہا پھر ہم، فرمایا: ”واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے“ }۔ ۱؎ [تخریج احادیث و آثار کتاب فی ظلال القرآن:290حسن لغیرہ] سورۃ البقرہ کے شروع میں آیت «الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ» [2-البقرة:3] کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں۔
پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [5-المائدة:7] اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»