ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 16

اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾
کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے اور اس حق کے لیے جھک جائیں جو نازل ہوا ہے اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنھیں ان سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔ En
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرف نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں۔ پھر ان پر زمان طویل گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں
En
کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں اور ان کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر جب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں بہت سے فاسق ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) ➊ {اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا …: اَلَمْ يَاْنِ أَنٰي يَأْنِيْ أَنْيًا وَ إِنًي} (ض) ناقص یائی سے جحد معلوم ہے، کسی چیز کے وقت کا آ جانا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۵۳] اس (کھانے) کے (پکنے کے) وقت کا انتظار نہ کرنے والے۔ پچھلی آیت میں قیامت کے دن مومن مردوں اور عورتوں اور منافق مردوں اور عورتوں کا حال ذکر فرمایا، جسے سن کر دل لرز اٹھتے ہیں اور خوف زدہ ہو کر عاجزی سے اپنے رب کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان سے کماحقہ اثر قبول نہ کرنے پر ایمان والوں کو متنبہ فرمایا کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی نصیحت کی وجہ سے اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز ہو کر جھک جائیں؟ ایمان والوں سے مراد وہ تمام ایمان والے ہیں جنھیں اس سے پہلے ایمان لانے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور لڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں سستی اور کوتاہی پر عتاب کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں اتنا عتاب سن کر اور قیامت کے دن منافقین کا انجامِ بد سن کر بھی کیا ایمان والوں کے لیے اللہ کے سامنے جھکنے اور اس کے احکام پر تن دَہی سے عمل کرنے کا وقت نہیں آیا؟ جب کہ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ کی آیات سن کر دل نرم ہو جائے اور اللہ کو یاد کرتے ہوئے فوراً نصیحت کا اثر قبول کرے، کیونکہ ایمان والوں کی یہی شان ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ» [الأنفال: ۲] (اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اور فرمایا: «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [الزمر: ۲۳] اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات)جو باربار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔
➋ {وَ لَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …: قَسَتْ} اصل میں {قَسَوَتْ} ہے، باب اس کا { قَسَا يَقْسُوْ قَسْوَةً وَقَسَاوَةً } آتا ہے، سخت ہو جانا۔ یعنی کیا ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ…اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنھیں اس سے پہلے کتاب یعنی تورات اور اس کے بعد انجیل دی گئی کہ شروع میں ان کا یہ حال تھا کہ اللہ کی آیات سن کر ان کے دل نرم ہو جاتے اور وہ ڈر جاتے تھے اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تھے، پھر جیسے جیسے انبیاء کے زمانے سے دوری ہوتی گئی وہ خواہشات اور دنیا کی لذتوں کے پیچھے پڑتے گئے اور اللہ کے احکام جاننے کے باوجود ان پر عمل چھوڑ بیٹھے، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے اور انھوں نے دانستہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا۔ شرک، زنا، قتلِ ناحق، چوری، سود خوری اور دوسرے گناہ عام ہوگئے۔ اللہ کی آیات سن کر دل نرم ہونے اور ان کے سامنے جھک جانے کے بجائے انھوں نے ان میں تحریف شروع کر دی، جس کے نتیجے میں وہ راہِ راست سے بہت دور چلے گئے اور باہمی ضد اور عناد میں بہت سے فرقوں میں بٹ گئے۔
➌ { وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ:} یعنی اب بھی ان کا یہی حال ہے کہ ان میں سے بہت زیادہ لوگ فاسق ہیں۔ { فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ } میں ان کی قلبی حالت کا بیان ہے اور { فٰسِقُوْنَ } میں ان کی عملی حالت کا بیان ہے۔ دوسری جگہ اس قسوتِ قلب کا سبب اور اس کا نتیجہ کچھ تفصیل سے بیان فرمایا ہے، وہاں ان کے دوسرے عہد توڑنے کے ساتھ قرضِ حسن دینے کا عہد توڑنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (13،12) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔-1خطاب اہل ایمان کو ہے اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مذید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے خشوع کے معنی ہیں دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا حق سے مراد قرآن کریم ہے۔ 16-2جیسے یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی تم ان کی طرح نہ ہوجانا۔ 16۔-3چناچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کردی اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کرلی۔ 16۔-4یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں کیا ان کے لئے ایسا وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر سے اور جو حق نازل ہوا ہے، اس سے ان کے دل پسیج [28] جائیں؟“ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے [29] اور (آج) ان میں سے اکثر فاسق ہیں
[28] پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس سورۃ کا زمانہ نزول غالباً جنگ احزاب سے بعد اور صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے۔ اس وقت تک اسلام کے غلبہ کے کئی آثار لوگوں کے سامنے آچکے تھے۔ جنگ بدر میں کافر شکست فاش سے دو چار ہو چکے تھے۔ جنگ احد میں بھی بالآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا تھا اور جنگ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے غیبی اسباب سے مسلمانوں کی مدد فرما کر کافروں کو فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان واقعات سے عام لوگ اور غیر جانبدار قبائل یہ تاثر لے رہے تھے کہ اسلام اور کفر دونوں برابر کی چوٹ ہیں اور سب اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ایسے حالات میں منافقوں کو اس آیت سے یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اسلام کی نصرت و تائید میں اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد تمہیں یہ یقین نہیں آرہا کہ جو وحی اور دعوت اللہ کی طرف سے نازل ہو رہی ہے وہ برحق اور درست ہے۔ نیز یہ کہ کافروں کا اور ان کے ساتھ ہی منافقوں کا جو انجام عنقریب سامنے آنے والا ہے کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس سے مسلمانوں کے دل دہل جائیں اور اللہ کے ذکر اور اس کے ڈر سے ان کے دل نرم پڑ جائیں۔
[29] قرآن کی وہ آیت جس نے فضیل بن عیاض کی زندگی کا رخ بدل دیا :۔
ہوتا یہ ہے کہ جب تک نبی اپنی امت میں موجود رہتا ہے۔ ایمانداروں کے دل نبی کی صحبت اور اللہ کے ذکر اور اس سے تقویٰ کی وجہ سے نرم پڑ جاتے ہیں اور ان لوگوں کے دل اور طبیعتیں نیکی میں سبقت کی طرف مائل رہتی ہیں لیکن جب نبی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی طبیعتیں اللہ کی یاد سے غافل رہنے لگتی ہیں۔ ان میں تقویٰ کی بجائے فسق اور اللہ کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کے جراثیم جنم لینے لگتے ہیں۔ یہود اور نصاریٰ دونوں پر یہ کیفیت گزر چکی تھی۔ اس آیت میں بالعموم مسلمانوں کو اور بالخصوص منافقوں کو یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ کی یاد سے غافل رہنا ایسی بیماری ہے جس سے دل سخت ہو جاتے ہیں اور ان میں فسق و فجور داخل ہونے لگتے ہیں لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اللہ کو ہر دم یاد رکھو اسی سے تم میں تقویٰ پیدا ہو گا اور تمہارے دل نرم رہ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دور تابعین میں فضیل بن عیاض ایک ڈاکو تھے۔ ایک دفعہ وہ اپنے اسی شغل یعنی ڈاکہ زنی اور لوٹ مار میں مشغول تھے کہ کسی نے بلند آواز سے یہی آیت: ﴿اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ پڑھ دی۔ اس آیت اور اس کے شیریں انداز بیان کا ان پر ایسا اثر ہوا کہ لرز گئے اسی وقت توبہ کی اور اپنا ڈاکہ زنی کا پیشہ ترک کر کے اللہ کے ذکر میں مشغول ہو گئے۔ پھر تقویٰ اختیار کر کے وہ مقام حاصل کیا کہ اس دور کے صالحین میں ان کا نام سر فہرست آتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایمان والوں سے سوال ٭٭
پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لیے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ، وعظ نصیحت، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہو جائیں؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چار ہی سال گزرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3028]‏‏‏‏
اصحاب رسول پر ملال ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کچھ بات تو بیان فرمائیے پس یہ آیت اترتی ہے۔ «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:3]‏‏‏‏
ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» ۱؎ [39-الزمر:23]‏‏‏‏
پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» ۱؎ [57-الحديد:16]‏‏‏‏ اترتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہو گا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:681/11:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کر دیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بے سند باتیں دین میں داخل کر لیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کر دیئے، کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے، کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا، کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے۔
جیسے اور آیت میں ہے۔ «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» ۱؎ [5-المائدة:13]‏‏‏‏ ’ ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔ ‘ یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کر دیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہو گئے، اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے، نیکیاں چھوڑ دیں، برائیوں میں منہمک ہو گئے۔ اسی لیے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے، اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو۔
ابن ابی حاتم میں ہے ربیع بن ابوعمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بے حد محبوب اور مرغوب ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گزر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کر لیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لیے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے، ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے، جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لیے تھے اور انہی پر عامل بن گئے۔
اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے۔
ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے، انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نرسنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کر لیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے۔
چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لیے جرأت کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اس پر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔
چنانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو، آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا، پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے، اب بات بنا لی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے، ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا، وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بے بس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی، پس ایسے مجبوری اور بے کسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔
امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابوعبداللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔
پھر ارشاد باری ہے کہ ’ جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کر دیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کر دیتی ہے، اللہ کی وحی دل کے قفل کی کنجی ہے، سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔