ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 15

فَالۡیَوۡمَ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡکُمۡ فِدۡیَۃٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ ؕ ہِیَ مَوۡلٰىکُمۡ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۵﴾
سو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے انکار کیا، تمھارا ٹھکانا ہی آگ ہے، وہی تمھاری دوست ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ En
تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ (وہ) کافروں ہی سے (قبول کیا جائے گا) تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ (کہ) وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے
En
الغرض، آج تم سے نہ فدیہ (اور نہ بدلہ) قبول کیا جائے گا اور نہ کافروں سے تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہی تمہاری رفیق ہے اور وه برا ٹھکانا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15){ فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ …:} اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کفار و منافقین کا ٹھکانا ایک ہی ہوگا، جو آگ ہے۔ وہاں وہ مال نہ منافقین کے کام آئے گا جس کی وجہ سے وہ نفاق کا شکار رہے، نہ کفار کے کہ اس کے ساتھ فدیہ دے کر عذاب سے چھوٹ جائیں اور نہ ہی آگ کے سوا ان کا کوئی یار و مدد گار ہو گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15-1مولیٰ اسے کہتے ہیں جو کسی کے کاموں کا متولی یعنی ذمے دار بنے گویا اب جہنم ہی اس بات کی ذمہ دار ہے کہ انہیں سخت سے سخت تر عذاب کا مزا چکھائے بعض کہتے ہیں کہ ہمیشہ ساتھ رہنے والے کو بھی مولیٰ کہہ لیتے ہیں یعنی اب جہنم کی آگ ہی ان کی ہمیشہ کی ساتھی اور رفیق ہوگی، بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی عقل وشعور عطا فرمائے گا پس وہ کافروں کے خلاف غیظ وغضب کا اظہار کرے گی، یعنی ان کی والی بنے گی اور انہیں عذاب الیم سے دوچار کرے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ لہٰذا آج نہ تم سے فدیہ [27] قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہاری خبرگیری کرنے والی ہے اور یہ بد ترین انجام ہے
[27] جو اللہ کو سرپرست نہ بنائے اس کی سرپرست جہنم ہے :۔
یہ غالباً مومنوں کی منافقوں سے گفتگو کا آخری حصہ ہے کہ جس مال و متاع کی خاطر دنیا میں تم نے منافقت کا رویہ اختیار کیا تھا۔ آج اگر وہ مال و متاع تمہیں مل بھی جائے تو وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ وہ مال و دولت سارے کا سارا دے کر بھی تم عذاب جہنم سے بچ نہیں سکتے۔ نہ ہم تمہیں اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ ضمناً اس آیت سے دو اور باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ بد ترین انجام کے لحاظ سے منافق اور کافر میں کوئی فرق نہیں۔ منافق بھی حقیقتاً کافر ہی ہوتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ جو شخص اللہ کو سرپرست نہ بنائے جہنم از خود اس کی سرپرست بن جاتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منافقین کا واویلہ ٭٭
اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو، گناہوں میں، نفسانی خواہشوں میں، اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کر لیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔
انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے۔
مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے، نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے۔
سورۃ المدثر کی آیتوں میں ہے کہ «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:38-47]‏‏‏‏ ’ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بداعمال گنوائیں گے۔‘ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔
پھر جیسے وہاں فرمایا تھا «فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» ۱؎ [74-المدثر:48]‏‏‏‏ ’ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ ‘ یہاں فرمایا ’ آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا، نہ منافقوں سے، نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔‘