ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 11

مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَ لَہٗۤ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۚ۱۱﴾
کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تو وہ اسے اس کے لیے کئی گناکر دے اور اس کے لیے باعزت اجر ہو۔ En
کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے تو وہ اس کو اس سے دگنا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی جنت) ہے
En
کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے پسندیده اجر ﺛابت ہو جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (245،244) اور { اَجْرٌ كَرِيْمٌ } کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۷۴) اور سورۂ حج (۵۰)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

1 اللہ کو قرض حسن دینے کا مطلب ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا، یہ مال، جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، اس کے باوجود اسے قرض قرار دینا، یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض [16] جسے وہ اس کے لئے دوگنا بڑھا دے اور اسے عمدہ اجر [17] عطا کرے۔
[16] قرض حسنہ کے سلسلہ میں دس ہدایات :۔
قرض حسنہ سے مراد ہر وہ مال ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کی ہدایات و احکام کے مطابق خرچ کیا جائے۔ خواہ وہ فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہو یا واجبی صدقات ہوں یا نفلی ہوں اور خواہ وہ فی سبیل اللہ جہاد میں خرچ کیا جائے یا کسی محتاج کی احتیاج کو دور کرنے کے لیے اسے دیا جائے۔ قرض حسنہ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل دس امور کا لحاظ رکھنا اسے افضل صدقہ بنا دیں گے۔
(1) حلال کمائی سے خرچ کیا جائے کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ قبول نہیں۔
(2) صدقہ میں ناقص مال نہ دے۔
(3) اس وقت صدقہ کرے جبکہ خود بھی اسے احتیاج ہو۔
(4) اپنی احتیاج پر دوسرے کی احتیاج کو مقدم رکھے۔
(5) صدقہ چھپا کر دینا زیادہ بہتر ہے۔
(6) صدقہ دینے کے بعد احسان نہ جتلائے اور نہ ہی کسی دوسری صورت میں اس کا معاوضہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ باتیں صدقہ کو برباد کر دیتی ہیں۔
(7) صدقہ میں نمود و نمائش یعنی ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔ یہ بات بھی صدقہ کو برباد کر دیتی ہے۔
(8) اپنے دیئے ہوئے صدقہ کو حقیر جانے۔ صدقہ دے کر اس کا نفس اس نیکی پر پھول نہ جائے۔
(9) اگر صدقہ میں اپنا بہترین اور پسندیدہ مال دے تو یہ اس کے اپنے حق میں بہت بہتر ہے۔
(10) محتاج کو صدقہ دینے کے بعد یہ نہ سمجھے کہ میں نے اس پر احسان کیا ہے بلکہ یہ سمجھے کہ میرے مال میں اس کا یہ حق تھا اور میں نے اس کا حق ادا کیا ہے اور مستحق کو حق دے کر اپنے سر سے بوجھ ہلکا کیا ہے۔
[17] قرضہ حسنہ کے دو فائدے :۔
قرضہ حسنہ دینے والوں سے اللہ تعالیٰ نے دو وعدے فرمائے ایک یہ کہ اللہ اسے کئی گناہ زیادہ کر کے واپس کرے گا۔ دنیا میں بھی ایسے خرچ کیے ہوئے مال کی واپسی کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ [34: 39]
اور آخرت میں تو سات سو گنا یا اس سے بڑھ کر بھی اضافہ ہو سکتا ہے یعنی قرضہ حسنہ کی مندرجہ بالا شرائط کو جتنا زیادہ ملحوظ رکھا جائے گا۔ اسی تناسب سے اس کے اجر میں اضافہ ہو گا۔ اور دوسرا وعدہ یہ کہ انہیں عمدہ اجر عطا کرے گا۔ یہ فقرہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہی عطا کردہ مال میں سے انسان اس مال کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق خرچ کر دے تو انسان کو بدلہ ملنے کا حق کہاں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ ایسے قرض حسنہ دینے والوں کو بہت عمدہ اجر عطا فرمائے گا۔ واضح رہے کہ اللہ کا بندے کو اصل سے دوگنا یا زیادہ دینے کا معاملہ کوئی سود بیاج کا معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ معاملہ آقا اور اس کے غلام کے درمیان ہے۔ اور غلام کی خدمات کا مالک جتنا بھی صلہ دے دے، برابر برابر دے دوگنا دے، دس بیس گنا دے وہ سود بیاج نہیں کہلا سکتا۔ البتہ یہ اندازہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ آقا اپنے غلام کی خدمات کا کس قدر قدر شناس اور کریم النفس ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کو قرض دینا ٭٭
پھر فرماتا ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا» ۱؎ [57-الحديد:11]‏‏‏‏ ’ کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے۔ ‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنا ہے۔
بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے ہو سکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو۔
پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ ’ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی۔ ‘ اس آیت کو سن کر ابودحداح انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کہا: ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا۔
آپ رضی اللہ عنہ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی، وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے، بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یاقوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح رضی اللہ عنہ کو اللہ نے دے دیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند بزار:402/5:ضعیف]‏‏‏‏