ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 10

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾
اور تمھیں کیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کی وہ (یہ عمل بعد میں کرنے والوں کے) برابر نہیں۔ یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنھوںنے بعد میں خرچ کیا اور جنگ کی اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، خوب باخبر ہے۔ En
اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے۔ جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ (اور جس نے یہ کام پیچھے کئے وہ) برابر نہیں۔ ان کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں خرچ (اموال) اور (کفار سے) جہاد وقتال کیا۔ اور خدا نے سب سے (ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے واقف ہے
En
تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے؟ دراصل آسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک (تنہا) اللہ ہی ہے تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وه (دوسروں کے) برابر نہیں، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے۔ ہاں بھلائی کا وعده تو اللہ تعالیٰ کاان سب سے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} ميراث اصل میں اس ملکیت کو کہتے ہیں جو پچھلے مالک کے انتقال پر اس کے زندہ رہنے والے وارثوں کو ملتی ہے۔ یہ ملکیت جبری ہوتی ہے، مرنے والا چاہے یا نہ چاہے، جو وارث ہوتا ہے اس کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ { لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ } میں خبر { لِلّٰهِ } کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا کہ زمین و آسمان کی وراثت صرف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ آخر کار سب نے فنا ہونا ہے اور جن چیزوں کے مالک تم سمجھے جاتے ہو سب اسی کی طرف لوٹ جانے والی ہیں۔ تو جب یہ مال تمھارے پاس رہنے والا ہی نہیں بلکہ اس نے تمھارے ہاتھ سے نکلنا ہی نکلنا ہے اور اگر تم خرچ نہیں کرو گے تو جبراً تم سے لے لیا جائے گا، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے اللہ کی راہ میں خوشی سے خود ہی خرچ نہ کرو کہ اس صورت میں مالک بھی راضی ہو جائے گا اور جو کچھ تم دو گے اللہ کے ذمے قرض ہو جائے گا، جو بے حساب اضافے کے ساتھ تمھارے لیے محفوظ رکھے گا، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ آدمی کے مال کی طرح اس کی جان کا بھی یہی حال ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
جاں بجاناں دہ، وگرنہ از تو بستاند اجل
خود تو منصف باش اے دل ایں نِکو یاآن نِکو
جان محبوب کو دے دے، ورنہ موت تجھ سے لے لے گی۔ اے دل! تو خود ہی انصاف کر کہ یہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے؟
➋ {لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو بعد میں آنے والے جملے { اُولٰٓىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا } سے واضح ہو رہی ہے۔ گویا پوری عبارت اس طرح ہے: { لاَ يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ وَمَنْ أَنْفَقَ مِنْ بَعْدِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ} یعنی تم میں سے وہ شخص جس نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کی اور وہ شخص جس نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جنگ کی برابر نہیں ہیں۔ { الْفَتْحِ } سے مراد فتح مکہ ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» ‏‏‏‏ [النصر: ۱] جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ یا صلح حدیبیہ ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ‏‏‏‏ [الفتح: ۱] بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔ اور دونوں بھی مراد ہو سکتی ہیں۔ اس طرح صحابہ کے تین درجے ہوں گے، پہلے درجے میں صلح حدیبیہ سے پہلے ایمان لا کر خرچ اور قتال کرنے والے سابقین اوّلین اور مہاجرین و انصار، دوسرے درجے میں صلح حدیبیہ کے بعد اورفتح مکہ سے پہلے ہجرت و نصرت کا شرف حاصل کرنے والے صحابہ کرام اور تیسرے درجے میں فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ہوں گے، جو ہجرت یا نصرت کا شرف حاصل نہیں کر سکے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ] [بخاري، الجہاد والسیر، باب فضل الجہاد والسیر: ۲۷۸۳] فتح مکہ کے بعد (اب) ہجرت نہیں رہی۔
اس بات کی دلیل کہ صلح حدیبیہ سے پہلے خرچ اور قتال کرنے والے ان لوگوں سے درجے میں بلند ہیں جو فتح مکہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے، وہ حدیث ہے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيْدِ، وَ بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ كَلاَمٌ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ تَسْتَطِيْلُوْنَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُوْنَا بِهَا، فَبَلَغَنَا أَنَّ ذٰلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ دَعُوْا لِيْ أَصْحَابِيْ، فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ، أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ] [مسند أحمد: 266/3، ح: ۱۳۸۱۲۔ مسند احمد کے محقق نے اسے صحیح کہا ہے] خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ بات ہو گئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ہم پر ان چند دنوں کی وجہ سے بڑھ کر باتیں بنا رہے ہو جن میں تم ہم سے پہلے اسلام لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھیوں کو میری خاطر چھوڑ دو، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد کے برابر یا پہاڑوں کے برابر سونا خرچ کرو، تب بھی تم ان کے اعمال کو نہیں پہنچ سکتے۔
➌ فتح سے پہلے خرچ اور قتال کرنے والوں کا درجہ اس لیے بڑا ہے کہ فتح سے پہلے مسلمان تعداد میں کم اور قوت میں کمزور تھے، ان کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی، ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا دونوں نہایت مشکل اور دل گردے کے کام تھے، جب کہ فتح کے بعد یہ صورت حال بدل گئی، مسلمان قوت و تعداد میں بڑھتے چلے گئے اور ان کی مالی حالت بھی پہلے سے بہت بہتر ہوگئی اور پورا جزیرۂ عرب فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگا۔ اس لیے فرمایا کہ پہلے مشکل کے دور اور بعد کے دور میں مسلمان ہونے والے اور جہاد میں خرچ کرنے والے اور لڑنے والے برابر نہیں ہو سکتے، بلکہ پہلوں کا درجہ بڑا ہے۔
➍ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ شرف اور فضیلت میں امت کے تمام افراد سے بڑھ کر ہیں، کیونکہ ایمان لانے میں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور لڑنے میں وہ تمام صحابہ سے پہلے ہیں، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی زندگی میں نماز کے لیے آگے کیا اور اسی بنا پر مسلمانوں نے انھیں خلافت کے منصب کے لیے مقدم رکھا۔
➎ { وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى:} اس میں یہ صراحت فرما دی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے درمیان اگرچہ درجے اور فضیلت میں تفاوت ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام کو کوئی فضیلت حاصل نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ سے اچھی جزا یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے اور تمام اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور زیارت میں تاثیر ہی ایسی تھی کہ جس شخص نے بھی ایمان کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور ایمان پر فوت ہوا، بعد کا کوئی آدمی اس کے درجے کے برابر نہیں ہو سکتا۔ دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیت کی تفسیر میں مذکور حدیث، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے آدمی کی برکت و فضیلت کا ذکر ہے۔ بڑے بد نصیب ہیں وہ لوگ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت کا شرف رکھنے والی مبارک ہستیوں سے بغض اور عداوت ہے اور وہ ان کے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ سے آنکھیں بند کر کے ان کی معمولی لغزشوں کی وجہ سے ان پر تبرے بازی اور دشنام طرازی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تَسُبُّوْا أَصْحَابِيْ، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيْفَهُ] [بخاري، فضائل الصحابۃ، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : «‏‏‏‏لو کنت متخذا خلیلا» : ۳۶۷۳] میرے ساتھیوں کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی شخص اُحد کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو ان کے کسی شخص کے ایک مُد (آدھ کلو اناج) کے برابر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے نصف کے برابر ہو سکتا ہے۔
➏ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} ایمان، انفاق اور قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب کے آخر میں فرمایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے، وہ ہر ایک کے عمل کو خوب جانتا ہے کہ کس درجے کا ہے اور اس میں کتنا اخلاص ہے اور وہ اس کے مطابق ہی اسے جزا دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10-1فتح سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک فتح مکہ ہے۔ بعض نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا مصداق سمجھ کر اسے مراد لیا ہے۔ بہر حال صلح حدیبیہ یا فتح مکہ سے قبل مسلمان تعداد اور قوت کے لحاظ سے بھی کم تر تھے اور مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی۔ ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا، دونوں کام نہایت مشکل اور بڑے دل گردے کا کام تھا، جب کہ فتح مکہ کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ مسلمان قوت و تعداد میں بھی بڑھتے چلے گئے اور انکی مالی حالت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے دونوں ادوار کے مسلمانوں کی بابت فرمایا کہ یہ اجر میں برابر نہیں ہوسکتے۔ -2 کیونکہ پہلوں کا انفاق اور جہاد، دونوں کام نہایت کٹھن حالات میں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل فضل و عزم کو دیگر لوگوں کے مقابلے میں مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی لیے اہل سنت کے نزدیک شرف وفضل میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سب سے مقدم ہیں، کیونکہ مومن اول بھی وہی ہیں اور منفق اول اور مجاہد اول بھی وہی۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر ؓ کو اپنی زندگی اور موجودگی میں نماز کے لیے آگے کیا، اور اسی بنیاد پر مومنوں (صحابہ کرام) نے انہیں استحقاق خلافت میں مقدم رکھا۔ ؓ و رضوا عنہ۔ -3 اس میں وضاحت فرما دی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان شرف و فضل میں فرق تو ضرور ہے لیکن فرق درجات کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ایمان اور اخلاق کے اعتبار سے بالکل ہی گئے گزرے تھے، جیسا کہ بعض حضرات، حضرت معاویہ ان کے والد حضرت ابو سفیان اور دیگر بعض ایسے ہی جلیل القدر صحابہ کے بارے میں ہرزہ سرائی یا انہیں طلقاء کہہ کر انکی تنقیص و اہانت کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام ؓ کے بارے میں فرمایا ہے کہ لا تسبوا اصحابی میرے صحابہ پر سب و شتم نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو وہ میرے صحابی کے خرچ کیے ہوئے ایک مد بلکہ نصف مد کے بھی برابر نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ اور تمہیں کیا ہو گیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث [14] اللہ ہی کے لئے ہے۔ جن لوگوں نے فتح (مکہ) کے بعد خرچ [15] اور جہاد کیا وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا۔ یہی لوگ درجہ میں زیادہ ہیں۔ تاہم اللہ نے ہر ایک سے اچھا وعدہ کیا ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے
[14] اللہ کی میراث ہونے کے مختلف پہلو :۔
یعنی جو مال اس وقت تمہارے پاس موجود ہے۔ تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ حتیٰ کہ یہ سب کچھ اللہ کی میراث میں چلا جائے گا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب تم دنیا میں آئے تھے تو خالی ہاتھ آئے تھے اور جب یہاں سے رخصت ہو گے تو بھی خالی ہاتھ ہی جاؤ گے تو پھر یہ تمہاری ملکیت کیسے ہوئی؟ تم اس سے صرف عارضی طور پر انتفاع کر سکتے ہو۔ اور اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ جیسے آج تمہارے پاس یہ مال آگیا ہے۔ ویسے ہی تمہاری زندگی میں تم سے نکل بھی سکتا ہے۔ یہ مال و دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔ لہٰذا جب تک یہ مال تمہاری تحویل میں ہے اسے حقیقی مالک کی مرضی کے مطابق خرچ کر کے اس سے حقیقی فوائد کیوں نہیں حاصل کرتے؟
[15] بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو آیات فتح مکہ کے بعد اور بقول بعض غزوہ تبوک کے وقت نازل ہوئیں جو مضمون کی مناسبت کے لحاظ سے یہاں رکھی گئیں۔ اور فتح سے مراد بعض علماء نے صلح حدیبیہ لی ہے کیونکہ اللہ نے اسے بھی فتح مبین قرار دیا ہے۔ لیکن اکثریت کے نزدیک اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہی اسلام کو واضح طور پر کفر پر غلبہ حاصل ہوا تھا۔ تمام عرب قبائل مکہ کے معرکہ پر دیر سے نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ اس معرکہ میں قریش مکہ غالب آتے ہیں یا مسلمان؟ اور جو فریق غالب آئے وہ اس کا ساتھ دینے کو منتظر بیٹھے تھے اس فیصلہ کن معرکہ میں جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو گیا تو عرب قبائل جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اب تو یہ واضح بات ہے کہ جن مسلمانوں نے فتح مکہ سے قبل مالی قربانیاں پیش کی تھیں اس کی بنیاد صرف ان کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں پر غیر متزلزل ایمان ہی ہو سکتا ہے ورنہ حالات ان کے حق میں کچھ حوصلہ افزا نہ تھے۔ بلکہ بعض اوقات انتہائی حوصلہ شکن ہوتے تھے۔ ان کے مقابلہ میں جن لوگوں نے فتح مکہ کے بعد مالی قربانیاں دیں ان کے لیے حالات حوصلہ افزا اور امید افزا ہوتے تھے کیونکہ وہ ایک غالب گروہ کا ساتھ دے رہے تھے۔ پھر انہیں غنائم کی صورت میں خرچ کردہ مال سے بہت زیادہ مال واپس مل جانے کی توقع ہوتی تھی اور اکثر اوقات ان کی توقع پوری بھی ہو جاتی تھی۔ لہٰذا ان دونوں کا اجر یکساں نہیں ہو سکتا۔ تاہم فتح مکہ کے بعد خرچ کرنے والوں کو بھی اللہ اچھا ہی اجر عطا فرمائے گا۔ اور جس نیت سے کسی نے خرچ کیا ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ لہٰذا جس قدر خلوص نیت اور ایمان کی پختگی کے ساتھ کوئی شخص خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اسی نسبت سے اس کا اجر بڑھاتا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ٭٭
وہ اللہ جو اپنے بندے (‏‏‏‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کر دیئے، ہدایت کی وضاحت کر دی۔
ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ’ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا ‘۔
پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا ’ میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لیے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کر چکا ہے۔‘
فرماتا ہے «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» ۱؎ [34-سبأ:39]‏‏‏‏ ’ جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے۔ ‘
اور فرماتا ہے «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» ۱؎ [16-النحل:96]‏‏‏‏ ’ اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔‘ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔
پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لیے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں۔
بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ { سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما میں کچھ اختلاف ہو گیا جس میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو میرے لیے چھوڑ دو، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے۱؎ [مسند احمد:266/3:صحیح]‏‏‏‏
ظاہر ہے کہ یہ واقعہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہو جانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا، ہم مسلمان ہو گئے ہم «صابی» ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لیے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔
صحیح حدیث میں ہے { میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3673]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے۔‏‏‏‏ ہم نے کہا کیا قریشی؟ فرمایا: نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج ہم نے کہا: یا رسول اللہ! پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ» کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:674/11]‏‏‏‏ لیکن یہ روایت غریب ہے۔
بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ { تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1064]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے { عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر فرمایا: وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے۔ ہم نے پوچھا: کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے؟ فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں تو بند کر لیں اور چھنگلیا کو دراز کر کے فرمایا: خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ } پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔
پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہو، جیسے کہ سورۃ مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ «وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» ۱؎ [73-المزمل:20]‏‏‏‏ یعنی ’ کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔‘ پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ «لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:95]‏‏‏‏ ’ اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجوں میں بہت فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعده دیا ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔‘
جیسے اور جگہ ہے کہ ’ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔‘
صحیح حدیث میں ہے { قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2664]‏‏‏‏
اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گزرے اس لیے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔
پھر فرمایا ’ تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔‘
حدیث شریف میں ہے { ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ } ۱؎ [سنن نسائی:2528،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے بڑے حصہ دار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لئے کہ اس پر عمل کرنے والے تمام نبیوں کی امت کے سردار ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں۔‏‏‏‏ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ ۱؎ [بغوی فی التفسیر:229/4:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»