(آیت 91،90){ وَاَمَّاۤاِنْكَانَمِنْاَصْحٰبِالْيَمِيْنِ …:} مفسرین نے ان دونوں آیات کی ترکیب کئی طرح سے فرمائی ہے، ایک سادہ سی ترکیب یہ ہے کہ پوری عبارت اس طرح ہے: {”وَأَمَّاإِنْكَانَمِنْأَصْحَابِالْيَمِيْنِفَيُقَالُلَهُسَلاَمٌلَّكَلِكَوْنِكَمِنْأَصْحَابِالْيَمِيْنِ“} ”اور لیکن اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہوا تو اسے کہا جائے گا کہ تجھ پر سلام ہے، کیونکہ تو اصحاب الیمین سے ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اصحاب الیمین کو فوت کرتے وقت فرشتے سلام کہتے ہیں اور بشارت دیتے ہیں کہ اب تم ہر رنج و غم اور ہر خوف سے سلامت رہو گے، کیونکہ تم اصحاب الیمین میں سے ہو۔ یعنی فرشتے اسے اصحاب الیمین میں سے ہونے کی بشارت دے کر سلام کہیں گے۔ یہی بات تفصیل کے ساتھ سورۂ حم السجدہ کی آیت (۳۰ تا ۳۲) میں کہی گئی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
90-1یہ دوسری قسم ہے، عام مومنین۔ یہ بھی جہنم سے بچ کر جنت میں جائیں گے، تاہم درجات میں سابقین سے کمتر ہوں گے۔ موت کا فرشتے ان کو بھی سلامتی کی خوشخبری دیتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
90۔ اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہو گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔