ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 60

نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَیۡنَکُمُ الۡمَوۡتَ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
ہم نے ہی تمھارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔ En
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں
En
ہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60) ➊ {نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ:} یعنی تمھاری پیدائش کی طرح تمھاری موت بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے اور ہم ہی نے یہ طے کر دیا ہے کہ کس کی موت کس وقت ہو گی، ماں کے پیٹ میں مر جائے گا یا پیدا ہوتے ہی یا جوان ہو کر یا ادھیڑ عمر میں یا ارذل العمر کو پہنچ کر۔ اس سے پہلے نہ کوئی اسے مار سکتا ہے اور نہ اس کے بعد کوئی اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مومن (۶۷)، فاطر (۱۱)، منافقون (۱۱)، اعراف (۳۴)، نوح (۴) اورسورۂ آل عمران (۴۵)۔
➋ { بَيْنَكُمْ} کے لفظ میں ایک اور معنی بھی ہے کہ موت ایسی چیز ہے جو تمھارے درمیان رکھ دی گئی ہے، سب میں تقسیم ہو گی مگر ایک وقت میں نہیں، بلکہ باری باری ہر ایک پر آئے گی، جیسے کوئی مال لوگوں میں تقسیم ہونا ہو اور انھیں اس کے لیے بلایا جائے تو وہ سب اس کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ان کے نام کی آواز آئے اور انھیں ان کا حصہ ملے، مگر کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی باری کب آئے گی۔
➌ { وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ: سَابِقٌ } جو آگے نکل جائے، غالب آ جائے۔ {مَسْبُوْقٌ} جو پیچھے رہ جائے، مغلوب ہو جائے، عاجز رہ جائے۔ باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے اور ہم ہر گز عاجز نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60-1یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کردیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کرسکتا، چناچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے 60-2یا مغلوب اور عاجز نہیں ہیں، بلکہ قادر ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر [28] کر دیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں
[28] انسان جو نطفہ رحم مادر میں ٹپکاتا ہے۔ اس کا ایک ایک قطرہ لاکھوں خورد بینی جراثیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے صرف ایک جرثومہ نسوانی بیضہ سے مل کر حمل کے استقرار کا سبب بنتا ہے باقی سب متحرک جرثومے رحم مادر سے خارج ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔ استقرار حمل کے بعد بسا اوقات عورت کو خون جاری ہو جاتا ہے اور حمل ضائع ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ اسقاط ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ بچہ پیٹ میں ہی مر جاتا ہے اور کبھی پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے اور جو زندہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان کے سر پر بھی موت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے معلوم نہیں کہ کس وقت رگ جان کو کاٹ ڈالے۔ کوئی بچپن میں ہی مر جاتا ہے کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں، اور کوئی سالہا سال بڑھاپے میں بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتا ہے۔ گویا موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اور اس کا وقت بھی پہلے سے طے شدہ ہے۔ نہ اس لمحہ سے پہلے آسکتی ہے اور نہ اس کے وقت میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت نہ موت کو ٹال سکتی ہے نہ اس کا وقت بدل سکتی ہے۔ اب بتاؤ تمہاری زندگی اور تمہاری موت کے بارے میں اللہ کے سوا تمہارا اپنا یا کسی دوسرے کا کچھ اختیار ہے؟ پھر بھی تمہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اللہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اور کر سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔