(آیت 51تا56) {ثُمَّاِنَّكُمْاَيُّهَاالضَّآلُّوْنَالْمُكَذِّبُوْنَ…:”الْهِيْمِ“”أَهْيَمُ“} (مذکر) اور {”هَيْمَاءُ“} (مؤنث) کی جمع ہے، بروزن {”فُعْلٌ“} ” ہاء“ پر اصل میں ضمہ تھا، ”یاء“ کی مناسبت سے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا، جیسے {”أَبْيَضُ“} اور {”بَيْضَاءُ“} کی جمع {”بِيْضٌ“} ہے۔ وہ اونٹ جنھیں ہیام (بروزن زکام) کا مرض لاحق ہو، یعنی ایسی پیاس جس سے اونٹ پانی پیتے جاتے ہیں مگر وہ بجھتی ہی نہیں، حتیٰ کہ وہ مر جاتے ہیں یا قریب الموت ہو جاتے ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۲ تا ۶۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو!
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔