(آیت 45){ اِنَّهُمْكَانُوْاقَبْلَذٰلِكَمُتْرَفِيْنَ:} یعنی ان کا یہ انجام بد اس لیے ہوا کہ اس سے پہلے دنیا میں انھیں ہر طرح کی خوش حالی عطا کی گئی تھی، مگر اس خوش حالی نے ان پر الٹا اثر کیا اور وہ شکر گزار ہونے کے بجائے نافرمانی پر تل گئے اور حلال و حرام کی پروا کیے بغیر اپنے نفس کی لذتوں میں منہمک ہو گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ بلا شبہ اس (انجام) سے پہلے یہ عیش کیا کرتے تھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔