اس آیت کی تفسیر آیت 39 میں تا آیت 41 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40-1یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے یا آپ کی امت کے پچھلوں میں سے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ اور پچھلوں میں [22] سے بھی بہت سے
[22] یعنی مقربین تو اولین میں زیادہ ہوں گے اور آخرین میں کم جبکہ اصحاب الیمین اولین میں سے بھی بہت ہوں گے اور آخرین میں سے بھی۔ چنانچہ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم لوگ سارے اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو گے (اور تین چوتھائی میں باقی سب امتوں کے لوگ شامل ہوں گے) یہ سن کر ہم نے اللہ اکبر کہا (اللہ کا شکریہ ادا کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم تہائی حصہ ہو گے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ پھر آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ تم آدھا حصہ ہو گے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ [بخاري، كتاب التفسير۔ تفسير سورة حج۔ وتري الناس سكٰرٰي]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔