ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 33

لَّا مَقۡطُوۡعَۃٍ وَّ لَا مَمۡنُوۡعَۃٍ ﴿ۙ۳۳﴾
جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔ En
جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے
En
جو نہ ختم ہوں نہ روک لیے جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) ➊ { لَا مَقْطُوْعَةٍ:} دنیا میں ہر پھل کا ایک موسم ہے، اس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح اس کا ایک علاقہ ہے دوسرے علاقے میں نہیں ملتا۔ جنت کے پھل ایسے نہیں کہ کسی موسم یا کسی جگہ میں نہ ملیں، بلکہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت تیار ملیں گے۔
➋ { وَ لَا مَمْنُوْعَةٍ:} دنیا میں پھلوں کے حصول میں کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں، مثلاً یہ کہ وہ کسی اور کی ملکیت ہیں، خریدنے کے لیے قیمت موجود نہیں، اپنے بھی ہیں تو ابھی تیار نہیں یا درختوں سے اتارنا مشکل ہے۔ جنت کے پھلوں کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں، ان کی ملکیت وراثتی ملکیت ہے اور دائمی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ (10) الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [المؤمنون: ۱۰،۱۱] یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور اس کے پھل ہر وقت تیار ہیں اور ہر طرح کھانے والوں کی دسترس میں ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33-1یعنی یہ پھل موسمی نہیں ہونگے کہ موسم گزر گیا تو پھل بھی آئندہ فصل تک ناپید ہوجائیں، یہ پھل اس طرح فصل گل و لالہ کے پابند نہیں ہونگے، بلکہ بہار و خزاں اور گرمی و سردی ہر موسم میں دستیاب ہوں گے۔ اس طرح ان کے حصول کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ روکے [18] جائیں گے
[18] یعنی نہ تو جنت کے پھلوں کی سپلائی کسی وقت بند ہو گی جس طرح دنیا میں پھل اپنے موسم میں ہی مل سکتے ہیں۔ آگے پیچھے نہیں ملتے۔ اور نہ ہی ان کو حاصل کرنے، توڑنے یا کھانے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش آئے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔