ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 31

وَّ مَآءٍ مَّسۡکُوۡبٍ ﴿ۙ۳۱﴾
اور ایسے پانی میں جو گرایا جا رہا ہے۔ En
اور پانی کے جھرنوں
En
اور بہتے ہوئے پانیوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31){ وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ:سَكَبَ يَسْكُبُ سَكْبًا وَ تَسْكَابًا} (ن) {الْمَاءَ} پانی گرانا۔ {اَلسَّكْبُ} لگاتار بارش۔ { مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ } سے مراد آبشاروں سے گرنے والا اور مسلسل بہنے والا پانی ہے۔ { تَسْنِيْمٍ } میں بھی یہی مفہوم پایا جاتا ہے۔ (دیکھیے مطففین: ۲۷) واضح رہے کہ جنت کی بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جو سابقون اور اصحاب الیمین دونوں کے لیے مشترک ہیں، البتہ ان کی کیفیت میں فرق ہو سکتا ہے۔ اگلی آیت میں { فَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ } کا بھی یہی معاملہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ پانی کی آبشاروں [17]
[17] ﴿مسكوب﴾ ﴿سكب﴾ کے معنی (پانی وغیرہ کا) گرنا اور بہانا ہے۔ ﴿السكب﴾ لگاتار بارش کو یا موٹے موٹے قطروں والی بارش کو کہتے ہیں جس کا پانی بہہ نکلے اور الا سکوب بمعنی لگاتار جھڑی۔ گویا ﴿سكب﴾ میں پانی وغیرہ کے گرنے یا بہنے کے ساتھ تسلسل اور دوام کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور ﴿مَاءٍ مَّسْكُوْبٍ کا معنی مسلسل گرنے والی آبشار اور اس کا بہتا ہوا پانی ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔