(آیت 66){ فِيْهِمَاعَيْنٰنِنَضَّاخَتٰنِ:”نَضَخَيَنْضَخُنَضْخًا“} (ف) {”اَلْمَاءُ“} پانی کا جوش سے نکلنا۔ یعنی ان دونوں جنتوں میں دو جوش مارنے والے چشمے ہوں گے۔ {”عَيْنٰنِتَجْرِيٰنِ“} اور {”عَيْنٰنِنَضَّاخَتٰنِ“} کے تقابل کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۵۰) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
66۔ 1 یہ صفت تَجْرِیَانِ سے ہلکی ہے اَلْجَرْیءِاَقْوَیٰمِنَالنَّفْخِ (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ ان دونوں میں دو چشمے ہوں گے (فوارہ کی طرح) ابلتے [41] ہوئے
[41]﴿نَضَخَ﴾ کا معنی پانی کا چشمہ سے زور سے پھوٹنا۔ مگر ﴿نَضَخٌ﴾ میں جوش مارنے کی وجہ کثرت آب اور دباؤ ہوتی ہے نہ کہ حرارت اور نضاخ موسلادھار بارش کو بھی کہتے ہیں۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ چشموں کے سوراخ تنگ اور پانی کی کثرت روانی کی تیزی کی وجہ سے وہ چشمے جوش مار رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔