(آیت 64){ مُدْهَآمَّتٰنِ: ”اِدْهَمَّيَدْهَمُّاِدْهِمَامًا“} (افعلال) سیاہ ہونا اور {”اِدْهَامَّيَدْهَامُّاِدْهِيْمَامًا“} (افعیلال) بہت سیاہ ہونا۔ یعنی وہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے جیسے بہت سیاہ ہوں۔ پہلے دو باغوں میں شاخوں اور پتوں کی کثرت کا ذکر ہے جن کے ضمن میں ان کا گہرا سبز ہونا خود بخود آ جاتا ہے اور یہاں صرف ان کے گہرے سبز رنگ کا ذکر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
64۔ 1 کثر سیرابی اور سبزے کی فروانی کی وجہ سے وہ مائل بہ سیاہی ہوں گے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ یہ دونوں گہرے سبز [40] ہوں گے
[40]﴿مُدْهَامَّتٰنِ﴾﴿دَهَمٌ﴾ بمعنی کسی چیز کا تاریکی میں ڈھک جانا۔ کہتے ہیں ﴿دَهَمَتِالنَّارُالْقَدَرَ﴾ یعنی آگ نے ہنڈیا کو سیاہ کر دیا۔ اس آیت میں مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں باغوں کے درختوں کے پتے اتنے گہرے سبز ہوں گے جیسے سیاہ ہو رہے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔