(آیت 62) {وَمِنْدُوْنِهِمَاجَنَّتٰنِ:} جیسا کہ {”وَلِمَنْخَافَمَقَامَرَبِّهٖجَنَّتٰنِ“} کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ پہلی دو جنتیں جن کا ذکر اوپر گزرا، اللہ سے ہمیشہ ڈرنے والے مقربین کے لیے ہیں اور یہاں سے عام اہلِ ایمان یعنی اصحاب الیمین کو ملنے والی جنتوں کا ذکر ہوتا ہے، جو کئی باتوں میں پہلی دونوں جنتوں کے ساتھ مشترک اور کئی باتوں میں ان سے کم تر ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
62۔ 1 دُوْنِھِمَا سے یہ ثابت بھی کیا گیا ہے کہ یہ دو باغ شان اور فضیلت میں پچھلے دو باغوں سے، جن کا ذکر آیت 26 میں گزرا، کم تر ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
62۔ اور ان دو باغوں کے علاوہ دو باغ [39] اور بھی ہوں گے
[39] اس کی بھی دو صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اہل جنت بھی دو طرح کے ہوں گے۔ ایک السابقون یا مقربین، دوسرے اصحاب الیمین یعنی عام اہل جنت جیسا کہ سورۃ واقعہ میں یہ تفصیل موجود ہے۔ مقربین کو جو دو باغ ملیں گے وہ ان باغوں سے اعلیٰ قسم کے ہوں گے جو عام اہل جنت کو ملیں گے اور دوسری صورت یہ کہ ہر جنتی کو دو باغ تو اعلیٰ قسم کے ملیں گے اور دو اس سے کم درجہ کے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «وَمِنْدُوْنِهِمَاجَنَّتٰنِ»[55-الرحمن:62] فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «ذَوَاتَآاَفْنَانٍ» [55-الرحمن:48] کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «مُدْهَامَّتٰنِ»[55-الرحمن:64] یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔