(آیت 6){ وَالنَّجْمُوَالشَّجَرُيَسْجُدٰنِ:”النَّجْمُ“} کا معنی ستارا بھی ہے اور وہ پودے بھی جو تنے کے بغیر ہوتے ہیں، جیسے گندم، جو، چنے، جڑی بوٹیاں، بیلیں، سبزیاں وغیرہ۔ یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ یہ {”الشَّجَرُ“} کے مقابلے میں آیا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہی معنی نقل فرمایا اور اسے ترجیح دی ہے۔ ان کے سجدہ کرنے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۱۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَمْتَرَاَنَّاللّٰهَيَسْجُدُلَهٗمَنْفِيالسَّمٰوٰتِوَمَنْفِيالْاَرْضِوَالشَّمْسُوَالْقَمَرُوَالنُّجُوْمُوَالْجِبَالُوَالشَّجَرُوَالدَّوَاۗبُّ) 22۔ الحج:18)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اور جڑی [5] بوٹیاں اور درخت اسے سجدہ کر رہے ہیں
[5]﴿نجم﴾ کے معنی ستارا بھی ہے اور بے تنا درخت بھی جس میں جھاڑ جھنکار، جڑی بوٹیاں، بیلیں اور بے تنہ پودے سب شامل ہیں اور یہاں یہ دوسرا معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور سجدہ ریز ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو طبعی قوانین ان کے لیے مقرر کر دیئے ہیں ان سے سرتابی نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ فی الواقع اللہ کو سجدہ کر رہے ہوں۔ لیکن انسان اس کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہو۔ نیز انسان ان سے جو بھی فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔