ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 52

فِیۡہِمَا مِنۡ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوۡجٰنِ ﴿ۚ۵۲﴾
ان دونوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ہیں۔ En
ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں
En
ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میوؤں کی دو قسمیں ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) {فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ:} ہر پھل کی دو قسموں سے مراد یا تو ایک وہ ہے جو دنیا میں تھی اور دوسری وہ جو نہ کسی نے سنی، نہ دیکھی اور نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی پھل میں متعدد ذائقے ہوں گے، جیسا کہ دنیا میں آم ہی کو لے لیجیے، ہر آم کا ذائقہ جدا ہے۔ دنیا کے پھلوں کی جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ { زَوْجٰنِ } تثنیہ کا لفظ جمع اور کثرت کے معنی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ کلامِ عرب میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ {التحرير والتنوير} میں اس کے کئی شواہد ذکر کیے گئے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 یعنی ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ہر پھل دو قسم کا ہوگا، مذید فضل خاص کی ایک صورت ہے، بعض نے کہا کہ ایک قسم خشک میوے اور دوسری تازہ میوے کی ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ ان دونوں میں ہر پھل کی دو قسمیں [34] ہوں گی۔
[34] اس کے کئی مطلب لیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ ایک باغ کے پھلوں کا رنگ، ذائقہ اور خوشبو دوسرے باغ کے پھلوں سے بالکل جداگانہ ہو گی اور دوسرا یہ کہ شکل و صورت اور رنگ و بو ایک جیسا ہونے کے باوجود ان کے ذائقے الگ الگ ہوں گے اور تیسرا یہ کہ ایک باغ کے پھلوں سے تو اہل جنت متعارف ہوں گے اور دوسرے باغ کے پھل ان کے وہم و گمان میں بھی نہ آئے ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔