ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 46

وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔ En
اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں
En
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) ➊ { وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ: مَقَامَ قَامَ يَقُوْمُ قِيَامًا} (ن) سے ظرف بھی ہو سکتا ہے کھڑا ہونے کی جگہ یا وقت اور مصدر میمی بھی ہو سکتا ہے کھڑا ہونا۔ جہنم اور اہلِ جہنم کے تذکرے کے بعد اہلِ جنت کا ذکر فرمایا۔ { مَقَامَ رَبِّهٖ } کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں قرآن مجید کی آیات میں ملتے ہیں، ایک یہ کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس صورت میں { مَقَامَ رَبِّهٖ } سے مراد بندے کا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [المطففین: ۶] جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ جو شخص اپنے رب کے (اپنے اوپر ہر وقت) قائم (نگران) ہونے سے ڈر گیا۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ» ‏‏‏‏ [الرعد: ۳۳] تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کا نگران ہے جو اس نے کمایا(کوئی دوسرا اس کے برابر ہو سکتا ہے)؟ آیت سے دونوں معنی بیک وقت مراد ہو سکتے ہیں اور یہ بھی قرآن مجید کا ایک کمال ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ متعدد معانی کا حامل ہے۔ یعنی جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ اس نے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس بات سے بھی ڈرتا رہا کہ اس کا رب اس کی ہرچھوٹی بڑی حرکت کو دیکھ رہا ہے، تو اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ جنت کی وراثت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، کیونکہ یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو موقع میسر ہونے پر انسان کو کوئی بھی چیز کسی بھی جرم کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی اور جب یہ موجود ہو تو آدمی کے قدم مشکل سے مشکل مقام پر نہیں ڈگمگاتے۔ صحیح بخاری(۶۶۰) میں قیامت کے دن جن سات آدمیوں کو عرش کا سایہ ملنے کی بشارت دی گئی ہے ان سب کے اعمال میں اصل اللہ تعالیٰ کا ڈر ہی ہے اور اس کفن چور کی مغفرت کا باعث بھی اللہ کا ڈر تھا جس نے وصیت کی تھی کہ مجھے جلا کر میری کچھ راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے اور کچھ کو پانی میں بہا دیا جائے۔(دیکھیے بخاری: ۳۴۵۲) { مَقَامَ رَبِّهٖ } کے لفظ میں خوف کے ساتھ محبت کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ وہ کسی اجنبی یا ظالم سے نہیں ڈر رہا، بلکہ اپنے مالک سے ڈر رہا ہے جس نے اسے پیدا کیا، پھر ہر لمحے اس کی پرورش کر رہا ہے اور اس کی ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔
➋ { جَنَّتٰنِ: جَنَّةٌ} کا اصل معنی باغ ہے۔ قرآن مجید میں کہیں یہ لفظ مفرد آیا ہے اور تمام اہلِ ایمان کے ایک ہی جنت میں داخلے کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ» ‏‏‏‏ [المؤمن: ۴۰] اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔ اور کہیں جمع آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۵] اور ان لوگوں کو خوش خبری دے دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس بڑے باغ میں بے شمار باغات ہیں، جن میں سے ہر مومن کو دو دو باغ عطا کیے جائیں گے، جن کا وہ مالک ہو گا (لام تملیک کے لیے ہے) اور جن میں وہ سب کچھ ہو گا جس کا آگے ذکر ہو رہا ہے۔
➌ ان آیات میں ہر اس شخص کو دو دو باغ ملنے کا ذکر ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا۔ چند آیات کے بعد اور دو باغوں کا ذکر ہے، فرمایا: «وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ جس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان دونوں کے علاوہ بھی دو باغ ہیں اور یہ بھی کہ ان دونوں سے کم درجے والے بھی دو باغ ہیں۔ دونوں آیات کو ملائیں تو مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے علاوہ دو اور باغ ہیں جو پہلے باغوں سے کم درجے کے ہیں۔ تحقیق یہی ہے کہ پہلے دو باغ اعلیٰ ہیں جو مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ ان سے کم درجے والے ہیں جو اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ سورۂ واقعہ میں بھی سابقین کو مقربین قرار دے کر انھیں ملنے والی نعمتوں کا پہلے الگ ذکر فرمایا ہے، اس کے بعد اصحاب الیمین کا ذکر کر کے انھیں ملنے والی نعمتوں کا الگ ذکر فرمایا، یہاں بھی ایسے ہی ہے، تقریباً ہر نعمت میں دونوں کا فرق نمایاں ہے، تفسیر میں اس فرق کی طرف اشارہ آ رہا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں یہ حدیث ذکر فرمائی ہے کہ عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيْهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيْهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَ بَيْنَ أَنْ يَّنْظُرُوْا إِلٰی رَبِّهِمْ إِلاَّ رِدَاءَ الْكِبْرِ عَلٰی وَجْهِهِ فِيْ جَنَّةِ عَدْنٍ] [بخاری التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏ومن دونھما جنتان» ‏‏‏‏: ۴۸۷۸] دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چاندی کا ہے اور دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کا ہے۔ اور جنت عدن میں جنتیوں کے درمیان اور ان کے اپنے رب کو دیکھنے کے درمیان کبریائی کی چادر کے سوا کوئی رکاوٹ نہیں جو اس کے چہرے پر ہے۔ صحیح بخاری میں اس کی سند اس طرح ہے: {حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيْزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوْ عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِيْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ…۔} فتح الباری (۸؍۶۲۴) میں ہے کہ اسی حدیث کو ابن مردویہ نے (عبد العزیز کے بجائے) {حَمَّادٌ عَنْ أَبِيْ عِمْرَانَ} بیان کیا ہے، اس میں یہ لفظ ہیں: [مِنْ ذَهَبٍ لِلسَّابِقِيْنَ وَ مِنْ فِضَّةٍ لِلتَّابِعِيْنَ] یعنی سابقین کے لیے سونے والے اور تابعین کے لیے چاندی والے باغ ہوں گے۔ اور ابوبکر سے ثابت کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: [مِنْ ذَهَبٍ لِلْمُقَرَّبِيْنَ وَ مِنْ فِضَّةٍ لِأَصْحَابِ الْيَمِيْنِ] یعنی سونے والے باغ مقربین کے لیے اور چاندی والے اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ اس حدیث کے طرق سے واضح ہے کہ پہلے دو باغ مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 جیسے حدیث میں آتا ہے ' دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب چاندی کے ہونگے۔ دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہی ہونگے ' (صحیح بخاری تفسیر رحمن) بعض آثار میں ہے کہ سونے کے باغ خواص مومنین مقربین اور چاندی کے باغ عام مومنین اصحاب الیمین کے لیے ہوں گے۔ (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا۔ اس کے لئے دو باغ [31] ہوں گے
[31] اس سورۃ کی اکثر آیات میں دو دو چیزوں کا ذکر آرہا ہے لہٰذا یہاں بھی دو باغات کا ذکر فرمایا: حالانکہ ہر جنتی کو کئی باغات ملیں گے۔ جیسا کہ بعض دوسری آیات سے واضح ہے۔ پھر تمام اہل جنت کے سارے باغوں کے مجموعہ کا نام بھی الجنۃ ہے۔ یعنی باغات کا مخصوص مقام۔ بہشت۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فکر آخرت اور انسان ٭٭
ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46]‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6]‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40]‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔
صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878]‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔
تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46]‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62]‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح]‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔
یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟
پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔
«افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،
عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔
اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف]‏‏‏‏
پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔