(آیت 44) {يَطُوْفُوْنَبَيْنَهَاوَبَيْنَحَمِيْمٍاٰنٍ: ”اٰنٍ“”أَنٰييَأْنِيْإِنًي“} (ض) سے اسم فاعل ہے، جیسا کہ {”قَاضٍ“} ہے، انتہائی گرم، کھولنے والا۔ سورۂ غاشیہ میں ہے: «تُسْقٰىمِنْعَيْنٍاٰنِيَةٍ» [الغاشیۃ:۵]”وہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔“ {”إِنًي“} کھانے کا پک کر تیار ہونا، جیسے فرمایا: «غَيْرَنٰظِرِيْنَاِنٰىهُ»[الأحزاب: ۵۳]”اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہوں۔“ {”يَطُوْفُوْنَ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۶ تا ۶۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 یعنی کبھی انہیں دکھتی ہوئی آگ کا عذاب دیا جائے گا اور کبھی کھولتے ہوئے گرم پانی، جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ اس جہنم [30] اور کھولتے ہوئی پانی کے درمیان وہ چکر لگائیں گے
[30] شدت حرارت کی وجہ سے اہل دوزخ کو بار بار پیاس لگے گی اور وہ گرم پانی کے چشموں کی طرف دوڑیں گے جو گرمی کی وجہ سے کھول رہے ہیں۔ انہیں کھولتا پانی پلا کر واپس لایا جائے گا۔ تو پھر جلدی ہی انہیں پیاس پھر ستانے لگے گی۔ پھر وہ انہیں چشموں کی طرف دوڑیں گے اور یہ عمل لگا تار جاری رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔