ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 41

یُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمۡ فَیُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِیۡ وَ الۡاَقۡدَامِ ﴿ۚ۴۱﴾
مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے، پھر پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔ En
گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے
En
گناه گار صرف حلیہ ہی سے پہچان لیے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لیے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ {يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ …:اَلنَّوَاصِيْ نَاصِيَةٌ } کی جمع ہے، پیشانی کے بال۔ (دیکھیے ہود: ۵۶) یعنی ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۰۶] جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔ آنکھیں نیلی ہوں گی، جیسا کہ فرمایا: «وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا» [طٰہٰ: ۱۰۲] اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے۔ اور اعمال نامے پیٹھ کے پیچھے بائیں ہاتھ میں پکڑ رکھے ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ انشقاق (۱۰) اور سورۂ حاقہ (۲۵)۔
➋ { فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَ الْاَقْدَامِ:} یعنی ہر مجرم کو پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 یعنی جس طرح اہل ایمان کی علامت ہوگی کہ ان کے اعضائے وضو چمکتے ہونگے، اسی طرح گنہگاروں کے چہرے سیاہ، آنکھیں نیلگوں اور وہ دہشت زدہ ہونگے۔ 41۔ 2 فرشتے ان کی پیشانیاں اور ان کے قدموں کے ساتھ ملا کر پکڑیں گے اور جہنم میں ڈال دیں گے، یا کبھی پیشانیوں سے اور کبھی قدموں سے انہیں پکڑیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ مجرم اپنے چہرے کے نشانوں [29] سے پہچان لئے جائیں گے تو ان کی پیشانی کے بالوں اور قدموں کو پکڑ لیا جائے
[29] ان کی خوف زدہ آنکھیں، گبھرائے ہوئے اور اترے ہوئے چہرے، دبی ہوئی آوازیں اور انہیں چھوٹتے ہوئے پسینے اس بات کی پہچان کے لیے کافی ہوں گے کہ یہ مجرم ہیں خواہ وہ جن ہوں یا انسان۔ ہر شخص ان کے چہرے پر مایوسی کے آثار اور چھائی ہوئی مردنی سے انہیں شناخت کر لے گا فرشتے ان کی پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر انہیں گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جا پھینکیں گے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے ان کی پیشانی اور قدموں کو اس طرح چلا دیں گے کہ ان کی ہڈی پسلی چور چور ہو جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔