ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 39

فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾
پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھا جائے گا اور نہ کسی جنّ سے۔ En
اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے
En
اس دن کسی انسان اورکسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39) {فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ:} یعنی اس دن یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کون مجرم ہے اور اس نے کیا گناہ کیا ہے، کسی انسان یا جن سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی، کیونکہ تمام مجرم اپنی علامت ہی سے پہچانے جائیں گے، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے: «‏‏‏‏يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ» ‏‏‏‏ مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے۔ اور جیساکہ سورئہ قصص میں فرمایا: «وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [القصص:۷۸] اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔ ہاں ڈانٹنے، ذلیل کرنے اور ملامت کرنے کے لیے ضرور پوچھا جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ (92) عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [الحجر: ۹۲،۹۳] سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ» [الصافات:۲۴] اور انھیں ٹھہراؤ، بے شک یہ سوال کیے جانے والے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 یعنی جس وقت وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ ورنہ بعد میں موقف حساب میں ان سے باز پرس کی جائے گی، بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ گناہوں کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، کیونکہ انکا تو پورا ریکارڈ فرشتوں کے پاس بھی ہوگا اور اللہ کے علم میں بھی۔ البتہ پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیے؟، یا یہ مطلب ہے، ان سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ انسانی اعضا خود بول کر بتلائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت [28] نہ پوچھا جائے گا (کہ آیا اس نے یہ گناہ کیا تھا یا نہیں؟)
[28] قیامت کے دن مختلف مواقع پر مجرموں سے مختلف قسم کا سلوک ہو گا۔ ایک موقع پر ان سے ٹھیک طرح باز پرس ہو گی جیسے فرمایا: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ [92:15] اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب مجرم اپنے گناہوں سے مکر جائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ مجرموں سے نہیں پوچھے گا۔ بلکہ ان کی زبانوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں اور جلدوں کو بولنے کا حکم دے گا۔ وہ ان اثرات کو بیان کریں گے جو اس جرم کے دوران ان پر مرتب ہوئے تھے۔ اس طرح ان کے خلاف شہادت قائم ہو جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔